سیاست معیشت کے تابع ہے

صدیوں پہلے علم سیاست کے ماہرین کہہ گئے ہیں کہ سیاست ہمیشہ معیشت کے تابع ہوتی ہے۔ معیشت جتنی کمزور ہوگی قرض دینے والے ملک اور ادارے اپنی شرائط منوائیں گے،اس کے برعکس جس قدر معیشت مضبوط ملک اپنے فیصلے کرنے میں اتنا ہی آزاد ہوتا ہے۔ لیکن یہ اصول پاکستان کے پالیسی سازوں کو قیام پاکستان کے 74-75سال بعد معلوم ہوا۔اس لئے کہ پاکستان آج برملا کہہ رہا ہے کہ امریکی دوستی میں اسے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں ملا۔80ہزار جانیں گنوائیں، 150 ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا، 33لاکھ پاکستانی بے گھر ہوئے۔یہ عجیب منطق ہے کہ ہم امریکہ کے کہنے پر دوسروں سے لڑیں توہم اچھے اورجہادی کہلائیں۔ اپنی مرضی سے اپنی سرزمین سے حملہ آوروں کو نکالیں تو دہشت گرد کہا جائے، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیئے۔یہ کیسی دوستی ہے کہ ہم دوست ہیں تب بھی ہم پر ڈرون گرائے گئے، ہمارے شہری مارے گئے۔اب فیصلہ کر لیا ہے کہ کسی پرائی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔اب پاکستان کی سمجھ میں آگیا ہے کہ اپنی معیشت کو مستحکم بنائے بغیرعالمی برادری میں عزت نہیں مل سکتی۔کشکول اٹھانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ان سے استفادہ کیا جائے۔ 60دہائی میں پاکستان اس خطے کا اہم اورترقی پذیر ملک تھا۔ملائیشیا اور سنگاپور تو کسی شمار میں نہیں تھے، خود چین بھی مسائل کاشکار تھا۔اس کے بعد زوال کا دور شروع ہوگیا۔یہ زوال ایسا چپکا کہ عوام ترقی کے بارے میں سوچنا ہی بھول گئے۔دو لخت ہونے کے بعد بھی پاکستان جلد ہی سنبھل گیا،لیکن اس کے بعد افغانستان میں روس نے اپنی فوجیں اتاریں، روسی آمد کو پاکستان کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ سمجھا گیا اور افغان عوام کی مدد سے روس کے لئے یہاں قدم جمانا مشکل بنا دیا۔ابھی اس حکمت عملی کے نقصانات کی تلافی نہیں ہوئی تھی کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان کوپتھر کے زمانے میں پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔امریکہ بھی یہاں 20برس جنگ کرنے کے باوجود اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ 31 اگست 2021کو دنیا نے امریکی افواج کوخوفزدہ حالت میں نکلتے دیکھا۔دنیا جان گئی ہے کہ امریکہ اپنی بقاء دوسرے ملکوں کو حالت جنگ میں دھکیلنے میں سمجھتا ہے۔1945سے آج تک اسی کام میں مصروف ہے۔خلیجی ریاستوں کوراکھ کا ڈھیر بنایا، اور وہیں سے افغانستان کا رخ کیا۔اس کی نظریں ہر ملک کے قدرتی وسائل پر جمی ہوئی ہیں۔اپنے اتحادیوں (نیٹو ممالک) کے ساتھ کمزور عسکری قوت والے ملکوں پر ایک ایک کرکے حملہ کرتا ہے اور پھرجتنی لوٹ مار کر سکتا ہے،کرتا ہے۔عراق، شام، لیبیاء، افغانستاناس کی رازہ مثالیں ہیں۔امریکی تھنک ٹینک اسلحہ سازی کے سوا کسی دوسری صنعت کو فروغ دینے کے لئے تیار نہیں،ورنہ جاپان کوریا، ویت نام، جرمنی، چین اور روس کی طرح پر امن ملک کے طور پر عالمی برادری کے لئے خطرہ بنے بغیر زندہ رہنے کے تمام مواقع اسے حاصل ہیں۔ افغانستان کے بعد اس کے پالیسی سازوں نے برصغیر کو جنگ کا مرکز بنانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ چین امریکی عزائم سے باخبر تھا۔اسی دوران بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گھر میں گھس کر مارنے کا نعرہ لگاکر چین کو چوکنا کردیا۔5اگست 2019کوبھارتی آئین میں چین کو اعتماد میں لئے بغیریک طرفہ ترمیم کرکے لداخ کو دہلی کے کنٹرول میں دے دیا۔چین کی جانب سے اس من مانی آئینی ترمیم کا جواب دیا،اور ایک گولی فائر کئے بغیراس لداخ پر بزور قوت قبضہ کرلیا جسے وہ ہمیشہ سے چین کا حصہ قرار دے رہا ہے۔بھارت کی خاموشی سے یہی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اس نے چین کے اقدام کوچ طوعاً کرہاً ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیا ہے۔چین دوسروں کو گھر میں گھس کر مارنے کے دعوے امریکی شہ پر کئے تھے۔امریکہکبھی کسی طاقت طور ملک سے نہیں لڑا۔ جبکہ کمزور ملکوں کو بھی دیر تک محکوم بنانے میں ناکام رہا ہے۔ویت نام اورافغانستان اس رویہ کی نمایاں مثالیں ہیں۔ 20سال لڑنے کے باوجود شرمناک پسپائی اختیار کی۔تنہا بھارت چین سے جنگ نہیں کرسکتا۔ یوکرین کو بھی اپنی عسکری قوت ہونے کی داستانیں سنا کر روس سے لڑوا دیا۔اور پھر حسب عادت اسے یکہ و تنہا چھوڑ دیا۔یوکرین روس سے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی مذاکرات کی اپیلیں کرتا نظر آیا۔اہل خرد کے لئے روتے ہوئے صدر اپیلیں کافی ہیں۔روس نے اپنے ایٹمی دستوں کو چوکس رہنے کی ہدایت جاری کرکے نیٹو سمیت تمام امریکی اتحادیوں پر واضح کر دیاہے کہ کسی خوش فہمی میں نہ رہیں، ایساجواب ملے گا جوکسی نے پہلے نہیں دیکھاہوگا۔ اگرجنگ کسی وجہ سے طول پکڑ گئی تب بھی اس کے منفی نتائج سے یورپ محفوظ نہیں رہ سکے گا۔وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ اعلانات کو محض بڑھک بازی کہنا اور ماننا درست نہیں ہو سکتا۔چین اور روس کے دوروں کے تناظر میں سمجھنا چاہیئے۔عمران خان عمر کے اس حصے میں اپنی طویل کامیابیوں کے ساتھ کوئی ناقابل عمل دعویٰ نہیں کرسکتے۔علاوہ ازیں ان کے اقتدار کی مدت ڈیڑھ سال سے بھی کم رہ گئی ہے۔بجٹ سے تین ماہ قبل یہ اعلان کرنا کہ بجلی اور پیٹرول کے دام نہیں بڑھیں گے، کسی یقین دہانی کے بغیر نہیں کئے جا سکتے۔ یاد رہے کہ نون لیگ کے قائد 23برس قبل روس گئے تھے۔ان دنوں امریکہ نائن الیون کے نام پر کابل پر حملہ آور نہیں ہوا تھا۔پی ٹی آئی کے قائد کابل سے امریکی انخلاء کے بعد ماسکو پہنچے ہیں۔انہیں مختلف ماحول اور مختلف عالمی منظر میں بات چیت کا موقع ملا ہے۔جب عالمی تقاضے تبدیل ہو جائیں تو ماضی کے پیمانوں سے مستقبل کی پیمائش درست نہیں۔اگراپوزیشن کاخیال ہے کہ وزیر اعظم کے خطاب میں پیش کردہ اعداد و شمار غلط ہیں تو عوام کے ہاتھوں میں واٹس ایپ ہے۔آنے والے دن خود گواہی دیں گے کہ حقیقت کیا ہے؟بلدیاتی انتخابات کے نتائج سارے دعووں کی قلعی اتار کر رکھ دیں گے۔ووٹ عوام دیں گے، ناپ تول کر ہی دیں گے۔حکومت کے جھوٹ کا پول مارکیٹ کھول دے گی۔آئی ایم ایف غصیلی آنکھیں دکھارہا ہوگا۔ایف اے ٹی ایف کا اجلاس بھی پاکستان کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک 172ارکان کی حمایت سے لانے میں کامیاب ہو جائے۔لیکن ایسی کامیابی کے لئے بہت سارے اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ اور بشرطیکہ راہ میں حائل ہیں۔شہباز شریف خود کہہ چکے ہیں،”جیسے ہی تیاری مکمل ہوگی تحریک جمع کرا دیں گے“۔چوہدری پرویز الٰہی کہتے ہیں:”ابھی سامان جمع کیا جارہا ہے،کھانا پکنا شروع ہوگا تو خوشبو اعلان کردے گی“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں