میانمارکی مقید رہنماء آنگ سان سوچی جیل میں قید تنہائی میں منتقل

نیپی داو (مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار کی فوجی حکومت نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کو ایک خفیہ مقام سے اب ایک جیل میں قید تنہائی میں منتقل کردیا ہے۔ فوجی جنٹا نے اس اقدام کو ملکی مجرمانہ قوانین کے عین مطابق قرار دیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت کے ایک ترجمان زاو من ٹن نے بتایا کہ آنگ سان سوچی کو ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا لیکن اب انہیں دارالحکومت نیپی داو میں ایک جیل میں قید تنہائی میں منتقل کردیا گیا۔بعض ذرائع کے مطابق ان کی رہائش گاہ پر مدد کے لیے نو افراد کو تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا کتا بھی ان کے ساتھ ہے جسے ان کے بیٹوں نے انہیں تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔آنگ سان سوچی کی قید تنہائی میں منتقلی کا علم رکھنے والے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ 77سالہ رہنما پہلے کی طرح کی خوش اور جوش سے لبریز تھیں۔ذرائع نے خبر رساں ایجنسی کوا پنا نام ظاہر نہ کرنے کی شر ط پر بتایاکہ وہ ہر طرح کے حالات کا نہایت سکون کے ساتھ مقابلہ کرنے کی عادی ہوچکی ہیں۔سوچی کے وکلا کو بھی میڈیا کے ساتھ بات چیت کرنے پر پابندی عائد ہے جب کہ صحافیوں کو بھی مقدمے کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے سے دور رکھا گیا ہے۔ ان سے ملاقات کے لیے سفارت کاروں کی درخواستیں بھی مسترد کردی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں