پاکستان کی معیشت کب سدھرے گی؟
آج کل بیشتر پاکستانیوں کی زبان پر مہنگائی بڑھنے کی شکایت ہے، فروری کے بل میں فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے۔حکومت اس کی وجہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کو بجلی مہنگی ہونے کی وجہ قرار دیتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ وجہ درست ہے یاغلط؟ عام آدمی کا سوال یہ ہے کہ وہ محدود آمدنی سے گذارہ کیسے کرے؟اپنے بچوں کو کیسے پالے؟انہیں تعلیم کیسے دلائے؟سرساکاری اسکولوں کی حالت سے سب واقف ہیں بیشتر کا وجود کاغذات اور فائلوں میں ہے، زمین پر نظر نہیں آتے۔جو نظر آتے ہیں وہاں ٹیچر نہیں آتے۔ ان کی تعلیمی استعداد کا یہ عالم ہے کہ جب بھی عالمی دباؤ کے تحت یا دیگر وجوہات کی بناء پر حکومت کسی ٹیسٹ کاتقاضہ کرتی ہے، ٹیچرز تنظیمیں احتجاج کی دھمکی دیتی ہیں۔والدین پرائیویٹ اسکولوں میں بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہیں۔حالت ان نجی اسکولوں کی بھی مثالی نہیں، مگر سرکاری اسکولوں کی کارکردگی سے بہتر ہیں۔عام آدمی حکومت سے یہ پوچھ رہا کہ مہنگائی میں ہر پندرہ روز بعد اضافہ کیوں ہو جاتا ہے؟ غریب آدمی اور متوسط طبقے کے سفید پوش کی جانب سے پوچھا جا رہا ہے:
”ہم زندہ کیسے رہیں؟“
وزیراعظم پہلے جواب دیتے تھے:۔۔۔”گھبرائیں نہیں!“،۔۔۔اب مسکراتے ہیں،کچھ دیر خوموش رہتے ہیں اوراس کے بعد دنیا میں مہنگائی والا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔جو غریبوں کو ازبر ہو چکا ہے۔ اور ان کے خیال میں سوال کا درست جواب نہیں دیا جا رہا۔دوسری جانب پی ڈی ایم کی کال پر عوام کا گھروں سے نہ نکلنا اپنی جگہ ایک مشکل اور سنجیدہ سوال ہے۔اس سوال کا جواب اپوزیشن کو دینا ہے۔ جب تک پی ڈی ایم اس سوال پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی،وہ درست حکمت عملی وضع کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔اور درست حکمت عملی وضع کئے بغیر ساڑھے تین سال پرانے نعروں کی مدد سے عوام کو گھروں سے نہیں نکالا جا سکتا۔عوام کو بے رحم اور بے قابو مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے حکومت کی تبدیلی اپوزیشن ضروری سمجھتی ہے،اس کی اولین ترجیح حکومت کی تبدیلی ہے۔لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کی تبدیلی کوئی آسان کام نہیں کہ ادھر اپوزیشن نے حکومت کے گھر جانے کا مطالبہ کیا اور اگلے روز حکومت رضاکارانہ طور پر اپنا بوریا بستر باندھ کر خاموشی سے اپنے گھر چلی جائے گی۔نہ ماضی میں ایسا ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونے کی توقع ہے۔عدالتی تحقیقاتی کمیشن بنوانے کے لئے اسلام آباد کا لاک ڈاؤن کرنا پڑتا ہے، چاروں صوبوں سے افرادی قوت کو اسلام آباد پہنچاناایک مشکل مرحلہ ہے۔احتجاج کے لئے جانے والے سیاسی کارکنوں کو روکنے کے لئے صوبائی سرحدوں پر رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری سے مقابلہ کرکے آگے بڑھنا جانی و مالی نقصان کے بغیر ممکن نہیں۔اگر حکومت روکنے پر ڈٹ جائے تو یہ سفر طویل ہوجاتا ہے۔ٹی ایل پی آخری بار اسلام آباد نہیں پہنچ سکی۔سمجھوتوں اور معاہدوں سے معاملہ آگے نہیں بٹھا، متعدد اہم اور بنیادی نوعیت کے مطالبات سے دست بردار ہونا پڑا۔سری لنکن منیجر کے بھیانک قتل نے پی ٹی ایل کو بھی یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ملزمان اور مجرمان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔عوام کی بھرپور جذباتی اور ذہنی شرکت تحریک کی کامیابی کی بنیاد ہے۔پی ایم ڈی ابھی حکومت ہٹانے کا کوئی ٹھوس، واضح اور نظر آنے والا پروگرام نہیں دے سکی۔ تیاری کے لئے اپوزیشن کو بھی وقت درکار ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اپوزیشن ادھوری، نامکمل، عوام کو سڑکوں لائے بغیر صرف ان ڈور تبدیلی کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔بعض میڈیا ذرائع کے مطابق حکومتی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن اہم رہنمااس حوالے سے بیک وقت دو نئی سیاسی پارٹیاں میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں بلکہ وہ تودونوں متوقع سیاسی پارٹیوں کا نام بھی بتا رہے ہیں۔سیانے سچ کہتے ہیں:”پاکستان میں جمہوریت ابھی گھٹنوں کے بل چل رہی ہے۔اس نے اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر چلنا سیکھا ہی نہیں“۔ان کی بات میں وزن ہے۔اپوزیشن گزشتہ ساڑھے تین سال سے یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ خود حکومت کو گھر بھیجے گی، اس نے ہمیشہ ”لانے والوں“ سے درخواست کی ہے کہ اس حکومت ہٹایا جائے۔خیبر پختونخوا میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تھوڑی بہت کامیابی کو ”ایمپائر“ کا نیوٹرل ہونا قرار دیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ ہم عوامی ووٹوں کے بل پر جیتے ہیں۔ اس لئے کہ دوسرا مرحلہ ابھی باقی ہے، اس کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن کیا کہے گی، کسی کو کوئی اندازہ نہیں۔پہلے مرحلے میں جن سیٹوں پر اپوزیشن کے امیدوار جیتے ہیں وہاں ہائی کورٹ نے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں لازمی نہیں کہ ووٹرز اپنی رائے پر دیر تک قائم رہیں۔پی ٹی آئی کو ضمنی انتخابات میں لگاتار شکست ہوئی۔ لیکن میڈیاپر کئے جانے والے مبصرین کے دعووں کوبھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اول تو پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ جملہ واقفان حال کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ۔۔۔”حالات بدل گئے ہیں“۔یہ بھی اپنی جگہ معنی خیز اور چشم کشا ہے۔سیاست کت نشیب و فراز سے باخبر ہیں۔ساری عمر سیاست دانوں کے جھرمٹ میں گزاری ہے۔مقتدر حلقوں کے مزاج سے بھی جتنے وہ واقف ہیں دوسرا کوئی نہیں۔زیرک اتنے کہ سب انہیں بیک وقت اپنا سمجھتے ہیں۔پی پی پی کے نمائندے کی حیثیت سے مسلم لیگ نون کی قیادت سے ملاقات کرتے ہیں، وزیر بن کر لوٹتے ہیں۔اگر یہ جملہ کوئی اور کہتا تو اس میں اتنی گہرائی، گیرائی اور وسعت نہ ہوتی۔حالات میں یقینا ایسی کوئی تبدیلی ضرور آئی جسے ان کی باریک بیں آنکھوں نے دیکھ لیا ہے۔محلاتی سرگوشیاں سننے والے حساس کان نہ ہوں تواقتدار کی راہداریوں میں چلنے والوں کے قدموں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔واضح رہے تمام کان یکساں قوت سماعت نہیں رکھتے۔بزرگ کہہ گئے ہیں: دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے انہوں نے غلط نہیں کہاتھا۔ سرگوشیاں دیواروں سے چھن کر باہر پہنچتی ہیں، پھر دھیرے دھیرے یہ چاروں سمت پھیل جاتی ہیں /پھیلائی جاتی ہیں۔گھر گھر سنائی دینے لگتی ہیں۔کمپاؤنڈے چوکیدار سے بس کنڈکٹر تک پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوتا ہے: ”امریکہ نے فیصلہ کرلیا بھٹو نہیں رہے گا“۔اگلے روز دنیا دیکھ لیتی ہے واقعی بھٹو نہیں رہا۔ایک بار پھر سرگوشیاں پھیلنے لگی ہیں۔خدا خیر کرے!


