منی بجٹ منظور

حکومت نے 168ووٹوں کی مدد سے با آسانی منی بجٹ منظور کرا لیا۔اپوزیشن کے ووٹ150 تھے۔قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر ووٹنگ کے روز جب وزیر خزانہ پرویز خٹک اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان شہریوں کو قدرتی گیس کی فراہمی کے معاملے پر تلخ جملوں کے تبادلے کی خبر میڈیا پر گشت کرنے لگی، اس تلخ کلامی میں پرویز خٹک کی جانب سے ووٹ نہ دینے کی دھمکی اور وزیر اعظم کا”خٹک صاحب مجھے بلیک میل نہ کریں،میرے کارخانے نہیں چل رہے، میری حکومت پسند نہیں تو کسی اور کو دے دیتا ہوں“،جیسے جملے بھی شامل تھے۔کچھ دیر کے لئے وزیر دفاع اٹھ کر باہر چلے گئے تھے، مگر بلانے پر واپس آگئے اور میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا:”میں سگریٹ پیتا ہوں، اس لئے اٹھ کر باہر آگیا تھا!“۔اس کے معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو صرف اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا نہیں، انہیں پارٹی کے اندر بھی پہلے جیسی ہم آہنگی نہیں مل رہی۔بالخصوص خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات(فیز ون)17اضلاع میں پی ٹی آئی جو شکست ہوئی وہ بھی وزیر اعظم کیلئے غیر متوقع تھی۔انہوں نے چندروز قبل کہا تھا:”آئندہ تین ماہ مشکل ہیں!“۔اس میں شک نہیں کہ حکومت کو داخلی اور خارجی محاذ پرہمہ جہتی مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط بڑھتی جارہی ہیں، قسط کی ادائیگی میں ہر بار تاخیر ہوتی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ امریکی مخالفت کا نتیجہ ہے۔لیکن تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ پاکستان سے ہمیشہ ”ڈو مور“ کا تقاضہ کرتارہا ہے۔اس کا مزاج ہی تحکمانہ ہے، اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، اپنے اتحادیوں کو مساوی درجہ نہیں دیتا۔علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی سامنے رہے کہ پاکستان پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا، 21بار پہلے بھی جا چکا ہے۔ان میں سے 13باریہی کام پی پی پی اور پی ایم ایل این کر چکی ہے۔ہمارا مشرقی ہمسایہ مدت ہوئی اپنی داخلی مشکلات کے باوجودآئی ایم ایف سے جان چھڑا چکا ہے۔پاکستان کو بھی بہتر معاشی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیئے تھی۔بیرونی قرضوں کی بجائے خودانحصاری کو ترجیح دی جاتی۔ڈیم تعمیر کئے جاتے تو آج مہنگی بجلی ہمارے لئے سوہانِ روح نہ ہوتی۔2600ارب روپے گردشی قرضے کا بوجھ عوام کی گردن پر نہ ہوتا۔سستی بجلی سے زراعت اور صنعت دونوں شعبے ترقی کرتے۔آج سابق صدر اورپی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کسانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہ نہ کہہ رہے ہوتے:”نہروں میں پانی نہیں آرہا، ایک گھنٹہ ٹیوب ویل چلائیں تو 600روپے بل آتا ہے، سرکاری ریٹ پر گندم فراہم نہیں کی جاسکتی“۔واضح رہے،لوڈشیڈنگ کی پریشانی پرویز مشرف دور سے لاحق ہے۔پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں نے طویل لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لئے ہنگامی بنیادوں پر (ورلڈ بینک کی مشاورت سے) آئی پی پیز سے معاہدے کئے گئے۔جوملک کوگردشی قرضوں کی گہری دلدل کی طرف لے گئے۔ماضی کی تمام حکومتیں دودسرے آپشنز پر غور کئے بغیر متنازعہ کالا باغ ڈیم سے لپٹی رہیں،خان عبدالولی خان کی تجویز نہیں مانی گئی،تربیلہ ڈیم سے اوپر،دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کر لیا جاتا تو آج عوام سکھ کا سانس لے رہے ہوتے۔ تربیلا ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی اس تیزی سے کم نہ ہوتی۔لیکن اس فضول بحث میں قوم کا قیمتی وقت ضائع کر دیا گیا۔اب موجودہ حکومت نے ڈیم بنانے شروع کر دیئے ہیں مگر ان کی تعمیر 2025اور 2028میں مکمل ہوگی۔سستی بجلی اس کے بعد دستیاب ہوگی۔آئی ایم ایف کے کہنے /دباؤ پر اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دی گئی ہے، اس بارے میں عمومی تأثر ہے کہ یہ اقدام ملکی مفاد میں نہیں۔لیکن حکومتوں کو لامحدود قرضے لینے کی اجازت دینا بھی ملکی اورعوام مفاد میں نہیں۔ ملکی معیشت کو قرضوں کی بیساکھی کی عادت پڑ چکی ہے،اس بری عادت کے مضر اثرات سب کے سامنے ہیں۔اصلاح کی ضرورت تھی،اگر یہ فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوا تو اپنی معیشت بہتر بنانے کے بعد قومی اسمبلی اس قانون کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ا س قانون کے نتیجے میں قومی اسمبلی تو آئی ایم ایف کے پاس گروی نہیں رکھی گئی۔قومی اسمبلی جب چاہے گی، مناسب سمجھے گی اس قانون کو تبدیل کرلے گی۔اس قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ یہ قانون دائمی ہے یا اتنی مدت سے پہلے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔قومی اسمبلی روز اول سے ایک قانون ساز ادارہ ہے،اس کے اراکین کو ان باریکیوں کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔عام آدمی ویسے ہی ملکی معاملات سے لاتعلق ہو چکا ہے۔ووٹ ڈالنے کی شرح سے اس کی دلچسپی ناپی جا سکتی ہے۔واضح رہے یہ شرح بھی ٹھپے لگانے کے بعد والی شرح ہے، اصل حقیقت تواس سے بہت کم ہے۔اراکین قومی اسمبلی کی ایسی باتوں سے عام آدمی موجودہ دلچسپی بھی کھو بیٹھے گا۔ عمران خان سے لاکھ سیاسی مخاصمت ہو تب بھی عام آدمی سے سچ بولا جائے۔کیا اپوزیشن اتنی بھولی کہ اپنے بے بنیاددعووں کے کھوکھلے پن سے خود بھی واقف نہیں۔ عوام جانتے ہیں،ان ہاؤس تبدیلی سے پہلے ایک ایسی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے جس کی قیادت سٹنگ وزیر اعظم سے زیادہ بھاری بھرکم شخصیت کرتا نظر آئے، اس کی ٹیم میں موجودہ کابینہ کے مقابلے میں زیادہ پرکشش اور قابل بھروسہ سیاستدان دکھائی دیں۔کسی غیر مرئی قیادت پرعوام اعتماد نہیں کیا کرتے۔ساڑھے تین سال کم مدت نہیں ہوتی کہ اپوزیشن اس دوران عوامی موڈ کو نہ سمجھ سکے۔پی ڈی ایم لاکھ انکار کرے مگر سچ یہ ہے کہ اس نے نہایت عجلت میں حکومت گرانے کا اعلان کردیاتھا۔یہ بھی طے نہیں کیا گیا کہ پی ڈی ایم کی اصل قیادت کس کے پاس ہوگی، مشترکہ بیانیہ کیا ہوگا۔ اتحادی پارٹیوں کی حیثیت کیا ہوگی؟کیا اس وقت صرف مدرسوں کے طلباء میں اتنی سیاسی قوت موجود تھی کہ نوزائیدہ/ منتخب شدہ حکومت کو گھر بھیج دیں۔کیا مسلم لیگ (نون) میں شدید
گروہ بندی کا شکار نہیں تھی۔اس میں بیانیے کہ جنگ جاری نہیں تھی؟چچا بھتیجی ایک دوسرے کو ناپسند نہیں کرتے تھے؟جہاں مریم نواز جاتیں وہاں شہباز شریف نہیں جاتے تھے۔ کیا سینیئر اراکین نے کھلے الفاظ میں مریم نواز کو اپنا لیڈر ماننے سے انکار نہیں کیاہوا تھا؟یہ سب کچھ دیکھے، اتحادی جماعتوں سے مشاورت کئے اور ان کی رضامندی لئے بغیر گوجرانوالہ جلسے میں، لندن میں مقیم میاں محمدنواز شریف سے تقریر کرانا درست اقدام تھا؟پاکستانی سیاست سے باخبر مبصرین اور خود مریم نوازنے اسی روز دبے لفظوں میں کہہ دیاتھا پی ڈی ایم اس بیانئے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔اس کے باوجود خطاب کرایا گیا۔چنانچہ کراچی میں پی پی پی کے زیر اہتمام جلسے میں نواز شریف خطاب نہیں کر پائے۔اب منی بجٹ کی منظوری کے فوراً بعد ان ہاؤس تبدیلی کا نعرہ لگانادانشمند نہیں۔ اکثریت ہر اجلاس میں حکومت کا ساتھ دیتی ہے۔مزید حالات لانگ مارچ کے دوران واضح ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں