کرونا لاک ڈاؤن کے دوران شراب خانوں کی بندش قیمت میں اضافہ خطرناک متبادل زیر استعمال

کورونا وائرس: پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران شراب خانوں کی بندش، قیمت میں اضافہ اور خطرناک متبادل زیر استعمال’لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب خانے بند تھے۔ اس لیے ہم نے بازار سے سپرٹ خریدی اور پانی میں ملا کر چیک کرنے کے لیے پی جس کے بعد ہماری طبیعت خراب ہوگئی۔‘یہ کہنا ارسلان کا ہے۔ وہ واحد خوش نصیب ہیں جو کچی شراب پینے کے بعد زندہ بچ گئے۔ جبکہ ان کے چار دوست کچی شراب پینے سے دم توڑ چکے ہیں۔سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں گذشتہ ہفتے یہ واقعہ پیش آیا جب کچی شراب پینے کے باعث پانچ افراد کو سول ہسپتال لایا گیا۔ لیکن دو بھائیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ارسلان کا کہنا ہے کہ وہ روز شراب پیتے تھے لیکن دکانیں بند تھیں اس لیے انھوں نے یہ تجربہ کیا۔پاکستان میں لاک ڈاؤن کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات میں شراب خانے بند رکھے گئے ہیں۔ اس کے ردعمل میں کچھ لوگوں نے نشہ آور گولیاں، ہومیوپیتھک ادویات یا سپرٹ کو اس کا متبادل بنا لیا ہے۔


