شریف فیملی کی مشکلات میں اضافہ

یوں تو شریف فیملی 2016کے عدالتی فیصلے کے بعد سے آج تک مشکلات کا شکار ہیں لیکن بیماری کے علاج کے لئے لندن جانے کی اجازت نے ایک حد تک ان مشکلات میں تخفیف کردی تھی۔ لندن میں انہیں مختلف مقدمات میں پیشی کے لئے عدالت لانے اور واپس پہنچانے جیسی ہزیمت سے نجات مل گئی تھی اورمیاں محمد نواز شریف لندن کی وسیع و عریض رہائش گاہ میں مقیم تھے۔ جیل کی بجائے وہ اپنے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ آرام دہ زندگی بسر کر رہے تھے۔مگراب ایسی اطلاعات پاکستانی میڈیا میں گشت کر رہی ہیں جن سے یہ تأثر ملتا ہے کہ برطانیہ سے انہیں سال کے اواخر میں (مہینے سوا مہینے میں) پاکستان واپس بھجوا دیا جائے گا۔اس کاسبب حکومت برطانیہ اور حکومتِ پاکستانکے درمیان طے پانے والا وہ معاہدہ ہے جو پاکستان کی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذالعمل ہو جائے گا۔ اور غیر قانونی طور برطانیہ میں مقیم پاکستانی واپس بھجنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔اس معاہدے کادائرہ وسیع بتایاجا رہا ہے۔حکومتی ذرائع سے یہ تأثردیا جارہا ہے کہ پاکستان عدالتوں کو مطلوب ہر پاکستانی واپس بھجا جا سکتا ہے۔ اور برطانیہ کی عدالتوں کو مطلوب ملزمان بھی حکومتِ برطانیہ کی تحویل میں دیئے جائیں گے۔اس خبر کی تردید تاحال لیگی رہنماؤں کی جانب سے نہیں کی گئی۔اس لئے بادیئ النظر میں یہی سمجھاجائے گا کہ وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کی اطلاع میں صداقت ہے۔یہ الگ بات ہے کہ میڈیا نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع نہیں کیا، محض سنگل کالم اور چند سطروں میں نمٹا دیسا، اس لئے خاموشی طاری ہے اوراس پر نجی محفلوں میں بحث شروع نہیں ہوئی۔دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ 17نومبر کو پارلیمنٹ میں ہونے والی ناقال یقین اور غیر متوقع قانون سازی پر سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظریں جمی رہیں اور انہوں نے ادھر توجہ نہیں دی۔ سبب کچھ بھی رہا ہو اس خبر کی اہمیت اوراس کے دور رس نتائج کے پیش نظر خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔یاد رہے کہ 20اکتوبر2020کو لندن سے 42غیرقانونی تارکین وطن کو پاکستان لانے والے چارٹرڈ طیارے کو لینڈ کرنے کی اجاز نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ واپس بھیجے گئے ان غیرقانونی تارکین وطن میں میاں محمد شریف شامل نہیں تھے۔اس کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا طے شدہ دورہ منسوخ کئے جانے کی وجہ بھی یہی بتائی جا رہی تھی۔گویا حکومت پاکستان نواز شریف کی واپسی کے لئے اس دوران مسلسل چوکنا اور مستعد رہی۔مبصرین کا ایک گروپ یہ سمجھتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے لندن جانے کے بعد مقتدرہ سے دوبدو جو محاذ آرائی کی اور بعض آرمی افسران کے خلاف جو ریمارکس دیئے، وہ انہیں چوتھی بار وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھانے کی درست حکمت عملی تھی اور انہیں یہی کچھ کرنا چاہیئے تھا۔لیکن عملی طور پر اس محاذ آرائی والی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ نون لیگ دو لخت ہوگئی اور دوسری رائے رکھنے والے ناقدین کا خیال درست نکلا۔ ڈھیروں مقدمات کابوجھ اٹھائے سیاسی پارٹی اپنے بااثر اور دینہ رفقاء کی رائے کو یکسر مسترد کر دے اور قائد کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی پر واہ واہ کے ڈونگرے برسائے جائیں، تب بھی عوامی موڈ کاجائزہ لینا اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ عوامی موڈ کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو تنہا جے یو آئی سارا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔اس کی اپنی پریشانیاں بھی کم نہیں۔لگتا ہے کہ بڑی سیاسی پارٹی سے نمٹنے کے بعد ادھر بھی دیکھا جائے گا۔علاوہ ازیں ساڑھے تین سال کی مسلسل محاذ آرائی بھی تھکا دیتی ہے۔ملکی سیاست دھیرے دھیرے اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے پاس مزید غلطی کی گنجائش نہیں رہی۔دونوں جانب سے تمام کارڈ شو کر دیئے گئے ہیں۔چھپانے کوکچھ باقی نہیں بچا۔ سمجھوتہ ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بناء پر ہوتا ہے۔ ساری باتیں فریق اول یا فریق دوم کی نہیں مانی جا سکتیں۔دونوں کو باہمی افہام وتففہیم سے مخالف فریق کو جگہ دینی پڑتی ہے۔معادے کے بارے میں سیانے کہہ گئے ہیں کہ اسے کیک کی ایسی تقسیم سمجھا جائے جس میں ہر فریق یہ کہے کہ اسے بڑا حصہ ملا ہے۔یہ کام آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔دنیا بھر میں ہر لمحے کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا معاہدہ سامنے آتا ہے۔ابھی حال ہی میں دوہا معاہدہ سامنے آیا،امریکہ نے انخلاء میں جیت جانی اور افغان طالبا ن نے کابل کے صدارت محل تک رسائی کو اپنی فتح قرار دیا۔دونوں غلط بھی نہیں کہلائے۔20سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔جنگ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل بھی ایک دن کسی معاہدے کے ذریعے حل کر لئے جائیں گے۔یاد رہے سماج کبھی بھی ایک حالت پر ساکت و جامد نہیں رہا، نہ ہی آئندہ ایسا ہوگا۔ جب بھی پیداواری آلات میں تبدیلی رونماہوتی ہے اس کے نتیجے میں پیداواری رشتے بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔جاگیرداری دور کے بعد صنعتی دور میں آجر اور اجیر کا کردار سامنے آیا،مزارعے چوبیس گھنٹے کے ملازم نہیں رہے،ابتدائی دور میں 16آٹھ گھنٹے اور شکاگو کی جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے نتیجے میں 8گھنٹے کام کرنے والے مزدور بن گئے۔ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مزید تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، پیداوار رشتے بھی یقینا تبدیل ہوں گے، بلکہ بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں۔پاکستان میں بھی تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اداروں میں حقوق و فرائض کے سوالات کا آغاز اسی جانب اشارہ کرتاہے۔ عدلیہ سے سوال پوچھنا ماضی میں ممکن نہیں تھا،آج روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ججزماضی جیسی مقدس گائے نہیں رہے۔توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس اور بعدازاں مزید کارروائی اسی معاشرتی تقاضے کی تکمیل ہے۔اداروں کو اپنی حدود متعین کرنا ہوں گی۔ اگلے روز عاصمہ جہانگیرکانفرنس سے خطاب کے دوران جو کچھ کہاسنا گیا اسی ارتقائی تبدیلی کے ابتدائی مراحل ہیں۔ایک ہی مقام پر تین رجحانات کا اظہاربہتر علامت ہے۔ایک مقرر نے خرابی کا ماخذ بتایا، دوسرے نے اسے اپنی ذات پر حملہ سمجھا اور دفاعی پوزیشن اختیار کر لے جبکہ تیسرے مقرر نے متوازن بات کی،عدلیہ کے ان فیصلوں کا ذکر کیا اور برملا تسلیم کیا کہ ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جا سکتا، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، میڈیا آزاد نہیں ہوگا تو عدلیہ بھی خود مختار نہیں ہوگی۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ یہ بحث و مباحثہ آگے بڑھے گا۔واضح رہے دنیا نے بحث و مباحثے کے ذریعے سماجی، نظریاتی اور اخلاقی اقدار میں نکھار پیدا کیاہے۔ پاکستان بھی قدم بہ قدم اسی راہ پر چلے گا تب اسے عالمی برادری میں باوقار مقام ملے گا۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے، جواب دیتے وقت لاٹھی نہ اٹھائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں