میڈیا بل کسی صورت منظور نہیں، آئین کی پاسداری کرنے والے متحد ہوجائیں، صحافی کنونشن

اسلام آباد:پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے)نے میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوئٹہ سے لانگ مارچ کرنے کا اعلان کردیا،قومی جرنلسٹس کنونشن میں پیش کردہ چارٹرفریڈم آف سپیچ اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام قومی جرنلسٹس کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نوازنے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جادو ٹونے سے چلایا جا رہا ہے، آج سب کچھ جادو ٹونے پر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کو کچلنے کیلئے مجوزہ اتھارٹی کا نام ڈویلپمنٹ رکھا گیا ہے، مریم نواز کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں جو آج قانون سازی ہوئی ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، اراکین خود کہہ رہے ہیں ہم آئے نہیں بلکہ ہمیں لایا گیا ہے۔ حکومت کو آخری دھکا دینے کا وقت آگیا ہے، مسلم لیگ(ن) پی ایف یوجے کے لانگ مارچ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، نالائق حکومت اپنی نالائقیاں چھپانے کے لئے میڈیا اتھارٹی بنا رہی ہے۔ صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شہزادہ ذوالفقار نے کہاکہ 2008ء کے بعد سے 26 صحافی اپنی جانیں دے چکے ہیں اور 14 صحافی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ 12کے قاتلوں کا کچھ پتہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مقابلہ حکمرانوں، میڈیا مالکان،مہنگائی اور موسم کے ساتھ ہے، ہم نے میڈیا ورکرز کے لئے جدوجہد جاری رکھنی ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلا برادری ہمارے ساتھ ہیں، اس مارچ کے دوران آ نیوالی تمام سختیاں برداشت کرنی ہیں۔سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ناصر زیدی نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج میرے لئے یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ آج پاکستان کا ہر شہری باشعور ہو چکا ہے اسے معلوم ہے کہ 72سالوں سے اس ملک پر سیاہ سایہ ہٹانا ہے آج پاکستان بدترین حالات سے گزر رہا ہے، پارلیمان بے دست و پا ہو چکا ہے، آئین کی پامالی سب دیکھ رہے ہیں، بے شمار قوانین ہوتے ہوئے حکومت سب کو ختم کرکے پاکستانی میڈیا اتھارٹی بل لانا چاہتی ہے ہمیں معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں۔پی ایف یو جے نے ہر دور میں کالے قوانین کے خلاف اور آزادی اظہار رائے کے لئے بھرپور جدوجہد کی ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ فیک نیوز کو روکا جائے گا حالانکہ ہر دور حکومت میں حکومت خود فیک نیوز اخبارات میں شائع کراتی رہی ہے اور اپنے مفادات حاصل کرتی رہی ہے آخر میں ناصر زیدی نے چارٹر آف فریڈ آف سپیچ پڑھ کر سنایا اور شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر چارٹر کے حق میں ووٹ دیا۔پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین خوش دل خان نے کہاکہ موجودہ حکومت ضیاء الحق کے دور حکومت کی یاد دلا رہی ہے، یہاں سچ بولنے پربھی سزا دی جاتی ہے اب ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ سول مارشل لاء ہے،نومنتخب صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے وکلاء کی جانب سے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔عاصمہ شیرازی نے کہا کہ آج جن کے ہاتھوں میں قلم ہے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں، آج ہماری آواز کو دبانے کے لئے گالی اور گولی کا استعمال کیا جارہا ہے، جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے کہا کہ ہم پی ایف یوجے کے مطالبات کے حق میں ہیں اگر میڈیا کے حقوق کا تحفظ کیا جائے تو ملک مضبوط ہو گا۔سینئر صحافی حامد میر نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو بھی صحافی ڈکٹیشن نہیں لیتا اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے پہلے ہمارا دشمن ہمیں معلوم ہوتا تھا مگر آج وہ دشمن نامعلوم ہوتا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کے بہت سے مسائل ہیں مگر آزادی صحافت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں