اپوزیشن شکست نہ مانے مگراسباب پر غور کرے
17نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو ہواہو چکا۔ حکومت اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق33اہم بل منظور کرانے میں کا میاب ہو گئی۔ اپوزیشن منظوریکا عمل رکوانے کے لئے جو کچھ کر سکتی تھی اس نے کیا۔اب اپوزیشن پارلیمنٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہی ہے۔ لیکن اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل ہی میڈیا کا آگاہ کر دیا تھا کہ ہار کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔گویااپوزیشن نے بھانپ لیا تھا کہ اس نے جن اراکین کی زبان پر اعتماد کرکے پوزیشن نے اپنی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کئے تھے، کسی وجہ سے ان حکومتی ارکان نے وفاداریاں تبدیل کرنے کا ارادہ مؤخر کر دیا ہے۔یہ منظر بھی عوام کو پہلی مرتبہ دیکھنے کو نہیں ملا،ایسا ایک سے زائد مرتبہ ہو چکا ہے۔ چند ماہ پہلے حکومت اپنے مشیر خزانہ کو سینیٹر بنوانے میں ناکام رہی مگر اگلے روز اس نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کروہ دروازہ بند کر دیا جہاں سے قائدِ ایوان گزر کر ایوانِ صدر جاتا ہے، وزارتِ عظمیٰ کاحلف اٹھاتا ہے اور جھنڈا لگی گاڑی میں بیٹھ کر پورے پروٹوکول کے ساتھ پرائم منسٹر ہاؤس پہنچتا ہے۔ اپوزیشن کو اتنی ”نالائق، نااہل، اور ناتجربہ کار“ حکومت مستقبل قریب میں شاید نہ مل سکے۔اول:۔۔۔ اس حکومت کے پاس ایوان میں عددی کثرت نہیں، حکومت سازی سے لے کر قانون سازی تک اپنے اتحادیوں کی محتاج ہے۔ اتحادیوں کو ماضی کی حکومتوں نے جس لاڈ پیار کے ساتھ پالا تھا، کسی سے ڈھکا چھپانہیں۔ہر لاڈلے بچے کی طرح انہیں نت نئے مطالبات منوانے کی عادت ہے۔بجٹ کی منظوری اورپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس مواقع میسر آتے ہیں۔اور اتحادی انہیں پوری قوت اور مہارت کے ساتھ منوالیتے ہیں۔ممکن ہے اس مرتبہ بھی حکومت نے انہیں کوئی مناسب کھلونا دے کر بہلا لیا ہو۔یا آنکھیں دکھاکر مشترکہ اجلاس میں آنے پر آمادہ کر لیا ہو۔اس لئے کہ ایک رکنِ پارلیمنٹ نے اسلام آباد پہنچتے ہی میڈیا کے روبرو کہا:”ہم آئے نہیں، لائے گئے ہیں“۔انہوں نے ایک بہت بڑی سیاسی صداقت بیان کی ہے،یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مختصر سے جملے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ایسی ادبی مہارت ہمارے بیشتر اراکینِ پارلیمنٹ کو حاصل نہیں۔وہ سچ بیان کرنے میں الفاظ کا مناسب چناؤ نہیں کرتے، ان کا سچ شوگر کوٹڈ نہیں ہوتا، کڑواہٹ اور تلخی کی وجہ سے سننے والوں کے چہرے پر ناگوار تأثرات نمودار ہوجاتے ہیں۔بعض دوست ناراض ہو جاتے ہیں۔مخالفین کو تفنن طبع کا سامان مل جاتا ہے۔ ایک رکنِ پارلیمنٹ کو ید دلانا پڑتا ہے:”کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے“۔ دوم:۔۔۔ بعض حلقوں کے خیال میں پنجاب اور مرکز میں اتنی ماہرانہ ناپ تول کے پیچھے مقتدر حلقوں کے خدشات بھی ہیں۔ماضی میں ایک آزمودہ پارٹی کو دوتہائی اکثریت دے کر کیا جانے والا تجربہ انجام کار بہت تلخ رہا، اس لئے احتیاط ضروری تھی۔اتنی لنگڑی لولی حکومت کوئی روایتی سیاست دان ہر گز قبول نہ کرتا اگر کسی وجہ سے راضی ہوجاتا تب بھی پوری اسمبلی کو وزیر، مشیر، معاونین بنانے کا پیشگی اجازت حاصل کرتا۔آج پاکستانی عوام کو 341کے ایوان میں کم از کم 171وزیر، مشیر اور معاونین گھومتے نظر آتے۔ان کی تعدادبلوچستان میں قائم کردہ انوکھی مثال کی روشنی میں 340بھی ہو سکتی تھی۔۔۔لیکن ملکی معیشت کی زبوں حالی اور ابتری کے پیش نظر بعض دانشور سمجھتے ہیں کہ ایسی ریموٹ کنٹرول پارلیمنٹ عالمی برادری کا سامنا نہیں کر سکتی، جیب میں ممکنہ جواب کی پرچیاں ڈال کر بیرون ملک (بالخصوص نیو یارک اور واشنگٹن) جاتے وقت یہ اہتمام ضروری ہو جاتا تھا۔تاکہ کسی بھول چوک کا خدشہ نہ رہے۔ عمران خان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ ذہنی اور فکری اعتبار سے سیاست دان نہیں، اصلاح کار ہے، کوئی مانے یا نہ مانے چاروں صوبوں میں عالمی معیار کے اسپتال اور میانوالی جیسے دوردراز اور پسماندہ علاقے میں نمل یونیورسٹی کا قیام اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایک لمحے کے لئے سوچا جائے جو شخص روایتی سیاست کا شدید مخالف ہے، سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اس نے ہر پاکستانی کوانصف فراہم کرنے کا نعرہ لگایا۔126روز تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں روایتی سیاست دانوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کو چور کہا، ڈاکو کہا۔ اس شخص سے یہ توقع رکھنا کہ وہ روایتی سیاست کو سہارا دے، شوگر مافیاز، آٹا مافیاز اور قبضہ مافیاز سے ہاتھ ملائے گا،ماڈل تھانے کی حدود میں باوردی سپاہیوں اور افسران کو شاباشی دے گا،راشی بیوروکریٹس کی حوصلہ افزائی کرے گا۔عدلیہ کا یہ حال ہے کہ اگلے روز سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بڑے دکھی دل سے ریمارکس دیئے:”وکیل صاحب! فوری انصاف کے لئے تکنیکی پیچیدگیوں سے نکلیں، بہتر ہے کیس میں جا کر دلائل دیں۔ انصاف کی فراہمی لحاظ سے پاکستان کا دنیامیں 128واں نمبر ہے، وکیل اور ججز سمیت ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔عدلیہ کے سینئر ججز ایسے ریمارکس دینے پر مجبور ہیں۔یہ صورت حال عرصہ دراز سے توجہ طلب تھی، بوجوہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں اس جانب کسی نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔بلکہ ہائی کورٹ کے جج کو(اس وقت کے) وزیر اعلیٰ پنجاب(اور آج کے قائدِ حزبِ اختلاف) نے اپنے بڑے بھائی(اس وقت کے وزیر اعظم) کو فون کے ذریعے جو پیغام پہنچایاتھا،عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے، ہر پاکستانی جانتا ہے۔ واضح رہے یہ پیغام ملک کی دوسری بڑی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کوزیادہ سے زیادہ سزا دینے سے متعلق تھا۔سپریم کورٹ پر حملہ بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے۔نیب کے بارے میں سپریم کورٹ کے”زمین میں 6فٹ نیچے دفن ہونے والے“ریمارکس کافی ہیں،کسی آئینی ادارے کے لئے عدالت عظمیٰ کے یہ ریماکس ایک مہذب گالی کے مترادف ہیں۔جسٹس قاضی محمد امین کے 15 نومبر2021کو دیئے گئے
ریمارکس سے یہ ثابت ہوتا ہے ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے۔عمران خان کے بارے میں مستقبل کا مؤرخ ہی غیر جانب دارانہ تجزیہ کرے گا۔آج کاپاکستانی معاشرہ متعصب گروہوں میں منقسم ہے۔ اربوں روپے کی ٹی ٹی کے ذریعے ایسی رقم پاکستان کے کسی گمنام بینک اکاؤنٹ سے لندن بھجوا کر چند منٹوں بعد ہی واپس اپنے اکاؤنٹ میں منگوانابجائے خود مالیاتی فراڈ کاایک مضبوط evidence ہے۔سینکڑوں TTsاگر کسی محقق، ماہر معیشت،دانشور اور سیاست دان کی نگاہ میں کرپشن نہیں تو عام آدمی اتنا ناسمجھ نہیں کہ اس فراڈ کو قانون کی نظر میں فراڈ قرار نہ دے۔واضح رہے کئے گئے فراڈ کی ادائیگی عام آدمی اپنی جیب سے کرتا ہے، کچن کا بجٹ اسے معیشت کی اصطلاحوں کے بغیر ہی معاشی رموز سے شناسا کر دیتا ہے۔عام آدمی کا کچن اس کی معاشی درسگاہ ہے۔


