حالیہ آٹا بحران مصنوعی قرار، تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوا دی گئی

اسلام آباد: آٹا بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوا دی گئی، رپورٹ میں حالیہ آٹا بحران کو مصنوعی قرار دے دیا گیا،رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں گندم کا کوئی بحران نہیں تھا، اب بھی 2.1 ملین میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق مطابق ملک میں گزشتہ دنوں آٹے کے بحران کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیر اعظم آفس بھجوادی ہے۔ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں حالیہ آٹا بحران کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گندم کا بحران نہیں تھا بلکہ مصنوعی قلت پیدا کی گئی، ملک میں اب بھی 21 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں آٹے اور گندم کے بحران کی بنیادی وجہ بد انتظامی تھی۔گزشتہ برس کے آخر اور رواں برس کی ابتدا میں ملک میں آٹے کا بحرا پیدا ہوگیا تھا۔ ملک کے بعض علاقوں میں آٹے کی قیمت 85 روپے فی کلو تک جاپہنچی تھی۔ فلور مل مالکان نے 40 روپے کلو آتا فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا جب کہ وفاقی و صوبائی وزرا اور حکومتی شخصیات کے غیر سنجیدہ بیانات نے بھی عوام میں غم و غصہ پیدا کردیا تھا۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے پر وزیر اعظم نے بھی حکومتی کوتاہی کا اعتراف کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں