چار ماہ میں مہنگائی ختم ہونے کا حکومتی دعویٰ

اپوزیشن(پی ایم ڈی) نے ساڑھے تین ماہ بعد مہنگائی مار شروع کرنے اعلان کیاہے جبکہ وزراء کہہ رہے ہیں:”چارماہ میں مہنگائی ختم ہو جائے گی“۔ ہوسکتا ہے دونوں کام نہ ہوں۔یا جزوی طور پردونوں وقع پذیر ہوجائیں۔اس لئے عالمی منڈی میں کورونا کی نئی قسم (اومیکرون)کے پھیلتے ہی پیٹرول کی قیمت گرنی شروع ہو گئی ہے۔ماضی میں پیٹرول کی قیمت خاصی حد تک گرنے کی مثالیں موجود ہیں۔اگر عالمی منڈی میں ہونے والی کمی اسی تناسب سے عوام کو منتقل کی جائے تو عام آدمی کی اشک شوئی ممکن ہے بشرطیکہ مہنگائی مافیا کو لگام دی جا سکے۔بظاہر لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ای وی ایم استعمال اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون سمیت33قوانین پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کراکے اپنی راہ میں حائل بعض قانونی رکاوٹیں دور کر لی ہیں۔ اس کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔سیالکوٹ کی ایک اسپورٹس گارمنٹ فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر قتل کرنے کی واردات مذہبی انتہا پسندوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ انتہا پسند نعرہ لگانے والے تنہائی کا شکار ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ٹی ایل پی نے بھی اس واردات سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے اور دیگر مذہبی جماعتوں اور علماء کرام نے بیک زبان اس واقعے کی مذمت کی ہے۔اس مثبت رویئے سے ملک میں امن دوست ماحول کو پروان چڑھانے میں مدد ملے گی۔عالمی سطح پر بھی پاکستان مخالف تأثر میں کمی اور پرو پاکستان سوچ میں بہتری آئے گی۔سری لنکن منیجر کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے فیکٹری ملازم ملک عدنان کی بہادرانہ کوشش بھی اس ضمن میں پاکستان کے حق میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ہزاروں مذہبی مشتعل افراد پر مشتمل ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے کی یہ گراں قدر مثال ہے،اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔اس بہیمانہ واردات کے مرکزی کرداروں کی تصدیق سی سی فوٹیج سے ہو چکی ہے، اگر انہیں قرار واقعی سزا دے دی گئی تو پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی راہ ہموار ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔عام آدمی اور دنیا دیکھ لے گی کہ اب قانون نے انتہا پسند نعرے لگانے والوں کے خوف سے نجات حاصل کر لی ہے۔قانون بالادست ہو گیا ہے۔ سری لنکن منیجر کے قاتلوں کے حوالے سے کی جانے والی کارروائی کی ابھی تک سمت درست ہے اور تیزرفتاری سے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔74سال بعد ہی سہی مگر غلط اندازِ فکر کی حوصلہ شکنی کا آغاز ہو گیاہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر قانون پسند شہری خوفزدہ تھا، نہ جانے کب کس گلی سے ہاتھوں میں پتھر،ڈنڈے، سریئے اور آتشیں اسلحہ اٹھائے،اورمذہبی نعروں کو ڈھال بنائے نمودار ہو کر شہروں یرغمال بنالیں۔پاکستانی عوام کو اس خوف سے نکالنے کی اشد ضرورت تھی۔مذہب کی تبلیغ دلیل کے مددسے کی جانی چاہیئے، اسلحے کے ذریعے فساد پھیلایا جاتاہے، اس کا مذہب سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔مہذب افراد اور معاشروں نے چنگیزی روایات کو مذہب یا سیاست کے نام پر بڑھاوا دینے والوں کوہمیشہ مستردکیا ہے۔ پاکستان میں یہ عمل دیر سے شروع ہوا مگر خدا کا شکر ہے، شروع ہوگیا ہے۔امید ہے آئندہ بھی حکومت پرامن عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں اسی قسم کی مستعدی سے کام لے گی۔بلکہ اس عمل کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔یاد رہے آج کی دنیا ماضی جیسی دور دراز ایک دوسرے سے کٹی ہوئی،الگ تھلگ اوربے خبر دنیانہیں رہی بلکہ سکڑکر ایک دیہات جیسی شکل اختیار کر گئی ہے۔کسی ایک بیگناہ شخص پر کہیں بھی ظلم ڈھایا جائے، ساری دنیا بے چین ہو جاتی ہے۔پاکستان میں دوسروں کے دکھ کو اپنا سمجھنے کا احساس نیا نہیں، لیکن عشروں تک دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کی وجہ سے لوگ اس رویہ سے عارضی طور پر دستبردار ہو گئے تھے۔لاقانونیت حاوی آگئی تھی اور قانون خوف سے دبک کر کسی کونے کھدرے میں بیٹھ گیا تھا۔نیب(NAB)جیسے آئینی ادارے کے بارے میں عدالتی ریمارکس اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ عدلیہ میں جسٹس ملک عبدالقیوم جج ارشد ملک جیسے افراد شرمناک کردار اداکر رہے تھے۔سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین نے چند روز قبل اوپن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیئے کہ”عالمی رینکنگ میں پاکستان کی عدلیہ کو 126ویں نمبر پر پہنچانے کے ہم سب ذمہ دار ہیں“،یہ ریمارکس در اصل اسی تکلیف دہ صورت حال کااعتراف ہے۔”چائنہ کٹنگ“ جیسی اصطلاح سیاسی پارٹیوں نے رائج کی تھی اور اس کی آڑ میں سندھ کی تمام سرکاری اراضی قبضہ مافیا کی جیب میں چلی گئی۔گویا زوال ہمہ جہتی تھا۔پاک دامنی کادعویٰ کوئی ادارہ نہیں کر سکتا۔اس تناظر میں اصلاح بھی ہمہ جہتی درکار ہے۔نمائشی جھاڑ پونچھ سے کام نہیں چلے گا۔ دہائیوں تک تطہیری عمل سے اغماض برتنے کانتیجہ یہی نکلنا تھا کہ گرد غبار پیوندِ جسم و جاں ہو جائے۔ آج سیاہ کو سفید سے الگ کرنا حددرجہ مشکل ہو گیا ہے۔لوگ طوفانِ نوح جیسے عذاب کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ جہاں صحیح اور غلط کی تمیز مٹ جائے، غلط کو درست سمجھا جانے لگے۔چور مالک بن بیٹھے اور مالک کی کہیں شنوائی نہ ہو تولوگ اَللہ سے عذاب بھیجنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ایسے حالات میں اگر ماضی میں اَللہ نے مجرموں کو سزا دینے کے لئے اپنا عذاب نازل کیا، بستیاں آنِ واحد میں عبرت کا نمونہ بن گئیں تو ایسا عمل دہرانے کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ اَللہ ہر شے پر آج بھی قادر ہے۔حکمرانوں کے لئے لمحہئ فکریہ ہے۔حکمرانوں کو سوچنا ہوگا، اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔مجرموں کی سرپرستی کی بجائے مظلوموں کو گلے لگانا ہوگا، قاتلوں کے ساتھ معاہدے کرنے کی بجائے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔پاکستان کے عوام عرصے سے قانون کی حکمرانی قائم ہونے کی آرزو کئے ہوئے تھے۔سو فیصد مایوس نہیں تھے، ورنہ ملک عدنان جیسا نوجوان اندھے معاشرے کے سامنے سینہ سپر نہ ہوتا۔اب محبتوں کے پھول کھلیں گے، نفرتوں کے کانٹے پیروں تلے کچلے جائئیں گے۔سیالکوٹ کے صنعت کار بھی چوکناہو گئے ہیں، انتہا پسند سوچ پر کڑی نظر رکھیں گے۔کوئی ایسا برق رفتار نظام تشکیل دیں گے کہ الارم بجتے ہی، چند سیکنڈوں میں فسادیوں کے سر پر پہنچ جائیں، انہیں کوئی واردات کرنے سے پہلے ہی گردن سے دبوچ لیں۔ ایسا نظام وضع کرنا آج ممکن ہے۔مہذب دنیامیں قاتل جائے واردات سے فرار نہیں ہو سکتا،قانون نافذ کرنے والوں کی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے۔یہی کچھ پاکستان میں بھی ہونا چاہیے۔حکومت چاہے تو اگلا مرحلہ قاتلوں کی سرکوبی ہو سکتا ہے۔عوام دیر سے اس کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں