وزیراعلیٰ کا بلوچستان میں سیلابی صورتحال پر سیاسی رہنماوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا صوبے میں بارشوں کی موجودہ صورتحال پر صوبے کے تمام سیاسی رہنماو¿ں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ ۔ اس اقدام کا مقصد مشکل گھڑی میں سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر مشترکہ حکمت عملی کے زریعہ عوام کو ریلیف کی فراہمی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اہم امور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ وزیراعلیٰ کے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل اور پی کے میپ کے چئیرمین محمود خان اچکزئی سے ٹیلیفونک رابطے۔ وزیراعلیٰ کی دونوں رہنماو¿ں سے سیاسی امور اور بلوچستان میں بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت۔ وزیراعلیٰ کی سردار اختر جان مینگل اور محمود خان اچکزئی کو بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کاروائیوں سے آگاہی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ میں نے اپنا لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ تینوں رہنماو¿ں کا بارش سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار۔ عوام مشکل میں ہیں سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر سیاسی جماعتیں امداد و بحالی میں کردار ادا کرینگی، تینوں رہنماو¿ں میں اتفاق۔ بی این پی اور پی کے میپ کے رہنما و کارکن حکومتی مشنری سے مکمل تعاون کرینگے۔سردار مینگل ،محمود خان اچکزئی کی یقین دہانی۔ وزیراعلیٰ کی دونوں رہنماو¿ ں سے موجودہ صورتحال کے تناظر میں کوئٹہ اور لسبیلہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی بات چیت ۔ غیر معمولی بارشوں نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ بارشوں سے مواصلاتی رابطوں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متاثرین کی بحالی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں شیڈول کے مطابق کوئٹہ اور لسبیلہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ تینوں رہنماو¿ں میں اتفاق۔ بات چیت میں بلدیاتی انتخابات کو تین سے چار ماہ موخر کرنے کے حوالے سے مشترکہ موقف اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں