صوبائی اسمبلی کے مشکوک اور پراسرار اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے بلوچستان کے لوگوں کو آگاہ کیا جائے، حاجی لشکری رئیسانی
ڈیرہ اللہ یار: سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کوئی انتظامی صوبہ نے وفاقی قومی اکائی ہے۔ صوبائی اسمبلی کے مشکوک اور پراسرار اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے بلوچستان کے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔یہ با ت انہوں نے گزشتہ روز ڈیرہ اللہ یار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کوئی انتظامی صوبہ نے وفاقی قومی اکائی ہے۔ بین الااقوامی اصولوں کے مطابق بلوچستان کے لوگوں کو ان کے سائل وساحل،سیاست پر اختیار ہونا چائیے تھا مگر گزشتہ 72 سالوں سے بلوچستان کو ایک وفاقی اکائی کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ بعض نیم جمہوری حکومتوں میں صوبے کے لوگوں کو کچھ سہولیات میسر آئی ہیں مگر عملاً بلوچستان کے لوگوں سے آج بھی ایک کالونی کے طر ز پر برتا? کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ایک خاص ذہنیت کی بنیاد پر انتخابات کرائے جاتے ہیں گزشتہ انتخابات بھی ایک خاص مقصد کے تحت کرائے گئے تاکہ صوبے میں ایک ڈمی اسمبلی کو تشکیل دے کر اس کے ذریعے گوادر اورصوبے کے قدرتی وسائل و ساحل پر قبضہ کیا جائے حا ل ہی میں ہونے والا بلوچستان اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس بھی اس سازش کا حصہ ہے اچانک ایک مشکوک اور پراسرار اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے ایک خاموش فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک سے متعلق ان کیمرہ اجلاس سے صوبے کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کیمرہ اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ آج تک بلوچستان کے عوام کو کچھ پتہ نہیں کہ گوادر سے متعلق ماضی یا حال میں کیا فیصلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل یہاں کے معدنی وسائل سے وابستہ ہے کسی کو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے


