ڈیل کے دعوے بے بنیاد

جس ملک میں سیاست ابھی بلوغت کو نہ پہنچی ہو وہاں جمہوریت بھی عہدِ طفولیت میں ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاست ارتقائی مدارج طے کرکے جمہوریت تک پہنچی ہے۔پاکستان بدقسمتی سے انہیں ممالک میں شامل ہے جہاں سیاست ابھی تک عدالت کے کمرے سے باہر نہیں نکلی،عدالت میں موجودگی سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سیاست نے ابھی تک قانون کی بالادستی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا۔پاکستان میں سیاست بوجوہ قانون سازی کے اختیار اور قانون کے احترام میں ہیئتی فرق کو نہیں سمجھ سکی۔جب تک یہ باریک فرق نہ سمجھاجائے معاشرے کی سمت درست نہیں ہو سکتی۔مغرب سولہویں صدی میں صنعتی دور میں داخل ہوا۔بھاپ سے چلنے والا انجن ایجاد کر لیا،اسی دور میں کتابیں چھاپنے والی مشین بھی مارکیٹ میں آگئی۔سلطنتِ عثمانیہ نے مشین کی مدد سے قرآن کی چھپائی دین مخالف اقدام سمجھا،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان تعلیمی میدان میں مغربی اقوام سے پیچھے رہ گئے۔ ساری ایجادات مغرب نے کیں اور مسلم دنیا ان کے لئے ایک منڈی بن گئی۔پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں تعلیم کا شعبہ آج بھی غیر اہم سمجھا جاتا ہے دنیا کی 300معیاری یونیورسٹیوں میں مسلم ملک کی یونیورسٹی شامل نہیں۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے گزشتہ سال اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ کوشش کریں گے ریاض میں ایک ایسی یونیورسٹی قائم کی جائے عالمی معیار کے مطابق پہلی 10یا 15یونیورسٹیوں میں شامل ہو۔واضح رہیابھی یہ خواہش ہے مثال بننے میں کتنا عرصہ لیگی کچھ نہیں کہہ سکتے۔پاکستان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مفتی محمد تقی عثمانی نے دو روز قبل مدارس کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:”رواں برس گزشتہ برس سے کئی ہزار زیادہ داخلے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی 23ہزار300مدارس سے صرف26الگ ہوئے ہیں“۔اس کے معنے یہ ہوئے کہ صرف26مدارس میں حکومت کے اعلان کے مطابق وہ ایک نصاب پڑھایا جائے گا جو ملک کے دیگر تمام اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور بچے بچیاں معاشرے کے دیگر طلباء کی طرح فارغ التحصیل ہوکر ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل، اکاؤنٹنٹ، اور آئی ٹی ایکسپرٹ بن سکیں گے، باقی مدارس سے سند حاصل کرنے والے ماضی جیسے مساجد کے پیش امام، مؤذن بنیں گے اور گھروں میں جاکر مستقبل میں ڈاکٹر، انجنیئر،وکیل اور اکاؤنٹنٹ بننے والے دیگراسکولوں کے طلباء کو تجویدسے قرآن پڑھانے کا کام کریں گے۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ مذکورہ کنونشن میں 1700سے زائد مدارس اور جامعات کے مہتمم اور منتظمین کنونشن میں شریک ہوئے۔گویا پاکستان تعلیمی میدان میں پسماندہ ہی رہے گا۔اس صورتِ حال کے پیچھے تکلیف دہ غربت اور افلاس کا ہاتھ ہے۔ جو والدین اسکولوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے، کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم نہیں خرید سکتے،ان کے لئے مدارس ہی آخری سہاراہیں۔دو کروڑ سے زائد بچے بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔سرکاری اسکولوں کا حال یہ ہے کہسندھ میں ہزاروں اسکول حکومت نے اس لئے بند کئے کہ وہاں گھوسٹ طلباء اور گھوسٹ اساتذہ تھے۔یعنی تنخواہ لی جارہی تھی، تعلیم دینے والے نہیں تھے۔اس پاکستان کا مقابلہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سے ہے۔مسلم ممالک پیٹرولیم مصنوعات کی آمدنی پر زندہ ہیں، 50سال بعد یہ ذخائر ختم ہوں گے، تب کیا ہوگا؟ اس کے لئے وہ آج فکر مند ہیں۔سعودی عرب سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اپنے قوانین میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے سال کی آمد سے پہلے موسیقی کے بڑے بڑے شو منعقد کر رہا ہے۔ لیکن زندہ رہنے کی خواہش سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔کوئی معاشرہ فاقوں میں مبتلا ہو کر مرنا نہیں چاہتا۔افغانستان 20سالہ امریکی جنگ اورانخلاء کے بعد امریکی پابندیوں کے سبب اقتصادی مشکلات کا شکار ہوا تو دنیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود ان کی مدد کے لئے کھڑی ہوگئی۔اس مقصد کے لئے اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔جس ملک میں سیاست اور جمہوریٹ عہد طفولیت میں ہو وہا ایسے منظر کے سوا کچھ نہیں دیکھا جاتا۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے معروف کالم نگار ڈاکٹروید پرتاپ ویدک نے امریکہ میں جمہوریت کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:”امریکی صدر جو بائیڈن کوجمہوریت کا جھنڈا اٹھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ صدارتی چناؤ میں ہارنے والے ڈونلڈ ٹرمپابھی تک یہ پرچار کر رہے ہیں کہ بائیڈن کی جیت امریکی جمہوریت کا قتل ہے، اسپرچار کی کاٹ بائیڈن کے لئے ضروریتھی۔انہوں نے دوسری وجہ یہ بتائی ہے کہ امریکہ چین اور روس کو نشانہ بنا چاہتا ہے۔دونوں ملکوں سے امریکہ کی تنا تنی چل رہی ہے۔یوکرائن کو لے کر روس سے اور تائیوان وغیرہ کو لے کر چین سے۔ان دونوں سابق کمیونسٹ اقوام کو جمہوریت دشمن بتا کر امریکہ اپنی نئی سرد جنگ کو تقویت دینا چاہتا ہے“۔ کالم نگار اس کے ساتھ ہی کہتے ہیں:”یہ تو ٹھیک ہے کہ روس اور چین جیسے درجنوں ممالک میں مغربی طرز کی جمہوریت نہیں،لیکن کیا بھارت، امریکہ اور یورپ میں سچی جمہوریت ہے؟ بائیڈن نے اپنے بھاشن میں چناؤ کی درستی، شاہی حکومتوں کی مخالفت، آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی حفاظت پر زور دیا ہے اور بھارت نے کرپٹو کرنسی اور انٹر نیٹ پر چلنے والی افراتفری پر زور دیا ہے۔ یہاں سوال یہی ہے کیا ان سطحی معیارات پر بھارت اور امریکہ کی جمہوریت پوری اترتی ہے؟ان میں سے ایک دنیا کی بڑی اور دوسری دنیا کی سب سے بڑی طاقتورجمہوریت کہلاتی ہے۔کیا ان جمہوری ممالک میں ہر شہری کو زندگی جینے کی کم سے کم سہولیات دستیاب ہیں َ کیا یہ سچ نہیں کہ ان دونوں ملکوں میں کروڑ پتیوں اور کوڑی پتیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے؟ ذات پات کی تفریق اور رنگ بھید کی وجہ سے بھارت اور امریکہ کی جمہوریت کیا ہے؟کیا بھارت اور امریکہ میں لوک شاہی کی بجائے نیتا شاہی اور نوکر شاہی کا بول بالا نہیں؟جو لوگ اپنے آپ کو پبلک سرونٹ پرنسپل سرونٹ کہتے ہیں کیا ان میں خدمت کا جذبہ دکھائی دیتا ہے؟ جس دن نوکر شاہوں اور نیتا شاہوں میں سیو کا جذبہ پیدا ہو جائے گا اسی دن بھارت سچی جمہوریت کادعویٰ کرنے کے قابل ہو جائے گا“۔
یہی مسئلہ پاکستان کے شہریوں کو بھی درپیش ہے۔یہاں بھی جولوگ اپنے آپ کو پبلک سرونٹ اور پرنسپل سرونٹ کہتے ہیں ان میں خدمت کا جذبہ نظر نہیں آتا۔اسی جذبے کی پاکستان میں بھی ضرورت ہے۔ جس دن نوکر شاہوں اور نیتا شاہوں میں سیوا کا جذبہ دکھائی دے گا اسی روز پاکستان سچی جمہوریت کا دعوی کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں