آرٹیکل 63 (A) کی تشریح عدالت کرے گی

آئین کا آرٹیکل 63 (A) پارلیمنٹ کے دوتہائی سے زیادہ اراکین نے اپنی سیاسی قانونی اور سماجی فہم و فراست کے مطابق منظور کیا ہے۔ اس آرٹیکل کی منظوری سے پہلے بحث و مباحثہ اور نوک پلک سنوارنے کے بہت سے مراحل موجود ہیں، یقیناً مذکورہ آرٹیکل تمام مراحل سے گزر کر آئین کا حصہ بنا ہے۔ لیکن عجیب صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب آرٹیکل پر عملدرآمد کا وقت آیا۔ 18 ویں ترمیم تمام پارٹیوں نے ہامی مفاہمت اور اتفاق رائے سے منظور کی۔ سرا کام اسمبلی سے انجام دیا گیا، جب یہ کہا جائے کہ تمام پارٹیوں نے اتفاق رائیسے مگر اسمبلی سے باہر ہی سوچ و بچار کی اور 18ویں ترمیم کو آئین کا تقدس حاصل ہوگیا۔ قانون ساز ادارے کی اجتماعی سوچ کے نتیجے میں تحریری صورت میں آئین کہلایا۔ یہ معاملہ اس لئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے روبرو سماعت کے لئے پیش کردیا گیا ہے، لطف کی بات یہ ہے کہ 342 اراکین قومی اسمبلی اور 100سے زائد سینیٹرز مذکورہ آرٹیکل کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ سینیٹرز کے لئے درکار ووٹ قومی اسمبلی کے اراکین کی مطلوبہ تعداد کو ان کی منہ بولی رقم ادا کرکے باآسانی سینیٹر بن سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار طویل عرصے سے نافذ العمل ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا انتخاب متنازعہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے سماعت کا منتظر ہے۔ ویڈیو میں خریدو فروخت کا منظر ریکارڈ کیا جا چکا ہے، ایک مقدمے کی یہ مستند شہادت ہے۔ الیکشن کمیشن نے ابھی تک بوجوہ فیصلہ کی حد تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ورنہ اتنے ٹھوس شواہد کی موجودگی میں فیصلہ مرحلہ میں اس قدر تاخیر نہیں ہوسکتی تھی۔ اٹارنی جنرل بھی کنفیوژ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی میں اتنی دلچسپی نہیں لی۔ محض رسمی کارروائی کی تھی، آرٹیکل میں ایک سے زائد سقم پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سقم موجود نہ ہوتے تو آرٹیکل پڑھنے کے بعد ہر شخص ایک ہی مفہوم اخذ کرتا۔ جو سینیٹر رقم سے کر ووٹ حاصل کرے اسے الیکشن کمیشن سے پہلی سماعت پر ہی نااہل قرار دیا جاتا۔ تمام شواہد کے دستیاب اور ریکارڈ پر آنے کے بعد فیصلہ نہ ہونے کی وجوہات پر پانچ رکنی بینچ کو سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے، تشریح کرتے وقت یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے آئین اور قانون کو تمام ابہام اور سقم سے پاک کیا جائے۔ تشریح جامع، واضح اور سادہ ہو تاکہ کسی فریق کو فرار کا راستہ نہ مل سکے۔ یورپی ممالک یہ سفر طے کرچکے، فلور کراسنگ کو وہاں ناممکن بنا دیا گیا ہے، یہ کام پاکستان میں کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے۔ پہلے ہی اس کام میں تاخیر ہوچکی ہے، پی ڈی ایم سمیت اپوزیشن کے پاس 163 اراکین اسمبلی ہیں، حکومت کے پاس 176 اراکین ہیں، عدم اعتماد کی تحریک منظور اس صورت میں ہوسکتی ہے جب اپوزیشن کہیں سے کم از کم 9اراکین اسمبلی کو اپنا ہمنوا بنائے۔ یہ کام قانون کے مطابق نہیں، خریداری لازمی ہے، امید ہے کہ 5رکنی لارجر بینچ تشریح کرنے میں ملکی مفلوج، سماجی انداز فکر اور فکری بگاذ کے کسی پہلو کو بھی تشنہ نہیں رہنے دے گا۔ کرپشن عروج پر ہے، الیکشن کمیشن کرپشن کے سیلاب کی راہ میں کوئی بند نہیں باندھ سکا۔ دھاندلی پر قائم بینچ ماضی میں کوئی حل دینے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ کسی ایک ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی۔ الیکشن کمیشن تاحال اپنے ماضی سے جڑا ہوا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کا ایسا حل نکالا جائے کہ اراکین اسمبلی صرف اور صرف ایک فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ فلور کراسنگ کی جامع تعریف بیان کی جائے۔ یہ کام ممکن ہے اسے ناممکن نا سمجھا جائے۔ عوام کا مستقبل فلور کراسنگ کرنے والوں کے ہاتھ میں دینا درست نہیں، اس غلط کام کا سدباب کیا جائے، پانچ رکنی لارجر بینچ یہ کام باآسانی کرسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں