کورونا، جولائی کے وسط میں متاثرین کی تعداد95لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے،ڈی جی ہیلتھ بلوچستان

کوئٹہ:ڈائر یکٹرجنرل صحت بلوچستا ن ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ 3جولائی تک بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز 3لاکھ جبکہ جولائی کے وسط میں 95لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے صوبائی حکومت کو کرفیو کی تجویز دی ہے،صوبے میں برائے نام لاک ڈاؤن ہے ایس او پیز پر عملد آمد نہیں ہورہا،شیخ زید ہسپتال میں 18وینٹی لیٹرنصب کردئیے ہیں یہ شرح 50تک لیکر جائیں گے، این ڈی ایم کی جانب سے آٹو ایکسٹریکٹر ملنے کے بعد اب 800سے زائد ٹیسٹ روانہ کئے جارہے ہیں، بی ایم سی میں 460بیڈز، بے نظیر اور مفتی محمود ہسپتال میں 50،50بیڈ کی آئی سولیشن سہولت موجود ہے،کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کی جارہی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرارت کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ زمان جمالی،صدر کوئٹہ پریس کلب رضاالرحمن کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو شارٹ اور لانگ ٹرم اقدامات کے لئے فنڈ ز ریلیز کر دئیے گئے ہیں ہسپتالوں کی بہتری، وینٹی لیٹرز، آکسیجن پلانٹ،ادویات کی خریداری کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹروں،نرسز، پیدامیڈیکل اسٹاف کو پی پی ای کٹس مہیا کردی گئی ہیں اب تک صوبے میں 73ڈاکٹر، 35پیدامیڈیکس اور 4نرسز کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے 10ڈاکٹر صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ صوبے میں اب تک مجموعی طور پر 31ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ اور 12289ٹیسٹ کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں مقامی طور پر وائرس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اگر لاک ڈاؤن اور احتیاطی تدابیر پر عملدآمد نہ کیا گیا تو 3جولائی تک وائرس سے متاثر ہ افراد کی تعداد 3لاکھ،11جولائی تک 18لاکھ جبکہ ستمبر کے وسط میں 95لاکھ ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ بازاروں، مساجد سمیت کئی مقامات پر لاک ڈاؤن نہ ہونے کے برابر ہے شٹر ڈاؤن کر کے کاوبار جاری ہے جبکہ مساجد میں بھی احتیاطی تدابیر پر عملدآمد نہیں ہوا علماء کرام مذہبی اجتماعات کومختصر رکھیں جبکہ سیاسی قیادت سے بھی گزارش ہے کہ وہ ایس او پیز پر عملدآمد کروائیں،ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا کہ کنڑیکٹ پر کام کرنے والوں کو تنخواہوں کی ادائیگی انکا حق ہے نرسز، پیرامیڈیکس کے کنٹریکٹ میں توسیع بھی کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اس وقت دو پی سی آر مشینیں کام کر رہی ہیں جن میں تین آٹو ایکسٹریکٹر نصب تھے پی ڈٖی ایم اے سے ایک اور ایکسٹریکٹر ملنے کے بعد اب ٹیسٹس کی یومیہ شرح 800سے زائد ہوگئی ہے ساتھ ہی اب کوئی بھی زیر التواء ٹیسٹ نہیں ہے، جبکہ این ڈی ایم اے کی جانب سے مزید پانچ پی سی آر مشینیں بھی مہیا کی جارہی ہیں صوبائی حکومت لورالائی، لسبیلہ، جعفرآباد، تربت میں بھی لیبارٹریاں قائم کرنے جارہی ہے جبکہ سندھ سے قریبی اضلاع کے ٹیسٹ کراچی بھی بھجوائے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ 70سے 80فیصد قابل اعتماد ہیں لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق جن لوگو ں کو زکام کی علامات ظاہر ہوں وہ گھروں پر قرنطینہ میں رہیں جبکہ سانس لینے میں دشواری پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں کوئٹہ شہر میں بہت سے لوگ گھروں میں قرنطینہ ہیں لیکن وہ حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے وزیراعلیٰ کو تجویز دی ہے کہ تما م مریضوں کو ہسپتال منتقل کریں انہوں نے کہا کہ اس وقت شیخ زید ہسپتال میں 18وینٹی لیٹر موجود ہیں جبکہ مزید 50بھی نصب کئے جارہے ہیں جبکہ پورا ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص کیا گیا اس کے علاوہ بی ایم سی میں نو تعمیر شدہ ڈاکٹرز اور نرسز کے 460کمرے، 30بیڈ آئی سولیشن موجودہے جبکہ بے نظیر ہسپتال،مفتی محمود ہسپتال کچلا ک میں بھی 50،50افراد کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے،انہوں نے کہا کہ سندھ کے ڈاکٹروں نے کرفیو کی تجویز اس لئے دی کیونکہ لوگ لاک ڈاؤن پرعمل نہیں کر رہے تھے جبکہ ہم نے بھی وزیراعلیٰ کو کرفیو کی تجویز دی ہے جبکہ عید سے قبل کوئٹہ آمدو رفت کرنے والے افراد کو روکنے کے لئے شہر کے داخلی وخارجی راستوں کو بند کرنے کی بھی تجویز دی ہے تاکہ کورونا وائرس دیگر اضلاع میں منتقل نہ ہو، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور صحت کا عملہ فرنٹ لائن پر لڑ رہا ہے لیکن حتمی فیصلہ حکومت نے کرنا ہے ہمارا کام تجویز دینا ہے عملدآمد کرنا حکومت اور انتظامیہ، سیکورٹی فورسز کا کام ہے، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں ڈاکٹرز، نرسز سمیت کوئی بھی ہڑتال نہیں کررہا ہے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات جائز تھے جس پر انہیں حفاظتی کٹس مہیا کردی گئی ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کوئٹہ پریس کلب رضاالرحمن نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں میڈیا نے ڈاکٹروں سمیت تمام دیگر اداروں کے ساتھ ملکر فرنٹ لائن پر کام کیا ہے جس کے بعد کوئٹہ سے میڈیا ورکرز کورونا وائرس کا شکار بھی ہوئے،انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں کنڑیکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں نہ ہی انکے کنٹریکٹ میں توسیع کی گئی ہے ایسی نازک صورتحال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ فرائض سرانجام دینے والے کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں دینے کے ساتھ ساتھ انکے کنٹریکٹ میں توسیع بھی کرے۔انہوں نے کہا کہ میڈیانے ہمیشہ مثبت تنقید کرتے ہوئے حکومت کو بہتری کی سمت دیکھائی ہے اور آئندہ بھی عوامی معاملات کی بہتری میں حکومت کی معاونت جار ی رکھیں گے


