چینی اسکینڈل رپورٹ

اداریہ
چینی کا مصنوعی بحران پیدا کرکے عوام کو مہنگے داموں فروخت کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے پہلے انکوائری رپورٹ آئی اور اب ایف آئی اے سربراہ واجد ضیاء فرانزک رپورٹ تیار کرکے وزیر اعظم ہاؤس بھجوا دی گئی ہے۔اب کابینہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس رپورٹ میں شامل کرپشن میں ملوث افراد کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟مستقبل کی حکومتی پالیسی کی جھلک متوقع فیصلہ کرے گا۔تجزیہ کاروں کی اکثریت اس رپورٹ کو وزیر اعظم عمران خان کے لئے ایک امتحان سمجھتی ہے اس لئے کہ ملکی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ کسی برسر اقتدار پارٹی کے اہم افراد کے خلاف کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آئی ہو ذمہ داران کو سزا دینے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کا ثبوت جسٹس حمود الرحمٰن رپورٹ ہے جو سرکاری طور پر آج تک شائع نہیں کی گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت نے یہ کام سیاسی مخاصمت کے زیر اثر کیا اور عام آدمی تک وہ رپورٹ پہنچی جس میں ملک کے دولخت ہونے کے اسباب درج تھے پاکستانی حکام کافی عرصہ اس کے مندرجات کو ناقابل اعتبار اور نامکمل کہتے رہے۔تاہم بعد میں پراسرار خاموشی اختیار کر لی گئی۔اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جب انکوائری رپورٹ فرانزک تحقیقات کے لئے بجھوائی گئی تو اپوزیشن نے پورے زورو شور سے یہ دعوی کیا کہ یہ اقدام محض ایک تاخیری حربہ ہے تاکہ اپنے لاڈلوں کو اربوں روپے کی واردات میں ممکنہ کارروائی سے بچایا جائے۔اپوزیشن نے اپنے طویل سیاسی تجربے کی روشنی میں پورے وثوق سے یہ پیش گوئی کی تھی۔بلکہ اسے ابھی بھی یقین نہیں کہ عمران خان اپنی سیاسی مجبوری کے پیش نظر اپنی پارٹی کے پرانے ساتھیوں کے خلاف کوئی اقدام اٹھا سکیں گے۔اس کا سبب یہ ہے پی ٹی آئی کے پاس پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی نہیں اسے اس کام کے لئے بھی اپنی اتحادی ووٹوں کی ضرورت ہے۔اپوزیشن پی ٹی آئی کی حکومت کو مانگے تانگے کی حکومت قرار دیتی ہے بظاہر اپوزیشن کا یہ طعنہ خلاف واقعہ نہیں۔پنجاب میں بھی حکومت کے بڑے اتحادی (مسلم لیگ قاف) کی نون لیگ کے ساتھ ملاقاتیں جاری ہیں اور اگر نون لیگ اپنے ناراض اراکین کو عدم اعتمادکی تحریک کی کامیابی تک اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گئی تو عید کے بعد اس سمت میں دھند چھٹ جائے گی بصورت دیگر چینی کا بحران پیدا کرکے اربوں روپے کمانے والے ممکنہ سزا سے نہیں بچ سکتے۔ تحقیقات صرف2013سے2020تک محدود ہیں اور24ارب روپے سبسڈی کی مالیت ہے۔پنجاب میں 2ارب60کروڑ سبسڈی دی گئی اور یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کیا تھا اور اس کی جزوی ذمہ داری اسد عمر پر ڈالی گئی ہے۔
گزشتہ سے پیوستہ روز وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیداور دیگر اہم شخصیات کی ملاقات کوبھی سنجیدگی سے دیکھاجانا چاہیئے۔ کوروناوائرس کے حوالے سے ایک مقدمہ ان دنوں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ کے روبرو زیر سماعت ہے جس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل پیش ہو چکے ہیں۔عدالتی ریمارکس سے یہی تأثر ملتاہے کہ کورونا بحران کو بھی بعض موقع شناس افراد نے اپنی قسمت سنوارنے کے لئے استعمال کیا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے مالی اختیارات کی واپسی بھی ایک واضح اشارہ ہے۔آثار و قرائن سے یہی لگتا ہے کہ عید بعد نیب بقول وزیرریلوے شیخ رشید احمدٹارزن بننے والا ہے اور حکومتی افراد سمیت اپوزیشن کے خلاف ایک بڑی کارروائی ہونے جارہی ہے۔میڈیا پر پے درپے کانفرنسز بلا وجہ نہیں حکومت کی جانب بعض نئے شواہد کے ساتھ وائٹ کالر کرائم میں بڑی کامیابی کے دعوے اور اپوزیشن کی جانب سے بھرپور تردید کا نہ ہونا یہی ظاہر کرتا ہے کہ اس مرتبہ اسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت صورت حال کا سامنا ہے۔گیند وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے انہیں ادراک ہے کہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا انجام کیا ہوگا؟بجٹ اجلاس بھی 8جون کو بلانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔کورونا کے باعث یہ بجٹ روایتی نہیں ہوگا۔غیر معمولی حالات میں روایتی بجٹ پیش نہیں کئے جاتے اس لئے اپوزیشن کے پاس کھیلنے کا میدان مزید سکڑ گیا ہے۔
لوگوں کی نظریں وزیر اعظم پر جمی ہیں عام آدمی چینی بحران کے ذمہ داروں سے سختی سے نمٹنے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔جہانگیر ترین سمیت متعدد اہم وزراء مبینہ طور پرنشانے پر ہیں۔ اتنے اہم افراد کے خلاف تادیبی کارروائی آسان نہیں بڑے دل گردے کا کام ہے۔عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی بلند ترین کرسی تک پہنچانے والوں میں جہانگیر ترین کا نام سرِ فہرست ہے۔انہیں عمران خان کا اے ٹی ایم کارڈ کہا جاتا تھا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔عمران خان کے معتمد ترین ساتھی تھے بلکہ آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔مگرسب جانتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ساتھیوں کو بچا کر اپنی قربانی دینے کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی:
”کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں، لوٹی ہوئی رقم وصول کروں گا“
کا دعویٰ سچا تھا یانہیں؟ جو ہوگا سامنے آجائے گا۔ویسے بھی کل سے عید کی6دن کی تعطیلات شروع ہو رہی ہیں گزرتے دیر نہیں لگے گی۔فریقین تعطیلات ختم ہونے کا انتظار کر لیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں