عدم اعتمادیااعتماد؟فیصلہ آج
8مارچ کو اپوزیشن نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادقومی اسمبلی سیکرٹیریٹ میں جمع کرادی۔ اس کے بعدآئین کے مطابق اراکین قومی اسمبلی نے اس مقصد کے لئے بلائے گئے خصوصی اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اپنی فہم و فراست کے مطابق ملک اور قوم کے مفاد کو اپنے ذاتی، گروہی اور جماعتی مفاد سے بالا تر رکھتے ہوئے زیر بحث قرار دادِ عدم اعتماد کے حق میں یا اس کے خلاف رائے دینا ہوتی ہے۔آج 3مارچ بروز اتوار، صبح گیارہ بجے مخصوص اجلاس بلایا گیا ہے۔پاکستان کے 23 کروڑ عوام کی نگاہیں قومی اسمبلی کے فلور پر جمی ہوں گی،اور دیکھ رہے ہوں گے کہ اراکینِ قومی اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کیا فیصلہ سناتے ہیں؟عام آدمی توقع رکھتا ہے کہ اراکین قومی اسمبلی ذاتی،گروہی اور جماعتی مفاد سے بالا تر ہو کر انتہائی دیانت داری سے عوام اور ملک کے مفاد میں بہترفیصلہ کریں گے۔اس لئے کہ حکمرانوں کی غلط معاشی پالیسیوں، غلط معاہدوں اور غیر ذمہ دارانہ فیصلوں اور عملی اقدامات کی قیمت 32 کروڑ عوام کو اپنی جیب سے ادا کرنی پڑتی ہے۔جیسا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں پندرہ روزہ اضافے کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ اور جبری حکومتی اضافے کے بعدٹرانسپورٹ میں اضافے سمیت ہر شے میں مہنگائی کا عذاب بھگت رہے ہیں۔مہنگی گیس کی خریداری کا معاہدہ حکمران کرتے ہیں مگر عوام اس غلط معاہدے کے نقصانات برداشت کرتے ہیں۔ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں کی قیمت موجودہ حکومت کے دور میں ادا کی جا رہی ہے، اور موجودہ حکومت کی غلطیوں کی قیمت ہماری آئندہ نسلیں ادا کریں گی۔یہ ظالمانہ اور خود غرضانہ سلسلہ رکنا چاہیئے۔بلکہ بہت پہلے رک جانا چاہیئے تھا، بدقسمتی سے نہیں رک سکا، آج اسے روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، کی جانی چاہیئے۔ اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے، یقینا اس نے یہ کام عوام کے مفاد میں کیا ہوگا۔عوام کا جو دھڑا اپوزیشن کے اقدامات، جلسوں جلوسوں اور دھرنوں کو درست سمجھتا ہے وہ اپنی بھرپور سادگی اور معصومیت کے ساتھ اپوزیشن کا ستھ دے رہا ہے۔اسے مکمل یقین ہے کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کو گھر بھیجنے کے لئے جو جدوجہد کی ہے، ملک اور عوام کو معاشی پریشانیوں سے نجات دلانے کے لئے کی ہے۔عام آدمی کے پاس نہ اتنا وقت ہے اور نہ ہی اتنی علمی صلاحیت ہے کہ وہ یہ سوچے اور سمجھے کہ اس تحریک کے پیچھے کونسی عالمی طاقت ہے؟ اور اس عالمی طاقت نے اراکین کی وفاداریاں خریدنے کے لئے کس کو کتنی رقم فراہم کی ہے؟کون سا رکن قومی اسمبلی کتنے کروڑ وصول کرنے کے بعد اپنی پارٹی چھوڑ کر اپوزیشن کو ووٹ دینے پر راضی ہوا؟یہ لین دین بند کمروں میں کیا گیا۔عام آدمی صرف اتنا جانتا ہے کہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے تمام اراکین قومی اسمبلی اپنے گھروں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ نہیں رہ رہے۔ایک اطلاع کے مطابق سندھ ہاؤس اسلام آباد میں مقیم ہیں۔کسی طرح ان کی رضاکارانہ گمشدگی کی اطلاع میڈیا تک پہنچی اور پھر ان کے توسط سے عوام کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ نامعلوم وجوہات کی بناء پر سندھ ہاؤس،اسلام آباد میں مقیم ہیں۔اور وہیں سے خاص ”حفاظتی“ بندوبست کے ساتھ 3مارچ کو قومی اسمبلی تک پہنچیں گے۔البتہ سوچنے والے اس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ اس ”حفاظت“ کی انہیں کیوں ضرورت پیش آئی؟ اگر وہ اپنے گھروں میں معمول کی زندگی بسر کر رہے ہوتے تو سندھ حکومت انہیں سرکاری رہائش گاہ کیوں فراہم کرتی؟آخر کوئی نہ کوئی ایسا راز ہے جسے چھپانے کی کوشش میں سندھ حکومت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ورنہ یہ اہتمام سارا سال کیوں نہیں کیا جاتا رہا؟خیر اس راز پر سے بھی ایک دن پردہ اٹھ جائے گا۔ دیر تک کوئی راز راز نہیں رہتا۔ آج جدید ٹیکنسالوجی کا دور ہے، موبائل فون مخبر کی طرح ہر ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ ہروقت ایک مخبر کے طور پرموجود ہوتا ہے۔ کس نے کب، کس سے، کتنی دیر گفتگو کی، معلوم کی جا سکتی نہے۔ اور بلاشک و شبہ یہ گفتگو ریکارڈ ہوتی رہتی ہے، بوقت ضرورت عدالتوں میں کام آتی ہے۔لوگوں کو یہ جملے بھی یاد ہیں:”اگر ہمارے اثاثے ہماری آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا؟“، ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے“۔اسی طرح مستقبل قریب میں موجودہ حکومت کے ”کھاتے،پیتے“ وزیروں، مشیروں اور معاونین کی اس سے ملتی جلتی داستانیں بھی گلی کوچوں دہرائی جائیں گی۔کوئی دوسروں کے عیب دیر تک اپنے سینے میں نہیں چھپاتا۔آج ماضی کے حکمرانوں کے چپڑاسی، کلرک اور ڈرائیور عفالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی بیگنائی اور اپنے مالکان کے جرائم کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں، آنے والی کل کو ان کی جگہ دوسرے چپڑاسی، کلرک اور ڈرائیورچوری اور غبن کے نئے قصے سنا رہے ہوں گے۔تاریخ اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔کسی ملک کے عوام مہنگائی اور دیگر معاشی اور معاشرتی مسائل کی دلدل میں کیسے پھنستے ہیں؟ آج نہ سہی کل سب جان لیں گے۔ آج 3مارچ ہے، جو کچھ اسمبلی میں دیکھنے کو ملے گا، یہی پاکستان کی تاریخ ہے،جو کل آنے والی نسل پڑھے گی۔بلوستان کے وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانی کی ملی بھگت سے کھائی گئی رقم وصول کی جا چکی ہے، آج کے وزیر خزانہ اور سیکرٹری نے مل کر جو کچھ کھایا ہوگا، کل سامنے آ جائے گا، اور وصول کرنے والے چاہیں گے تو وصول کر لیں گے۔فی الحال عوام کی ساری توجہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی پر مرکوز ہے۔عین ممکن ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق قرار دا دعدم اعتماد واپس لے لی جائے اور عوام مرزا غالب کی طرح ”تماشہ“ نہ دیکھ سکیں۔بیک ڈور چینل کے ذریعے طے پانے والے فارمولے پر خاموشی سے عملدرآمد ہو جائے۔نہ کسی کا ضمیر جاگے اور نہ ہی کوئی لوٹا کہلائے۔تاریخ کے سینے میں ایسے بہت سے راز مدفون ہیں، کبھی کوئی پی ایچ ڈی کے تھیسس کا حصہ بنائے گا،تو پڑھنے والوں تک یہ راز پہنچ جائیں گے۔اگر آج کوئی میر جعفر اور میر صادق کے نقشِ قدم پر چلے گا تو کل گلی گلی اس پر لعن طعن ہورہی ہوگی۔جعلی پارسائی دیر تک برقرار نہیں رہتی۔یاد رہے جھوٹ کبھی سچ کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ورنہ سچ کی دنیا میں کوئی عزت نہ ہوتی۔اَللہ نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے، جھوٹے کا تعلق ماضی سے ہو، حال سے ہو یا مستقبل سے ہے ہو، اسے لعنت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔بزرگ کہہ گئے ہیں:۔۔۔۔ ”سانچ کو آنچ نہیں“!دیکھیں اسمبلی کے فلور پر کون سچ بولتا ہے اور کون جھوٹ بولے گا؟ چند گھنٹے صبر کریں سب سامنے آجائے گا۔


