راشن کے حصول کے لیے مظاہرین کا کئی گھنٹے دھرنا ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے ردعمل میں لیویز پر پتھراؤ

ماشکیل:واشک میں لاک ڈاون سے متاثرین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے امدادی راشن کے حصول کے لیے آج تیسرے روز شدید گرمی میں لیویز تھانہ واشک کے سامنے گھنٹوں دھرنا دی اور امدادی راشن کا مطالبہ کرتے رہے جس پر لیویز نے کم دست و غریب متاثرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی جسکے رد عمل میں متاثرین نے لیویز تھانہ مین گیٹ پر پھتراو کی متاثرین کے احتجاج میں شامل بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری علی حسن بلوچ اور خیر جان کو لیویز نے گرفتار کر لیا متاثرین نے کہا کہ ایک طرف سے لاک ڈاون نے روزگار چھین لی جبکہ دوسری جانب متاثرین کے نام امدادی راشن سیاسی لوگوں میں رات کے اندھیرے میں تقسیم ہوتی ہے اور متاثرین کے بجائے امیر کے باورچی خانے بھر رہے ہیں متاثرین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ جانب دار بن چکی ہے انھیں غریبوں کے بدحالی کا ادارک نہیں وزیر اعلی بلوچستان و چیف سیکرٹری بلوچستان کمشنر رخشان ڈویڑن واشک میں امدادی سامان کی غیر منصفانہ تقسیم کا نوٹس لے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ مرکزی کمیٹی کے رکن میر غلام نبی مری بی این پی ڈسٹرکٹ کوئٹہ کے سابق صدر میر غلام رسول مینگل بی این پی ڈسٹرکٹ کوئٹہ کے سابق ماہی گیر سیکرٹری ملک ابراہیم شاہوانی بی این پی ڈسٹرکٹ چاغی کے سابق جنرل سیکرٹری محمد بخش بلوچ بی این پی کوئٹہ کے سینئر رہنما فیض اللہ بلوچ جان محمد مینگل اور دیگر نے اپنے ایک مذمتی بیان میں بی این پی واشک کے ضلعی جنرل سیکرٹری علی حسن بلوچ کی ناجائز گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ واشک انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بلاوجہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے اپنے ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہی واشک میں غریب اور نادار مستحقین کو نظر انداز کرکے انتظامیہ نے اپنے من پسند اور منظور نظر لوگوں میں راشن تقسیم کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں