عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی تقسیم کی سازشیں کررہے ہیں،غفورحیدری

رحیم یار خان: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف)کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس کے نتیجے میں اگر اسلامی ممالک نے افغانستان کے معاشی بحران کا حل دیا تو اس سے نہ صرف اسلامی ممالک کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا بلکہ اس کے پاکستان پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ گزشتہ روز ریشم فارمز کے سی ای او چوہدری محمد اکرام کی وفات پر انکے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس کا انعقاد حکومت پاکستان کا انتہائی احسن قدم ہے تاہم دیکھنا ہو گا کہ کیا اسلای ممالک اپنی مرضی سے اس کانفرنس میں افغانستان سے متعلق فیصلے کر سکیں گے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف،ورلڈ بنک اور ان سے ملحقہ ادارے پاکستان کو معاشی طور پر انتہائی کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ خدانخواستہ پاکستان کے مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جس سے پاکستان معاشی طور پر مکمل طور پر کھوکھلا ہو چکا ہے اس موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کی بجائے اپنے اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگی اشیاکی درآمد مکمل طور پر بند کرے تاکہ ہمارا درآمدی بل کم ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہو سکیں۔علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری جمعیت کے مرکزی نائب امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالجیوی جمعیت صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا علامہ راشد خالد محمود سومرو جمعیت تحصیل پنوعاقل کے امیر مولانا سائیں غلام اللہ ہالجیوی مولانا محمد صالح انڈھڑ اور مولانا مفتی امداد اللہ ہالجیوی نے کہا کہ پاکستان کی بقا کی خاتر ہم نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا ہے آین پاکستان میں کسی کا باپ بھی ترمیم نہیں کر سکتاہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علمااسلام تعلقہ پنوعاقل کے زیر اھتمام منعقد تحفظ آئین پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے قیام میں واضح طور نعرہ دیاگیا تھا کہ یہ ملک اسلامی ریاست ہوگا اور آئین پاکستان کے پہلے صفحہ پر آج بھی لکہا ہوا ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بنے گا پہر کیا وجھ ہے کہ اس ملک میں اسلام کے بجا سیکیولر نظام مسلط کرنے کی کوشش ہورہی ہے کیا وجھ ہے کہ ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس ملک میں اسلام کا قانون نافذ نہیں کیاجارہاہے انہوں نے کہ عمران خان مدینہ کی ریاست کی بات عوام کو دوکھ دینے کے لئے کررہاہے آج بھی عمران خان کے بیٹے لندن میں کرسمس کی تقاریب منارہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اس ایجنڈہ پر کام کررہاہے کہ ملک تو توڑ دیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں