ارتقاء کبھی نہیں رکتا

کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ لاکھوں اقسام کے جانداروں میں انسان واحد جاندار ہے جو لباس پہنتا ہے،آگ استعمال کرتا ہے اور اس نے پہیہ ایجاد کیاہے۔دیگر تمام جاندار قدرت کے عطا کردہ جسم کے ساتھ پیدائش سے موت تک کا سفر پورا کرتے ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پہیہ ترقی کرتا ہوا بڑی بڑی مشینوں کی شکل اختیار کر گیاہے آگ پہیئے کو چلانے میں مدد دینے لگی ہے، انسان نے سمندروں میں نہ صرف تیرنا شروع کیا بلکہ پہلے کشتیاں اور پھر کارگو شپس چلا کر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسافر اور سامانِ تجارت لے جانے لگا۔ اس کے بعد فضاؤں میں اڑنے کی صلاحیت حاصل کی، اور آج دنیا گلوبل ویلج کہلانے لگی ہے۔یاد رہے کہ جس انسان نے دنیا مسخر کر لی ہے، اسی کی اولاد پاکستان میں بھی رہتی ہے۔دیکھ لیں،بیرون ملک 90لاکھ پاکستانی اتنی دولت کما رہے ہیں جتنی پاکستان کے جاگیردار اور صنعتکار یہاں کے قیمتی قدرتی وسائل استعمال کرکے برآمدات نہیں کر رہے۔ برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ بیرونِ پاکستان مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔سیاست پر بھی ان ہی(نالائق، نااہل اور تنگ نظر) جاگیرداروں اور صنعت کاروں کا قبضہ ہے۔ موجودہ اور سابق حکمرانوں کو چاہیئے کہ اپنی نااہلی تسلیم کریں، ارتقائی سفر کا راستہ نہ روکیں۔جب ای وی ایم کی مخالفت کی جاتی ہے عام آدمی کووہ لوگ یاد آجاتے ہیں جو چند دہائیاں قبل پاکستان کے گلی کوچوں میں لاؤڈ اسپکیرسے برآمد ہونے والی آواز کو شیطان کی آواز کہہ کرلاؤڈ اسپیکرکی مخالفت کررہے تھے۔آج ان مخالفت کرنے والوں کے بیٹے، پوتے مائیک ہاتھ میں پکڑ کراپنا گلا صاف کرتے ہیں اور منبر پر بیٹھ کر کھانستے بھی ہیں۔ماضی میں گھڑی دیکھ کر نماز کی ادائیگی درست عمل نہیں تھی، آج مسجد کی ہردیوار پر گھڑی آویزاں کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ گزرے کل گھر میں ٹی وی رکھنے کوگناہِ عظیم کہنے والے آج 24گھنٹے اپنے چینل پر تقریر کرتے نظر آتے ہیں۔عام آدمی کو بیوقوف بنانے اورسمجھنے کا زمانہ بیت گیا ہے۔ آج اگر ہر نوجوان کے ہاتھ میں واٹس ایپ نہیں، تب بھی ہر خاندان کے کم از کم دو افراد واٹس ایپ اٹھائے دکھائی دیتے ہیں۔واضح رہے ”ای وی ایم“ کا استعمال واٹس ایپ سے آسان ہے۔جولوگ سپریم کورٹ جانا چاہتے ہیں شوق سے جائیں۔ ماہرینِ قانون کے نزدیک پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون پر عملدرآمد رکنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اور یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن منعقد ہونے میں ابھی دوسال لگیں گے۔2023کی آخری سہ ماہی اپنے وقت سے پہلے نہیں آسکتی، نہ آئے گی۔اپوزیشن اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ اس پیج کو پھاڑنے کی سکت نہیں رکھتی جس پر حکومت اور مقتدر حلقے موجود ہیں تو اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ اس پیج کے بوسیدہ ہونے کا انتظار کرے۔ ٹریکٹر کے دور میں بیلوں کے ساتھ ہل جوتنے کا منظر رومانوی ہو سکتا ہے، لیکن ٹریکٹر استعمال کرنے والے کسانوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ٹریکٹر سے اتر کر بیل اورہل سنبھال لیں گے۔اسی طرح آج کوئی شخص ٹیوب ویل کی جگہ بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ کررہٹ سے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرنے کی ترغیب دلائے تو لوگ اسے اس صدی کادانشور تسلیم نہیں کریں گے، ماضی کو مستقبل کی ضرورتوں کا حل قرار دیناناکام اوربے نتیجہ نظر آتا ہے۔اسے معاشرتی اور سیاسی تناظر میں گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کا عمل کہا جائے گا۔ جمہوریت میں جمہور کو راضی کرنا ہی پہلی اور آخری ضرورت ہے۔واضح رہے جس دن عوام اپوزیشن کے ”حکومت جانے“ والے نعرے پر اعتماد کریں گے اسی روز اپوزیشن کی کامیابی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ابھی تک طے کیا جانے والا سفر دائرے کا سفر تھا۔ بار بار نقطہئ آغاز سے گزرنا پڑا۔تاہم سیاست کے اپنے تقاضے ہیں، اپنی بھول بھلیاں ہیں، اپنے نشیب و فراز ہیں۔ان سے گزرے بغیر مسندِ اقتدار پر بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا۔اگر میڈیا رپورٹس درست نکلیں اور آئندہ چند دنوں میں نون لیگ کے صدرشہباز شریف کوایف آئی اے نے گرفتارکر لیا تو اس کے اثرات موجودہ سیاسی منظرکویکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔یہ اقدام صرف گرفتاری تک محدود نہیں رہے گا، مقدمات کی تیز رفتار سماعت ہونے اور فیصلہ کن مرحلے تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔بعض ملزمان کو بری کیاجائے گاجبکہ دیگر کو لمبی قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائی جائیں گی۔متعلقین کو اندازہ ہے کہ اس بار عدالتی رویہ ماضی کے برعکس ہوگا، سول اور کرمنل پروسیجر کوڈ میں تمیز روا رکھی جائے گی۔TTsکے استعمال کی سنگینی سے ملزمان واقف ہیں، جانتے ہیں انہیں جھٹلانا ممکن نہیں۔اپنے ہی چپڑاسی، کلرک اور افسران وعدہ معاف گوا ہ بن چکے ہیں۔قلفی اور فالودے والے ان کے علاوہ ہیں۔ مقدمات بینکنگ کورٹس میں ہیں،ان عدالتوں میں کلیم اللہ سے سلیم اللہ کواور پھر سلیم اللہ سے کلیم اللہ کو گیند پاس کرنے والا حربہ کامیاب نہیں ہوتا۔ ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمران یہ حقیقت فراموش نہ کریں کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔ایف اے ٹی ایف نے اپنی شرائط پر عمل در آمد کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔ورنہ 27میں سے26نکات کی تکمیل پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جاتا۔یاد رہے اب دنیا زبان پر اعتماد نہیں کرتی۔عالمی مارکیٹ میں صرف وہ پروڈکٹ بیچنے کی اجازت ہے جو ISOسے تصدیق شدہ ہو۔آج ایسے تاجر کے لئے عالمی منڈی کا دروازہ نہیں کھولا جاتا جو برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھنے کی ضد کرے۔دیکھ لیں ہومیو پیتھک ادویات پر بھی آج کل ایکسپائری تاریخ لکھی جاتی ہے۔عام بیکری والے بھی ہاتھ سے ہی سہی مگرتاریخ ساختہ اور قابل استعمال ہونے کی مدت کی تفصیلات لکھنے لگے ہیں۔یہ بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہے، اس سے صرفِ نظر درست نہیں۔پاکستان جیسے قانون سے شکن ماحول میں بھی نچلی سطح پر
کاروباری لکھت پڑھت شروع ہوجائے تو تسلیم کر لینا چاہیے تاریخ کا پہیہ آگے کی طرف گھومتا ہے۔جوتاجر کل تک خود کو ان پڑھ کہہ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی دھمکی دے رہے تھے آج اپنی فیکٹری اور ملوں میں خوشی خوشی ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم لگوا رہے ہیں۔کارخانے سے شاپنگ مال تک اور گوداموں سے گلی کوچوں تک مصنوعات کی نقل و حمل کا مکمل ڈیٹا تیار ہونے لگا ہے۔گرفتاریوں کے بغیر ہی لوگ ٹیکس ادا کرتے دیکھے جا رہے ہیں۔آئی ایم ایف نے بھی مہنگائی بڑھنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک ارب ڈالر سے کچھ زیادہ والی قسط جاری کر دی ہے۔ان حالات میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی سیاسی مطلع ابر آلود ہے،لیکن اس کے یہ معنے نہیں لئے جا سکتے کہ 2021کا سال ختم ہوتے ہی 1990کی دہائی شروع ہو جائے گی۔ نون لیگی سزا یافتہ قیادت کو ایک بار پھر گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، پرانی”ہٹو بچو“ والی صدائیں فضاء میں گونجتی سنائی دیں گی!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں