شام میں داعش کے جیل پرحملے کے بعد سے 100بچے لاپتا
نیویارک:اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ شام میں ایک جیل پر داعش کے حملے کے بعد سے وہاں زیرحراست کم سے کم 100 بچے ابھی تک لاپتا ہیں اور انتہا پسندوں کے جیل پر حملے کے دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی ان بچوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیودا چلڈرن اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس سے قبل کہا تھا کہ داعش کے حملے سے قبل شام کے شمال مشرقی صوبہ الحسکہ میں کردوں کے زیرانتظام جیل میں کم وبیش 700 لڑکے قید تھے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ جنوری 2022 میں حملے کے بعد سے ان میں سے کم سے کم 100 لڑکوں کے ٹھکانوں کا ہنوزکوئی اتاپتا نہیں چل سکا ہے۔انھوں نے اس پر سخت تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ اس سے ان کے جانی تحفظ سے متعلق شدید خدشات پیدا ہوگئے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بعض کیس جبری لاپتا کے ہوسکتے ہیں۔12سے 18 سال کی عمرکے ان قیدیوں میں بہت سے ایسے لڑکے بھی شامل تھے جن کے غویرن جیل کے اندربالغ رشتہ دار قید تھے اورانھیں قریبی بے گھر افراد کے کیمپوں سے جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ان کیمپوں میں انتہاپسند جنگجوﺅں کے ہزاروں بچے مقیم تھے۔آزاد ماہرین نے کردحکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام انسانی تنظیموں کو غویرن جیل میں قید بچوں تک مکمل اور بلاروک ٹوک رسائی کی اجازت دیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ان بچوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشان دہی کی جاناچاہیے اوراس کے ذمے داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔


