نصیب اللہ بادینی کو بازیاب کیا جائے، لواحقین کی اپیل

کوئٹہ:نصیب اللہ بادینی کے لواحقین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں روزانہ جبری طور پربلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے ہم ایک امید کے ساتھ میڈیا کو اپنا دکھ درد پہنچاتے ہیں تاکہ آپ ہماری آواز آگے تک پہنچائیں اس سے قبل پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے کیمپ میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواچکے ہیں نصیب اللہ بادینی ایک طالبعلم ہے اس کے علاوہ وہ ملکی سطح پر ٹیکوانڈو کا گولڈ مڈلسٹ ہے لیکن7سال قبل اسے لاپتہ کیا گیا ابھی تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے اسے بازیاب کیا جائے ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا نصیب اللہ بادینی کے لواحقین نے کہا کہ نصیب اللہ بادینی ایک پوزیشن ہولڈر طالبعلم اور گولڈ مڈلسٹ نوجوان جسے غیر قانونی طور پر غائب کردیا گیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اس پر کوئی جرم ہے تو اس ملک کے قوانین وآئین وعدالتوں میں پیش کرکے انہیں صفائی کا موقع دے اگر ان پر جرم ثابت ہوجائے تو انہیں سزا دی جائے اس طرح جبری طور پر لاپتہ کرنے سے اہل خانہ کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے انہوں نے اقوام متحدہ ایمنسٹی انٹرنیشنل،ہیومنٹ رائٹس، واچ کمیشن آف پاکستان، ایشین ہیومن رائٹس کمیشن سے انسانی حقوق کے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نصیب اللہ بادینی کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیکر ان کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں