اسٹیل ملز میں اربوں روپے کی چوری کا انکشاف کرنیوالا افسر نوکری سے فارغ

کراچی (انتخاب نیوز) پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں روپے کی چوری بے نقاب کرنا افسر کا جرم بن گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے ادارے میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کا انکشاف کرنے والے افسر کو نوکری سے نکال دیا۔ بتایا گیا ہے کہ 10 ارب روپے کی چوری بے نقاب کرنے پر ادارے کی انتظامیہ نے انجینئر عبد الرحمن کیخلاف ایک پرانی انکوائری کھول کر اسے نوکری سے برطرف کردیا۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان اسٹیل میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری سامنے آئی جس کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی اے سے رجوع کرلیا۔ وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو خط لکھا گیا ہے جس میں پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں کی جانے والی چوریوں میں ملوث عناصر کو منظر عام پر لانے کے لیے شفاف اور فوری تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس کے علاوہ مین پلانٹ بھی چوروں کی رسائی سے محفوظ نہیں جو کہ سیکورٹی عملے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ تحقیقات میں اسٹیل ملز کے سینئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی اے کو فراہم کردیے۔ پاکستان اسٹیل انصاف لیبر یونین (سی بی ای) کی جانب سے 27 جولائی 2022ء کو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کو ارسال کردہ خط میں قومی اثاثے کو لٹیروں سے بچانے کے لیے فوری ایکشن اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ 27 جولائی کی شب کو 50 افراد پر مشتمل لٹیروں کے ایک گروہ نے پاکستان اسٹیل کے پلانٹ ایریا پر دھاوا بول دیا اور اربوں روپے مالیت کا تانبہ اور وائرز دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹ کر فرار ہوگئے، اس تمام کارروائی اور گزشتہ چوریوں میں سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کنٹریکٹ اور مستقل دونوں طرح کے ملازمین خاموش تماشائی بنے رہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان چوریوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ سی بی اے نے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل میں انتظامی اور مالی بے قاعدگی، غفلت اور منظم چوریوں میں سہولت کاری کرنے والے عناصر کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مینجمنٹ کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور قومی اثاثہ کو لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں