ماسکو دورہ کے اثرات؟
وزیر اعظم عمران خان کے دوروزہ ماسکو دورے کے یقینا دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔اس دورے کی دعوت روس کے صدر ولادیمیرپوٹن نے سرمائی اولمپکس میں شرکت کے موقع پر دی تھی۔ اس دورے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں کئے گئے توانائی کے معاہدوں سمیت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی تعلقات کو بہتر بنانا شامل تھا۔امریکہ کی جانب سے پاکستان کو اس دورے کو منسوخ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔یہ مشورہ پاکستان نے نہیں مانا اور وزیراعظم عمران خان طے شدہ شیڈول کے مطابق ماسکو پہنچ گئے۔ان کی موجودگی میں روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔بعض سیاسی مبصرین کی رائے تھی اور اب بھی وہ اپنی رائے پر قائم ہیں کہ وزیراعظم کویہ اطلاع ملتے ہی ماسکو سے واپس آجانا چاہیئے تھا۔جبکہ مبصرین کی غالب اکثریت سمجھتی ہے کہ دورہ منسوخ کرنایا ادھورا چھوڑ کر واپس آجانا پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا۔ بلکہ بعض مبصرین پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی جانب سے ماسکو کی دعوت رد کر کے واشنگٹن جانے کے فیصلے پر بھی مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں کہ انہیں پہلے ماسکو جانا چاہیئے تھا۔ مستقبل میں کیا ہوگا اس پر صرف اندازے لگائے جا سکتے ہیں، قیاس آرائیاں ہو سکتی ہیں مگر 1950سے 2022تک کی تاریخ ہمارے سامنے ہے،سیاسی وابستگیوں اور گروہی تعصبات سے بالا ہوکرتمام حقائق سامنے رکھیں،غیر جانبدارانہ تجزیہ ممکن ہے۔پاکستان نے ہمسایہ ملک کی دعوت کی بجائے سات سمندر پارواقع امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔پشاور کے قریب بڈہ بیر کی ایئر بیس بھی امریکہ کے حوالے کردی جہاں سے امریکی جاسوس طیارے اڑکر روس کی جاسوسی کرتے تھے۔ جب صدرمحمدایوب خان کے دور میں روس نے امریکی جاسوس طیارہ مار گرایا تو روس نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اس نے پشاور کے گرد سرخ نشان لگا دیا ہے۔یعنی پاکستان کو اپنے دشمنوں میں شامل کر لیا ہے۔دیگر عوامل کے علاوہ اس دشمنی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔1950میں پاکستان کے پاس کسی بلاک کا حصہ بننے کی بجائے غیر جانبدار کیمپ کا حصہ بن سکتا تھا جیسا کہ بھارت نے کیا تھا۔آج بھی روس یوکرین سے یہی مطالبہ کر ہا ہے غیر جانب دار رہنے کی ضمانت دے۔معمولی سوجھ بوجھ کا شخص بھی یہی کہے گا کہ ہمسائے سے تعلقات دوستانہ رکھے جائیں۔ہمسایہ اول و آخر ہمسایہ ہوتا ہے۔ہمسائے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اس لئے کہ دونوں کے دکھ اور سکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کی مددکو سب سے پہلے ہمسائے ہی پہنچتے ہیں۔دوسری جانب دیکھیں،امریکہ نے 31 سال بعد یوکرین کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو اس نے 1971میں پاکستان کے ساتھ کیا تھا۔چھٹا امریکی بیڑہ بھیجنے کا اعلان کیا مگر کبھی اس اعلان پر عمل نہیں کیا۔تاشقند معاہدہ روس کی ثالثی میں ہوا۔1971میں واشنگٹن کا رویہ جو بائیڈن سے مختلف نہیں تھا۔پی پی پی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو روس سے تعلقات بہتر ہوئے۔اسٹیل مل لگی۔ اس کے علاوہ بھی متعددصنعتی شعبوں میں روس نے مدد کی۔لیکن روس نے جب افغانستان میں اپنی فوجیں اتاریں تو پاکستان نے اس اقدام کو افغان عوام اورپاکستان کے مفادات کے خلاف سمجھا اورافغان جہادی رہنماؤں کی مدد کی۔افغان مزاحمت بڑھتی چلی گئی چنانچہ10سال بعد روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔یہ بھی یاد رہے کہ 2001میں امریکہ نے پاکستان سے فون پر پوچھا: ”تم ہمارے دوست ہو یادشمن؟“،پاکستان نے دوست ہونے کا اقرار کیا۔اور اس دوستی کے نتیجے میں جو کچھ ہوا، سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،سب کو یاد ہونا چاہیئے۔Do moreکی ہدایت ملتی رہی، ڈالر لے کر کام نہ کرنے کے طعنے دیئے گئے۔امریکی تھنک ٹینک 1945میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گراکر آج تک یہی سمجھتے ہیں کہ امریکہ ساری دنیا کا ”مہا راجہ“ ہے،ان کے خیال میں دنیا میں جتنے بھی ”آزاد“ ملک ہیں،سب امریکہ کی باجگزار ریاستیں ہیں۔اسی سوچ کے نتیجے میں امریکی فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ کسی کوسر اٹھا کر بات کرنے اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کی خواہش ہے دنیاصرف امریکی اسلحہ خریدے۔اس سے زیادہ امریکہ کچھ دیکھنے کو سرے سے تیار ہی نہیں۔دھونس اور دھمکی اس کی خارجہ پالیسی کا محور ہیں۔مگراندر سے حد درجہ ڈرپوک اور بزدل ہے۔ کسی طاقتور ملک سے براہ راست نہیں لڑتا،حملے سے پہلے ہر جگہ ایک فرنٹ مین کو”صدام حسین“ کی طرح اصل ہدف (ایران)پر حملہ کے لئے تیار کرتا ہے اور بالآخر اپنے فرنٹ مین کو پھانسی دلواتاہے تاکہ رازوں پر سے کبھی پردہ نہ اٹھے۔موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہی معلوم ہوگا کہ یوکرین کے صدرزیلنسکی نے امریکی بول بچن پر عراقی صدر صدام حسین کی طرح اعتماد کر لیا،اور روس کو آنکھیں دکھانے لگے کہ امریکہ، برطانیہ اور 27یورپی ممالک کی افواج انکے ساتھ میدان میں اتریں گی،اور تنہا روس ساری دنیا سے نہیں لڑ سکے گا۔روس نے امریکی بلاک کے منصوبے کو بھانپ لیا اور پہل کردی۔چین نے بھی روس کے اس اقدام کو ایک انتظامی مسئلہ کہہ کر روس کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔روس کی پہلکاری سے امریکی تھنک ٹینکس کے اندازے غلط ثابت ہوئے،اور وہ حسب عادت بوکھلاہٹ میں وہ سب کچھ کرتے چلے گئے جوان کا ماضی ہے۔یوکرینی صدر روس کو تنہا کرنے کی بجائے خود تنہا ہو گئے۔ آج جذباتی کیفیت میں دنیا سے شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔رورہے ہیں، قوم سے بھی اپنی غلطی کی معافی مانگ رہے ہیں۔امریکہ نے انہیں 600ملین ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے،یوکرینی صدر نے جواباً کہا کہ انہیں اسلحہ چاہیے، فرار ہونے کے لئے ”سواری“ نہیں چاہیئے۔ گویا انہوں نے اشرف غنی بننے سے انکار کردیا ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے زبانی طورپر اسلحہ بھیجنے کی حامی بھری ہے،مگر کیا اسلحہ پہنچنے تک یوکرینی صدر مزاحمت کر سکیں گے؟موجودہ تناظر میں یہ ایک مشکل سوال ہے اوراس کافوری سو فیصد درست جواب نہیں دیا جا سکتا۔روس کے تیور بتاتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو طول دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔مختصر ترین وقت میں اسے نتیجہ خیز بنانا چاہتا ہے۔اس نے یوکرینی صدر کی مذاکرات کی پیشکش مان لی تھی مگر مقام کا تعین نہیں ہوسکا۔لیکن یاد رہے کہ میدان جنگ کے تقاضے زمانہئ امن سے مختلف ہوتے ہیں۔جنگ کی طوالت دنیا کو مہنگی پڑے گی۔


