مقدس وہی ہے جو آئین کی پاسداری کرے، نواز شریف

لندن /لاہور:مسلم لیگ(ن)کے قائد اورسابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقدس وہی ہے جو آئین کی پاسداری کرے، جو آئین کی دیواریں پھلانگے وہ مقدس نہیں آئین کا مجرم ہے اور ملک و آئین کا غدار ہے، زبانیں کھینچ لینے یا تار کاٹ دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، آج اظہار رائے کی آزادی، انسانی حقوق کے حالات بدترین ہیں،ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے قوم میں مایوسی اور بے بسی پھیلی ہوئی ہے،جب قومیں پھنستی اور دھنستی ہیں تو پھر سوال جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔اتوار کولندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے انسانی حقوق کی ممتاز وکیل عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جبر اور گھٹن زدہ ماحول میں ان کی بہت کمی محسوس ہو رہی ہے، ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے قوم میں مایوسی اور بے بسی پھیلی ہوئی ہے،جب قومیں پھنستی اور دھنستی ہیں تو پھر سوال جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ 74سال بعد قوم پھر سے سوال اٹھا رہی ہے، جس کے جواب درکار ہیں جب تک سوال کا جواب نہیں ملے گا، ہماری حالت نہیں سدھرے گی۔ خطاب کے دوران انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ زبانیں کھینچ لینے یا تار کاٹ دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ نواز شریف نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ایک تحریک کا نام ہے جو آج بھی جاری ہے جس کا ثبوت بار الیکشن میں ان کے پینل کی کامیابی ہے، عاصمہ جہانگیر کے ساتھ قریبی تعلق رہا اور ان کی زندگی کے آخری دنوں کے دوران بھی مجھ سے فون پر بات ہوئی تھی۔نواز شریف نے کہا کہ آج اظہار رائے کی آزادی، انسانی حقوق کے حالات بدترین ہیں۔ سوال کرنے کی پاداش میں صحافیوں کے پروگرام بند یا کالمز کی اشاعت رکوا دی جاتی ہے یا پھر نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔انہوں چند روز پیشتر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس ہونے والے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد سچ کی زبان کو بند کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں