بھٹو کی سیاست کبھی ختم نہیں ہوگی

جو لوگ آج سڑکوں پر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ(ذوالفقار علی) بھٹو کی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ اپنے الفاظ کے مفہوم سے بے خبر ہیں، یا دانستہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ان میں سے بیشتر کل تک خودبھی عوام کے روبرو”جئے بھٹو“ اور ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔انہیں یاد ہوگا بھٹو شہیدنے اپنا سیاسی فلسفہ چار مختصر جملوں میں سمو کر پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کیا تھا۔یہ چار جملے تھے:
اسلام ہمارامذہب ہے،
جمہوریت ہماری سیاست ہے،
سوشلزم ہماری معیشت ہے،
طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
کیا پاکستان میں کوئی سیاستدان ان میں سے کسی ایک جملے یا سلوگن سے انکار کی جرأت کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف اور انہیں کوہالہ کے پل پر لٹکانے کا نعرہ لگانے والے جب چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹرجنرل محمد ضیاء الحق کے نمائندہ کی حیثیت سے چین کے دورے پر گئے تو واپسی پر انہوں نے میڈیا کے روبرو انکشاف کیا کہ ”اسلام“ چین میں،پاکستان میں ”اسلام آباد“ہے۔آج چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان بھی ہردوسرے تیسرے دن یہی مفہوم دوسرے الفاظ میں اداکرتے دکھائی دیتے ہیں۔انہیں چین میں ریاست مدینہ کا عکس نظر آتا ہے۔سعودی عرب کے بادشاہ والے اختیارات کے متمنی ہیں اور امریکی صدارتی جمہوریت کے خواہشمند ہیں۔سیاسی اعتبار سے پی ٹی آئی وہیں کھڑی ہے جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنی پارٹی کا آغاز کیا تھا۔ بلکہ آج کل صدارتی نظام کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔نواز شریف کو بھٹو سیاسی فکر کے مخالف کے طور پر لایا گیا۔مگر الانے والوں نے پرویز مشرف کے دور میں دس سال کے جلاوطن کر کے انہوں نے اپنی غلطی سے رجوع کرلیا۔یہ پی پی پی کی بہادر چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی فہمیدہ اور جرأت مندانہ سیاست تھی جس نے دس سالہ جلاوطنی کے دستخط شدہ معاہدے کے باوجود شریف فیملی کو وطن واپس آنے کا موقعہ فراہم کیا۔یہ زیادہ پرانی بات نہیں، ماضی قریب میں رونما ہونیوالے واقعات ہیں۔انہیں ذہن میں رکھا جائے۔ تعصب کا چشمہ اتار کر دیکھا جائے توآج بھی ملک میں سیاست کی عمارت بھٹو کے بیان کردہ چار اصولوں / ستونوں پر کھڑی نظر آئے گی۔چین سے دوستی کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی۔روس سے دوستی کی راہ ذوالفقار علی نے ہموار کی۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔اس تاریخی سچائی سے کوئی کیسے انکار کرے گا کہ پاکستان میں سیاست کوڈرائنگ روم سے نکال کرعوام تک ذوالفقارعلی بھٹو نے پہنچایا۔مزدوروں کوصنعت میں ایک فریق کی شناخت دی۔سہ فریقی کانفرنس منعقد کی۔یوم مئی منا کر عالمی مزدور برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا۔پاسپورٹ عام آدمی کے ہاتھوں تک پہنچایا، انہیں بیرون ملک روزگار جانے کی اسی سہولت کا نتیجہ ہے کہ لاکھوں اوورسیز پاکستانی آج دنیا بھر میں نہ صرف آباد ہیں بلکہ ان کی بیرون ملک سے بھیجی گئی رقوم سے پاکستان کا تجارتی خسارہ پورا ہوتا ہے۔بھٹو شہید کو سیاسی منظر سے نہ ہٹایا جاتا تو ملک آج دیوالیہ قرار دیئے جانے کے خطرات سے دوچار نہ ہوتا۔ملکی معیشت اس قدر خراب نہ ہوتی۔یہ بھٹو شہید کی سیاست ہے جس نے پاکستان کو عالمی برادری میں ایک باوقار مقام دلایا تھا۔عربوں کو احساس دلایاکہ پیٹرول کو بھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اور عرب ممالک نے 1973-74کے موسم سرما میں اس ہتھیار کو استعمال کیا، اپنی حیثیت منوائی۔جس امریکہ کو آج حکومت بے وفائی کے طعنے دے کر کسی بلاک میں شامل نہ ہونے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کر رہی ہے اسے ماننا چاہیئے کہ یہ سہولت بھٹو کی جرأت مندانہ اور دانشمندانہ سیاست نے فراہم کی ہے۔ اپنی ہر تقریر کا آغازصنعتوں کے قومیائے جانے سے نہ کیا جائے، اس وقت کے عالمی سیاسی و معاشی رجحان کو بھی سامنے رکھا جائے۔یہ بھٹو دور کا تجربہ ہے جس نے پاکستان کے معاشی پالیسی سازوں کو یہ سوجھ بوجھ عطا کی ہے کہ ان مفاد پرست بیوروکرٹس پر کبھی بھروسہ نہ کرنا، اپنی ٹیم پر اعتماد کرناوہی ملک کی معیشت کودرست سمت پر لا سکیں گے۔یہ بھی یادرہے کہ صرف نعرے بازی کام نہیں آتی، عوامی مسائل کوحل کرنا بھی لازمی شرط ہے۔پی پی پی کی قیادت نے جو کیا اسے علم ہے۔وہ اپنی حکمت عملی ملک کے سیاسی و معاشی تقاضوں کے مطابق مرتب کرتی ہے۔اسے پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو مشورے دینے کا حق حاصل نہیں۔یاد رہے پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹوشہیدپارٹی منشور میں طے کر چکے ہیں:”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“۔فیصلہ عوام کریں گے۔ جس پارٹی کی کارکردگی انہیں بہتر دکھائی دے گی عوام اسی کو ووٹ دیں گے۔سیاست میں شائستگی برقرار رہے تو اس کا فائدہ سب کو ملے گا۔گالم گلوچ سے گریز کیا جانا چاہیے۔مہذب معاشرے میں گالم گلوچ کوپسندیدہ عمل نہیں سمجھا جاتا۔گالم گلوچ سے انسان کا اپناباطن جھلکتا ہے۔ہر سیاستدان کواس بات کا خیال رہے کہ عوام سے خطاب کے دوران گفتگو کے آداب کو فراموش نہ کیا جائے۔سیاست کی توقیر کا خیال رکھا جائے۔ سیاست کو بے توقیر نہ کیاجائے۔ورنہ یاد رہے کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ حکومت گرانی ہے یا بچانی ہے؟ دونوں فریق عوام تک اپنا مافی الضمیر پپہنچانے کا حق رکھتے ہیں۔اپنا مافی الضمیر پہنچایا جائے، دشنام طرازی نہ کی جائے۔پاکستان کے عوام مشکلات سے دو چار ہیں،اس میں کسیکو شک نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت کے بس میں جو ہے وہ اسے عوامی مفاد میں یقینا استعمال کرے گی۔کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ عوام کے سامنے جائے تو عوام اس سے نفرت کا اظہار کریں۔اسی طرح اپوزیشن بھی یہ نہ سمجھے عوام اس کا ماضی بھول چکے ہیں، اس صرف اس لئے معافی مل جائے گی کہ وہ 2018سے اقتدار میں نہیں تھی۔لوگ بہت کچھ پوچھیں گے۔اس وقت وفاقی اور صوبہ سندھ کی حکومت ریلی نکالنے کا مقابلہ کر رہی ہیں۔دونوں اپنی اپنی حدود میں حکمران ہیں۔دونوں اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ انہوں نے عوام کی مشکلات کس حد تک دور کیں۔عوام بھی جانتے ہیں کس نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔پی پی پی وفاق میں عمران خان کو وزیر اعظم نہیں دیکھنا چاہتی، اور وفاق سندھ میں پی پی پی کی حکومت دیکھنا نہیں چاہتا۔مگر دونوں کی مجبوری ہے کہ یہ کام وہ عوام کی مدد کے بغیر نہیں کرسکتے۔لہٰذا عوام کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں