مستونگ میں مسیحی برادری پر حملہ ضلعی انتظامیہ کی ناکامی ہے، بی ایس او پجار
مستونگ (انتخاب نیوز) شال بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کرسچن کمیونٹی کے لوگوں پر مستونگ میں حملہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کے اقلیتی برادری کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاستی ذمہ درای ہے جو وہ پورا نہیں کررہی، ضلعی انتظامیہ نے اب تک تحقیقات شروع ہی نہیں کی جس کی وجہ سے شبہ ہے کہ حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے۔ صوبائی کرپٹ حکومت بلوچستان کے تمام ضلعوں میں پولیس و ضلعی انتظامیہ کی تعیناتیوں پر لاکھوں روپے لیتی ہے پھر یہ رشوت خور مافیا کیسے صاف اور شفاف طریقے سے کام کرینگے۔ انہیں اپنے پیٹ کے علاوہ کسی چیز کی پرواہ نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مستونگ قوم پرست سیاست کا مرکز رہا ہے، یہاں اس سے قبل بھی ریاستی سرپرستی میں مذہبی انتہا پسندی کو پروان چڑھانے کی کوشش کی، ہندو و کرسچن برادری کو نشانہ بنایا گیا، حالات کو خراب کرکے اربوں روپے مستونگ کے سیکورٹی کے نام پر لیے گئے، ایک دفعہ پھر ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جس سے اقلیتوں سمیت مستونگ کے دیگر عوام کو گھروں تک محصور کیا جاسکے اور سیکورٹی اور لوٹ مار کا کاروبار شروع کیا جاسکے۔ عوامی نمائندوں اور ضلع کے ذمہ داران نے جاں بحق شخص کی رسومات میں شرکت کے لیے جانا گوارہ نہیں سمجھا۔ ترجمان نے مستونگ کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر یہ یہاں رہے تو ضلع کے حالات پھر سے 2011ءاور اس سے پہلے جیسے ہوں گے، فوری جے آئی ٹی تشکیل دیی جائے اور ڈپٹی کمشنر و ایس پی کو شامل تفتیش کیا جائے۔


