روسی افواج نے یوکرین کے شہر خیر سون پر قبضہ کر لیا
کیف : غیر ملکی خبر رسان ادارے کے مطابق مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتہ قبل ماسکو کے حملے کے بعد گرنے والا پہلا بڑا شہری مرکز ہے۔علاقائی انتظامیہ کے سربراہ گیناڈی لکھوتا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ” قبضہ کرنے والے شہر کے تمام حصوں میں ہیں اور بہت خطرناک ہیں۔” بندرگاہی شہر کے میئر ایگور کولیخائیف نے خیر سون کی شہری انتظامیہ میں "مسلح مہمانوں” کے ساتھ بات چیت کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا "ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے اور نہ ہی جارحانہ تھے۔ ہم نے دکھایا کہ ہم شہر کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور حملے کے نتائج سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں،انہوں نے کہا ، "ہمیں لاشوں کو جمع کرنے اور دفنانے، خوراک اور ادویات کی ترسیل، کوڑا کرکٹ جمع کرنے، حادثات کے انتظام وغیرہ میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس نے حملہ آور قوتوں سے "کوئی وعدہ نہیں کیا” لیکن ان سے کہا کہ "لوگوں کو گولی نہ ماریں”، جبکہ شہر میں رات کے کرفیو اور گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی کا اعلان بھی کیا۔ انہو ں نے کہا "اب تک تو بہت اچھا ہے۔ ہمارے اوپر جو جھنڈا لہرا رہا ہے وہ یوکرین کا ہے۔ اور اسے اسی طرح رہنے کے لیے، ان تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔”یوکرین کی ایک اور اہم بندرگاہ، برڈیانسک، کو پہلے ہی روسی فوجیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جب کہ ماریوپول نے اس شہر کے میئر، وادیم بویچینکو کے مطابق، "وقار کے ساتھ” حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو میں روسی افواج پر رہائشی عمارتوں پر فائرنگ کا الزام لگاتے ہوئے کہا، "آج سات روزہ جنگ کا سب سے مشکل اور ظالم ترین دن تھا۔ آج وہ صرف ہم سب کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔”بویچینکو نے کہا کہ اس حملے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جس سے لوگ روشنی، پانی یا توانائی کے بغیر رہ گئے ہیں۔


