حکومت کو اسحاق ڈار کا گھر نیلام کرنے کی اجازت مل گئی

اسلام آباد:حکومت کو مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کا گھر نیلام کرنے کی اجازت مل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ کی لاہور میں گھر نیلامی کے خلاف درخواست مسترد کردی اور عدالت نے اسحاق ڈار کے گلبرگ تھری لاہور میں واقع گھر حکومت کو نیلام کرنے کی اجازت دے دی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھر کی نیلامی پر دیا گیا اسٹے آرڈر بھی ختم کردیا ہے۔واضح رہے احتساب عدالت نیسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد نیلام کرنے کا حکم دیا تھا، فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سنایا تھا، عدالت نے سابق وزیر خزانہ کی جائیداد نیلام کرنے کی نیب کی درخواست منظور کی، احتساب عدالت نے گاڑیاں اور گلبرگ والی جائیداد فروخت کرنے کا حکم دیا جب کہ بینک اکانٹس کو صوبائی حکومتوں کو اپنی تحویل میں لینے کی ہدایت کی تھی۔لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما کی اس رہائش گاہ کو گذشتہ سال لاہور کی ضلعی حکومت نے اپنی تحویل میں اس وقت لے لیا تھا جب قومی ادارہ برائے احتساب (نیب)نے ان کی تمام جائیداد ضبط کر لی تھی، احتساب عدالت کے اس فیصلے کی روشنی میں حکومتِ پنجاب نے اسحاق ڈار کی اس جائیداد کو نیلام کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف تبسم اسحاق ڈار نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا تھا۔یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ملزم اسحاق ڈار کی جائیداد کی قرقی کے احکامات 14 دسمبر 2017 کو دیے تھے اور نیب نے عدالتی حکم پر ملزم اسحاق ڈار کی پاکستان میں جائیداد 18 دسمبر 2017 میں قرق کر لی تھی جب کہ سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں