جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا
یہ اصول صرف کھیل کی دنیا تک محدود نہیں زندگی کے ہر شعبے میں نافذ العمل ہے۔سیاست میں بھی جو پارٹی لیڈر اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلتا ہے،اپنے ساتھیوں کی صلاحیت کے مطابق ان سے کام لیتا ہے، سونپی گئی ذمہ داری پوری کرنے میں ان کی مناسب رہنمائی کرتا ہے،کارکردگی دکھانے کا موقع دیتا ہے،اور سب کی مجموعی کارکردگی سے عوام کے معاشی حالات میں تبدیلی آتی ہے،عوام سے رابطہ قائم رہتا ہے، عوام کی اکثریت اس کارکردگی سے مطمئن ہو وہی لیڈر امید کی کرن بنتا ہے، اسی پارٹی کے نعرے گونجتے ہیں۔اس اصول کو نظر انداز کر دیا جائے، میرٹ کی بجائے خاندانی رشتوں کو پروموٹ کیا جائے،دوستیاں نبھائی جائیں،عوامی مفاد آنکھوں سے اوجھل ہوجائے یا ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم سے لوگوں کو یہ تأثر ملے کہ ناانصافی ہو رہی ہے، قول و فعل میں یکسانیت نہیں رہی تو لیڈر کے شخصی اوصاف بھی اپنی کشش اور جاذبیت کھو بیٹھتے ہیں۔ خاندانی تعلق کی چمک دمک مدھم پڑ جاتی ہے،فائدہ اٹھانے والے قریب اور نظر انداز ہونے والے دور ہو جاتے ہیں۔ ان کالہجہ تلخ ہو جاتا ہے،ان کی نظروں کے زاویئے بدل جاتے ہیں۔بلوچستان میں حالیہ دنوں جو کچھ ہورہا ہے اسے اسی تناظرمیں دیکھا جانا چاہیئے۔بھارتی اور نیوزی لینڈ کے کپتانوں نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم نے اچھا پر فارم نہیں کیا، جیتنے والی ٹیم کی پرفارمنس بہتر تھی۔اس لئے وہ جیتی اور ہم ہار گئے۔اب ایمپائر کے فیصلے ریویو ہوتے ہیں،کیمرے کی آنکھ سے مدد لی جاتی ہے، درست فیصلہ برقرار رہتا ہے جبکہ غلط فیصلے مسترد ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کے میدان میں ابھی کیمرے نصب نہیں ہوئے لیکن آنکھوں کی دیکھنے کی صلاحیت میں کچھ تبدیلی آگئی ہے۔بی اے پی نے نون لیگ کی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کیا، منانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، وزیر اعلیٰ مستعفی ہوگئے۔اس مرتبہ بی اے پی کے بعض اراکین اپنی قیادت سے ناراض ہوئے، منانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، وزیر اعلیٰ مستعفی ہو گئے۔لیکن اس مرتبہ عدم اعتماد کی تحریک پارٹی اراکین کی جانب سے سامنے آئی تھی اس لئے بلوچستان عوامی پارٹی کے دوسرے لیڈر کو وزارت اعلیٰ کا منصب مل گیاہے۔رسمی کارروائی اور ضابطے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔دو چار روز میں مکمل کر لئے جائیں گے۔سیاسی زندگی معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھے گی۔دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اکھاڑ پچھاڑ ہورہی ہے۔ہمارے اڑوس پڑوس میں ایک ہلچل نظر آرہی ہے۔چین نے اپنی سرحدی افواج کے لئے نئی قانون سازی کی ہے جو آئندہ سال کے اوائل میں مستعمل ہوگی۔چین کی سرحد متعدد ملکوں سے ملتی ہے،سب کو پیشگی پیغام دے دیا گیا ہے۔جس ملک میں اس قانون سازی کا دفاع کرنے کی صلاحیت ہوگی وہ اپنی عسکری استعداد میں اضافہ کر لے گا، دیگر آسمان کی طرف سر اٹھائے دعائیں مانگ رہے ہوں گے۔لیکن تاریخ شاہد ہے آسمان نے کبھی چنگیز خان، ہلاکو خان جیسے جنگجوؤں کے ہاتھ نہیں روکے۔طاقتور جنگجوؤں کا مقابلہ کمزوروں سے تھا،طاقت ور نے کمزوروں کے سرکاٹے، سروں کے مینار بنائے، تاکہ دوسرے خوفزدہ ہوں،اور مقابلے کی بجائے سر جھکا کر اطاعت قبول کر لیں۔کمزور ہمیشہ یاد رکھے قدرت کی جانب سے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ہے۔امریکہ 20برس پہلے افغان عوام کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کا نعرہ لگاتا ہوا افغانستان پر نیٹو افواج کے ساتھ حملہ آور ہوا،مگر افغان عوام نے اپنے عزم اور ارادے کی قوت سے کام لیا، چنگیزی جاہ و جلال سے خوفزدہ ہوکر اطاعت نہیں کی۔ جو ڈر گئے امریکی ڈالروں کے ساتھ کابل کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہتے ہوئے نامعلوم منزل کو سدھار گئے۔ اس منظر کو توجہ سے دیکھا جائے، حال میں رونماہوا ہے،اس کے خد خال کا جائزہ لیا جائے۔ ایک سبق ملتا ہے:”طاقتور کے سینے میں دل تو ہوتا ہے لیکن اس کے دل میں رحم کا ہلکا سا بھی شائبہ موجود نہیں ہوتا۔کمزور جب چنگیز خان سے رحم کی درخواست کرتے تو انہیں جواب ملتا:”خدا نے ہمیں قہر بنا کر بھیجاہے“۔ قدرت کا قانون نہیں بدلا، آج بھی دنیا کے ہر حصے میں جاری ہے۔طاقتور سے رحم کی امید نہ کی جائے۔اپنا سر کٹنے سے محفوظ رکھنے کی پلاننگ کی جائے۔یاد رہے وہ سر کٹنے سے محفوظ نہیں ہو سکتا جس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت والا ذہن موجود نہ ہو۔طاقتور تلوار کے زور سے اپنی حکمرانی قائم کرتا ہے اور پھر اس حکمرانی کو دوام بخشنے کے لئے محکوم اقوام کو افیم کا عادی بنا کر ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افیم کی شکلیں تبدیل ہوجاتی ہیں،پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران افیم سے کام چلایا جاتا تھا، اب ہیروئن اور شیشہ جیسے نشے کالجوں اور یونیورسٹوں میں طلباء کواستعمال کرائے جاتے ہیں۔ منشیات کچی آبادیوں سے نکل کر پوش علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اس کے پیچھے سب سے بڑا مقصد ایک ہی ہے کہ لوگوں کے ذہن سوچنے سمجھنے سے عاری ہو جائیں، اپنے مستقبل کی فکر نہ کریں صرف آج کے نشے کو ہی سب کچھ جانیں تاکہ استحصالی طبقہ لوٹ کھسوٹ کرتا رہے۔سیاست عوامی مفاد میں نہ رہے اس کا رخ اپنی اور اپنے خاندان کو آسائش پہنچانے تک سکڑ جائے تو معجزات رونما نہیں ہوا کرتے، سانحات پیش آتے ہیں۔دنیا پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں وہی اقوام راج کرتی دکھائی دیں گی جو غوروفکر کرتی ہیں۔فرد اور ریاست کے تعلق کو مضبوط بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔انتخابات کے نتائج سنتے ہی انتخابی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیتی ہیں۔پاکستان اور بلوچستان کی سیاست کو یہی راستہ اپنانا چاہیے۔فرد اور ریاست میں قربت نہیں نظر آتی۔ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہونی چاہیے کہ فرد اور یا ست کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو ختم کرے۔ ریاست فرد کا خیال رکھے تو فرد کی جانب سے بھی مثبت رد عمل ملے گا۔فرد کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو مسائل کے گرداب میں گھرا فردمعاشرے اور ریاست سے لاتعلقی اختیار کرلیتا ہے یا ریاست کو دشمن سمجھنے لگتا ہے۔دونوں رویئے درست نہیں۔دونوں رویئے خوشحال معاشرے کی تعمیر و تشکیل کاراستہ روکتے ہیں۔صوبائی اور وفاقی حکومت فرد اور ریاست کے تعلق کو بہتر بنانے کی حکمت عملی وضع کریں۔اپنے عمل سے ثابت کیا جائے کہ ہر سطح پر فرد کے مفاد کو اہمیت دی جاتی ہے۔سیاسی ورکر اور لیڈر دونوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔ایک جیسی عزت ملنی چاہیئے۔سیاسی ورکر کو عزت نہ دی جائے اور ذاتی ملازمین جیساسلوک کیا جائے تو پارٹی وجود میں نہیں آتی۔مفاد پرستوں کا ہجوم اکٹھا کرنے سے نہ سیاست کو فائدہ پہنچتا اور نہ ہی فرد مطمئن ہوتا ہے۔یاد رہے جو ٹیم اچھاکھیلے گی وہی جیتے گی۔


