احتجاج در احتجاج اور حکومت

نصیر بلوچ

کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا بدیر ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ آج کے تحریر کا آغاز کل کے آواران سانحہ سے کرنا چاہوں گا جس پر بات نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جیسے آپکے علم میں ہے کہ گزشتہ روز بزداد سے مالار جانے والی باراتیوں کی پک اپ گاڑی الٹنے سے 3 افراد جاںبحق جبکہ 26 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں چند کی حالت زیادہ ناساز ہونے کی وجہ سے مزید علاج و معالجے کے لئے انہیں کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ جس طرح صوبائی حکومت نے بڑے دلی کا مظاہرہ کرکے زخمیوں کی علاج و معالج مفت کرانے کے لئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے اسی طرح عبدالقدوس بزنجو کو چاہئے کہ جاںبحق افراد کے لئے نقد انعامات کا اعلان کرے یہ ان کے زخموں کو بھر نہ سکے لیکن رسم و رواج کے بندھن میں بند کچھ ضروری اخراجات کا بندوست ہوگا۔ آج کے تحریر کا آغاز دراصل کچھ یوں کرنا چاہ رہا تھا۔
1982ء میں جب امریکی فورسز نے عراق بارڈر میں طالبان پر راکٹ حملہ کیا تو معصوم چراہاوا اس حملے کی زد میں آگئے۔ اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن تھے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکی ملٹری کی طرف سے کیا گیا تھا جس کا خود صدر کو بھی معلوم نہیں تھا یہ ایک لرزا خیز حملہ تھا۔ راکٹوں کی یکے بعد دیگرے لانچ کی گئی۔ بارڈر پر ایک الگ ہی منظر تھا عراق میں کسی عوام کو طالبان سے کوئی سروکار نہیں تھا صرف ایک متحدہ گروہ سرگرم تھی۔ حملے کے بعد طالبان مزید مستحکم ہوئے۔ یہ حملہ امریکی کی جانب سے ٹیرّر میکنگ مشین ثابت ہوا۔ اور اس حملے سے یہ جنگ مزید طویل پکڑ گیا۔ اسی طرح جب آمر پرویز مشرف نے نواب اکبرخان بگٹی کو قتل کیا۔ یہ دراصل پاکستانی ریاست کی "ٹیرّر میکنگ مشین” پالیسی ہی سمجھی جائے گی۔ جس کے نتائج ریاست آج تک بھگت رہا ہے۔ ریاستی مظلوم اقوام کے ساتھ ظالمانہ پالیسی بھی بطور ٹیرر میکنگ مشین ہی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ موجودہ دور میں ریاست پاکستان بلوچوں کے ساتھ جو پالیسی اپنایا ہے اسے بدلنا پڑے گا۔ وفاق میں حکومت چاہئے کس جماعت سے ہو لیکن بلوچستان سے ان کا سلوک ہمیشہ سے جابرانہ رہا ہے۔ بلوچ اپنے آئینی حقوق سے محروم رکھے گئے ہیں۔ بلوچستان کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت اور وفاق کو بلوچ کو درپیش مسائل کا معلوم تک نہیں چونکہ مین اسٹریم میڈیا کی نظر کرم بلوچستان پر نہیں رہا ہے۔ بلوچستان کے ہر سو سوگ کا سماں ہے۔ ہر سو لوگ احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ ‏لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج، امتحانات پاس کرنے کے باوجود ملازمت نہ دینے پر احتجاج، الاؤنس اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج، پانی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج اور ان احتجاج کا ایک ہی حل ‎لاٹھی چارج، شیلنگ یا فائرنگ۔ مہذب یافتہ ملک میں احتجاج کے اثرات کے باعث حکومت لرزاخیز دھچکا محسوس کرتی ہیں۔ اسے عالمی سطح پر بدنامی کے تناظر میں مسائل فوری حل کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں قانون میں تو ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیاگیا ہے لیکن یہاں بالادست قوتیں قانون کو نہیں مانتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں