مہنگائی سے نجات

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان کا سرِ فہرست مسئلہ مہنگائی سے نجات ہے۔سوال یہ ہے کہ مہنگائی سے نجات کیسے ملے گی؟حکومت اپنی استطاعت کے مطابق جو کچھ کر سکتی ہے کر رہی ہے۔ اپنی استعداد سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتی۔اپوزیشن حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں،اس کے خیال میں مہنگائی سے نجات کا واحد راستہ پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر بھیجناہے۔لیکن ساڑھے تین سال گزر گئے اپوزیشن مہنگائی سے نجات کا متبادل حل پیش نہیں کر سکی۔عوام بغیر متبادل حل دیکھے اپوزیشن کے دعوے کو قبول نہیں کر رہے۔اس کی وجوہات کو بھی پیش نظر رکھی جائیں۔سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں (پی پی پی اور مسلم لیگ نون) گزشتہ چار دہائیوں میں ایک سے زائد بار اقتدار میں رہیں۔بالخصوص گزشتہ دس سال (2008تا2013اور 2013 تا 2018 علی الترتیب) کا زمانہ حال سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں حکومتوں نے اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔اور انہوں نے بھی آئی ایم ایف کی مشاورت اور مرضی کے مطابق ہی اپنی معاشی حکمت عملی ترتیب دی تھی۔ریکارڈ کے مطابق پی پی پی 8باراور مسلم لیگ نون نے3بار یہ اچھی یا بری مثال قائم کی۔آئی ایم ایف کے پاس جانے والی پہلی حکومت پی ٹی آئی کی نہیں، اس سے پہلے 21بار پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جاچکا تھا۔اس میں سول اور مارشلائی دونوں طرز ہائے حکومت شامل ہیں۔البتہ یہ کہنے کی گنجائش موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے اپنی معیشت کو مناسب سطح تک بہتر بنانے کے بعد آئی ایم ایف سے نجات حاصل کی۔اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی آئی ایم ایف کو خیربادکہنے کا امکان یکسر ختم نہیں ہوا۔بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھ کر اپوزیشن کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت باقی ماندہ مدت میں (جو سکڑ کر ڈیڑھ سال رہ گئی ہے)، مہنگائی پر قابو نہ پا سکی تو عوام عام انتخابات میں بھی اسی قسم کا رد عمل دیں گے۔پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں ملیں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ اپنی پنجاب کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔فیصلہ کن رائے پنجاب سے آتی ہے۔اپوزیشن بھی اتنی ناسمجھ نہیں کہ ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد بھی یہ نہ جانتی ہو کہ عوام حکومت کو قبل از وقت گرانے کے موڈ میں نہیں۔ مبصرین بھی اتنے ناداں نہیں کہ علم و دانش سے کام لینے کی بجائے سیاسی قائدین کی خواشات کو زمینی حقائق قرار دینے لگیں۔تاریخ خواہشات کے تابع نہیں ہوتی، اس کی اپنی شرائط اور اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے برصغیر میں ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کر لی مگر فرغانہ جانے کی خواہش اس کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو گئی، زندگی کے آخری سانس تک نہیں جا سکا۔مسلم لیگ نون کل تک اپنے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کی واپسی کی تاریخیں دے رہی تھی۔ایک غلط سیاسی چال نے پوری بساط تبدیل کر دی۔خود قائد کو لندن سے کہنا پڑا:”لیگی رہنما ان کی واپسی کے بارے میں رائے زنی بند کر دیں“۔یاد رہے روس میں زار شاہی کا خاتمہ کرنے والے انقلابی رہنما لینن بہت پہلے لکھ چکے ہیں: ”سیاست ایک ایسے پیچیدہ اور ٹیڑھے میڑھے راستے پر چلنے کا نام ہے جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں اگی ہوں، اور ان سے الجھے بغیر اپنا دامن بچا کر تیز قدموں سے منزل کی طرف بڑھنے کا نام ہے“۔ پاکستان میں سیاست دانوں کو سیاست کی علمی بحث کا آغاز کرنا ہوگا۔عرصہ ہوا بحث کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ سیاست عقیدت میں ڈھل جائے۔ پیری مریدی بن جائے، چنانچہ ایک روایت بن چکی ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا گدی نشین ہو جاتا ہے۔اپوزیشن میں شامل تقریباً تمام پارٹیوں کی قیادت سیاسی گدی نشینوں کے پاس ہے۔جب سیاست پیری مریدی کی سطح تک گر جائے تو عالمی قد و قامت کے سیاست دان پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں۔گلی کوچوں میں ”شاہ دولہ کے چوہے“ نظر آنے لگتے ہیں۔جانشینی کے لئے بھائی،بھتیجے اور بیٹی کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے۔کارکن ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں یا گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں۔پاکستان میں ایسے مناظر دیکھے جارہے ہیں۔خطے میں عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لئے کھلے عام منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔افغانستان سے شرمناک پسپائی کے باوجود امریکہ نئی جنگ کے لئے نئے بلاک بنارہا ہے۔اسے اندازہ ہی نہیں کہ 20سال بعد افغان طالبان کے ہاتھوں شکست نے اس کی عالمی ساکھ کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔سعودی عرب نے اپنا پیٹرول بیچنے کا پچاس سالہ معاہدہ چین سے کر لیاہے۔ایران پہلے ہی اسی قسم کا معاہدہ چین سے کر چکا ہے۔پاکستان اپنی غیر جانب داری کا جتنا بھی دعویٰ کرے،اب چین مخالف امریکی کیمپ کا حصہ نہیں بنے گا۔یورپیممالک میں سے بعض سی پیک کا حصہ بن چکے ہیں۔فرانس ایٹمی آبدوز کے معاہدے میں کاروباری حصہ نہ ملنے پر ناراض ہے۔بھارت بھی پہلے جیسا ہنستا کھیلتا ملک نہیں، اپنی اقتصادی مشکلات کے علاوہ نئے داخلی اور خارجی مسائل کا شکار ہے۔چین سرحد عبور کر کے بعض ایسے علاقوں میں بستیاں آباد کر رہا ہے جہاں کچھ مہینے پہلے وہ نظر نہیں آتا تھا۔ خطے میں مفادات کی جنگ چھڑی تو پاکستان کے بارے میں یہ کہنا آسان نہیں کہ وہ امریکی مفادات کے دفاع میں اس کا 20سال پہلے جیسا ساتھ دے گا۔جو ہو چکا سو ہوچکا۔اسے دہرانا ممکن نہیں۔آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف امریکی تابعداری میں جو کچھ کر سکتے تھے،کر چکے۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان ابھی مشکلات سے باہر نہیں نکلا مگر یہ سوچنا یا سمجھنا بھی درست نہیں کہ پاکستان امریکی فون کال پر ”دوست“ والا جواب دے گا۔ایسے نازک حالات میں پاکستان کی سیاست کو بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی۔اپوزیشن کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئی، تمام نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہے۔اہم مسائل پر اس کا رویہ ہمیشہ دانشمندانہ رہا ہے، مستقبل قریب میں بھی کسی محاذ آرائی کی توقع نہیں۔تاہم سیاست ماضی کی طرح سست رو نہیں،ڈیڑھ سال بچا ہے،فوری فیصلے درکار ہیں۔عدالتی موڈ بھی ماضی جیسانرم وملائم دکھائی نہیں دیتا، کم از کم دودن قبل دیاجانے والا اسلام آباد ہائی کورٹ کا12صفحاتی فیصلہ نئی سمت کا واضح اشارہ ہے۔عوام دیکھ رہے ہیں سیاست طویل عرصے سے عدالت کے کمرے میں وضاحتیں پیش کر رہی ہے، تاحال گلو خلاصی نہیں ہوئی۔عام انتخابات کے انعقاد تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہوگا۔ مطلع کافی حد تک صاف ہوگا۔ عوام مہنگائی سے نجات چاہتے ہیں، مگر فیصلہ بیلٹ بکس کے ذریعے سنائیں گے۔سڑکوں پر سنانا ہوتا تو بہت پہلے سنا دیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں