عجیب و غریب میڈیکل رپورٹ
مسلم لیگ نون کے تاحیات رہبر ملک کے تین بار کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان کی عدالتوں (اور حکومت)کی اجازت سے ایک انتہائی پیچیدہ اور مخدوش بیماری (خون میں پلیٹ لیٹس کی شدیدکمی)کا شکار ہونے کی بناء پر بیرون ملک بغرض علاج چلے گئے تھے تاکہ اپنے دل کے اسی معالج سے علاج کراسکیں جس نے ماضی میں ان کاعلاج کیا تھا۔میاں محمد نواز شریف اس وقت ایک سزا یافتہ قیدی کے طور میں جیل میں قید تھے اور جیل سے ہی انہیں لاہورکے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔یہ دنیا کی عدالتی تاریخ کی پہلی(اور شاید آخری) مثال ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو کسی عدالت نے ایسے اسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دی ہو جو ایک غیر ملک میں قائم ہو، اور پاکستان کااس ملک کے ساتھ مجرموں کی واپسی /حوالگی کا کوئی معاہدہ بھی نہ ہو۔ان دنوں مسلم لیگ نون کے تمام رہنما، پاکستانی پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا میاں نواز شریف کی بیماری کے بارے میں ہر گھنٹے کی رپورٹس نشر اور ایسے خدشات کا اظہار کر رہے تھے، جیسے فیصلہ کرنے میں معمولی سی تاخیر بھی مریض کے لئے جان لیوا ہو سکتی ہے۔آخری میڈیکل رپورٹ میں تو یہ کہا گیا تھا کہ پلیٹ لیٹس کی تعداد اس قدر گر چکی ہے جس میں کسی انسان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں۔(واقعی یہ حیران کن اور ناقابلِ یقین رپورٹ ریکارڈ کاحصہ ہے، جو چاہے دیکھ سکتا ہے)۔مریض کو 8ہفتے بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔واپسی کی یقین دہانی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور سزا یافتہ بیمارقیدی کے بھائی میاں شہباز شریف نے50 روپے کے اسٹامپ پیپرپرکرائی تھی۔لیکن بیرونِ ملک لے جانے والے جہاز میں سوار ہوتے وقت جس جسمانی کیفیت کا مظاہرہ مذکورہ بیمار سزا یافتہ قیدی نے کیا وہ وزیر اعظم عمران خان سمیت ہر پاکستانی کے حافظے میں آج بھی محفوظ ہے۔مزید برآں مریض نے لندن پہنچ کر بھی کسی اسپتال میں داخلہ لیا اور نہ ہی کوئی علاج کرایا۔گھر پر رہے اور اپنی پسندکے ہوٹلوں میں جاکر اپنی پسند کی غذائی اشیاء بھی کھاتے،پیتے رہے۔اپلندن قیام کے دوران میاں محمد نواز شریف نے کوئی ایسی میڈیکل رپورٹ نہیں ارسال کی جسے عدالت نے تاحال دوست تسلیم کیا ہو۔ آخری دستاویز جو بیرونِ ملک مقیم سزا یافتہ قیدی مجرم نے بھجوائی ہے وہ ایک ایسے ڈاکٹر کیذاتی رائے ہے جولندن کی بجائے امریکہ میں رہائش پذیر ہے،اور اپنی رائے قائم کرنے کوتقویت دینے کے لئے مذکورہ ڈاکٹر نے کوئی میڈیکل ٹیسٹ نہیں کرایا، نہ میاں نواز شریف(سزا یافتہ قیدی/ بیرونِ ملک برطانیہ/لندن)نے لندن سے کوئی رپورٹ امریکی ڈاکٹر کو، اس کی ماہرانہ رائے پوچھنے کے لئے مدد کے طور پرارسال کی تھی۔امریکی ڈاکٹر کا کوئی میڈیکل ہسٹری جانے بغیر (لندن میں مقیم مریض کے بارے میں)ماہرانہ رائے دینا قانونی اور طبی پیرائے میں کس حد تک قابل قبول ہوگا اس کا فیصلہ اسیعدالت نے کرنا ہے جس نے بیرون ملک جانے کے لئے حکومت (وزیر اعظم عمران خان)سے براہ راست یہ سوال کیا تھا:”اس دوران مریض کی جان نہجانے کی ضمانت تم دیتے ہو؟“، وزیر اعظم کا جواب تھا:”میں اپنی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا، نواز شریف کی زندگی کی ضمانت کیسے دے سکتا ہوں؟“۔چنانچہ عدالت نے ضامن اور ”مریض“ دونوں برادران کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔ شہباز شریف پاکستان واپس آگئے لیکن اپنے جس بھائی کی انہوں نے ضمانت دی تھی، وہ تا امروز برطانیہ میں مقیم ہیں۔یاد رہے کہ کوئی مبصر/تجزیہ کار ایسے معاملے میں جو عدالت میں زیر سماعت ہو، کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا، یہ تبصرہ قانون کی نظر میں ”مقدمے پر اثر انداز ہونے کے مترادف“ سمجھا جا سکتا ہے۔اسی قسم کا ایک مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج کل زیر سماعت ہے،احتیاط سے کام لیاجانا چاہیئے۔جو کچھ کہنا ہے ضامن، بیرونِ ملک مقیم سزایافتہ مکرم ار ار سرکاری وکلاء نے عدالت کے روبرو کہنا ہیت اور یہ سب کچھ بہت جلد عدالت میں تحریری اور زبانی طور پر متعلقہ فریقین کہہ دیں گے، جمع کرا دیں گے۔ساری حقیقت سب کے سامنے آجائے گی۔اس کے بعد قانون اپنا راستہ بنائے گا۔جو مزید تفصیلات یا تبصرے سننا چاہیں وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاپر ماہرانہ رائے دیکھ سکتے ہیں۔بے صبری دکھانے کی بجائے صبروتحمل سے کام لیا جائے۔مجاز اداروں کو قانون کی روشنی میں کام کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیئے۔اگر کسی نون لیگی رہنما نے عدالت کے وقار کے منافی اور دھمکی آمیز کوئی نبیاندیا ہے تو اس پرطجو کارروائی م،ناسب ہوگی، مجاز عدالت خود کرے گی یا حکومت اس حوالے سے کارروائی کی درخواست کر سکتی ہے۔نئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے اگلے روز سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمدکے اعزاز میں دیئے گئے ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ججز کو بدنام کرناغیر آئینی،غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے، اس کے خلاف کچھ کرنا ہوگا۔عدالت کاکام عدالت کرے گی تب ہی ملک میں عدلیہ کاوقار بلند ہوگا۔ عالمی درجہ بندی 139ممالک کی فہرست میں کارکردگی کے لحاظ سے پاکستانی عدلیہ کا نام130نمبر پر دیکھ کر ہر قانون کا احترام کرنے والے پاکستانی کو دلی رنج ہوا۔مٹھی بھر قانون شکن ذہنیت کے افراد کے علاوہ پاکستان کے 23،24کروڑ شہری لاقانونیت کا خاتمہ اورملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔تمام پاکستانیوں نے نئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کے قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لئے عدالتی آڈٹ کی تجویز کو سراہا اور اس کی تائید کی ہے۔عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے اثرات سے پاکستان کے عوام واقف ہیں۔جسٹس منیر کی جانب سے نظریہئ ضرورت کو آئین سے بالا تر قرار دینے کے افسوسناک نتائج تاریخ کا حصہ ہیں۔اسی طرح حکمران سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے سپریم کورٹ پر حملے کے بعد جس طرح کا محکومانہ اور غلامانہ کردار ملک عبدالقیوم اور ملک ارشد جیسے ججز کی جانب سے ادا کیا گیا،وہ بھی قابل مذمت ہے۔ عدالتی آڈٹ سے یہ دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔قانون کی بالادستی رائج اور نافذ کرنے والے ممالک میں آج قانون کی حکمرانی دیکھی جاسکتی ہے۔وہاں امیر اور غریب مجرم کے لئے الگ الگ دو قانون نہیں، پاکستان کا ایک طاقتور اور مالدار مجرم لندن سے جس قسم میڈیکل”رپورٹس“ بھیج کر عدلیہ کا مذاق اڑا ہے ایسی جرأت کوئی برطانوی مجرم نہیں کر سکتا۔پاکستانی ججز نظریہئ ضرورت کو جتنی جلدی دفن کریں گے، پاکستان میں اتنی جلدی قانون کی بالادستی قائم ہو سکے گی۔


