بھاگ، سیلاب زدہ علاقوں میں امراض پھیلنے لگے، ڈاکٹروں کی کمی، ادویات کی قلت
بھاگ (انتخاب نیوز) تحصیل بھاگ اور بھاگ سٹی میں ملیریا، ہیضہ، گیسٹرو، ڈائریا، دست، الٹی، جلد کی بیماریوں کی لپیٹ میں ہے، پورے علاقے میں صورتحال انتہائی خطرناک، تشویشناک اور انتہائی پریشان کن ہیں سیلاب کے بعد حالات انتہائی خطرناک نظر آرہے ہیں خوراک کی کمی غذائی قلت کی کمی اپنی جگہ لیکن جو پریشان کن سلسلہ اب شرو ع ہورہاہے وہ انتہائی دردناک ہوگا لیکن اس طرف حکومت کو سنجیدہ ہوکر سوچنے کی اشد ضرورت ہے بھاگ تحصیل اور سٹی بھاگ اس وقت مختلف امراض کی لپیٹ میں ہے سیلاب کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صرف چند گھنٹوں کا ایک روزہ میڈیکل کیمپ لگا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ایک دن اور چند گھنٹو ں کے میڈیکل کیمپ سے یہ سیلاب زدگان کے امراض ختم نہیں ہونگے اس وقت بھاگ شہر کے سرکاری ہسپتال میں ادویات نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ پورا تحصیل بھاگ اس وقت سیلاب سے تباہ ہوچکا ہے اور ہرطرف وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں لیکن تحصیل بھاگ کا اکلوتا سول ہسپتال جس میں صرف ایک ڈاکٹر کام کررہاہے اس کے علاوہ ضلع بولان کچھی کو آفت زدہ بھی قرار دیا جاچکا ہے جب کہ پورے ضلع کچھی میں سب سے زیادہ متاثر تحصیل بھاگ ہوا ہے جس میں سینکڑوں گاں،دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں لیکن تحصیل بھاگ کے تحصیل ہیڈکوارٹر سول ہسپتال بھاگ میں ایک ڈاکٹر کاکام کرنا اور ادویات نہ ہونے کے برابر جوکہ عوام کیساتھ انتہائی ظلم وزیادتی ہے جبکہ ڈی جی ہیلتھ نے بھاگ سول ہسپتال کا اس دوران دو دورہ کیا ہے وہ محض فوٹو سیشن اور شو پیس کے طور پر تھے حالانکہ اس وقت صورتحال ایمرجنسی کی ہے لیکن ڈی جی ہیلتھ صرف دورہ کرکے سب کچھ ٹھیک ہے کا راگ الانپ رہے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھاکہ ہنگامی اور ایمر جنسی کی بنیادوں پر بھاگ سول ہسپتال میں دو ڈاکٹر میل اور دو ڈاکٹر فی میل فوری تعینات کیئے جاتے لیکن افسوس کا مقام ہے ہمارے آفیسران اس دکھ اور مصیبت کی گھڑی میں سیلاب زدگان کو حقیقی ریلیف دینے کی بجائے صرف فرضی اور نام کمانے تک دورہ کرکے چلے جاتے ہیں بھاگ تحصیل میں مختلف امراض پھوٹ پڑے ہیں جوکہ اب بے قابو ہوچکے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کی توجہ بھاگ تحصیل بلکل نہیں ہے پرائیوٹ کلینکوں پر صبح سے لیکر رات گئے تک مریضوں کی جمغفیر ہے کیونکہ اس وقت بھاگ تحصیل میں حالات انتہائی سنجیدہ ہیں وبائی امراض کی وجہ سے ایک بہت بڑا انسانی سانحہ جنم لے سکتا ہے تحصیل بھاگ اور سٹی بھاگ میں سرکاری سطح جو بھی کام ہورہاہے وہ بااثر لوگوں کی ڈکٹیشن پر ہورہاہے حتکہ بااثر لوگ میڈیکل کیمپ جب لگتا ہے تو اس میں بھی مداخلت کرتے ہیں صرف اپنا نام کمانے کیلئے عوام کے آگے سرخرو ہوں اس وجہ سے عام عوام کو ریلیف ملنے میں شدید مشکلات اور رکاوٹیں پیش آرہے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان،سیکرٹری صحت سے مطالبہ کیاکہ فوری اور ہنگامی بنیادوں پر سول ہسپتال بھاگ میں ایک ماہ تک میڈیکل کیمپ لگاکر جس میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ادویات کے ذریعے سیلاب متاثرین میں پائی جانے والی جان لیوا امراض کو قابو پایا جاسکے اگر اس طرف ایمرجنسی بنیادوں پرتوجہ نہیں دی گئی تو ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔


