دہشت گرد سرگرمی میں ملوث نہ ہونیوالے لاپتہ افراد کے لواحقین کی داد رسی کی جائیگی، کمیشن کا پہلا اجلاس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم کئے گئے کمیشن کا اجلاس، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دیگر کمیشنز سے رابطے، متعلقہ اداروں سے فہرستیں طلب کرنے کا فیصلہ۔ جمعہ کو صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی زیر صدارت لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن کا پہلا منقدہ اجلاس ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ زمرک خان اچکزئی، رکن صوبائی اسمبلی زابد ریکی، رکن صوبائی اسمبلی نصیر شاہوانی، کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ یڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے شرکاء کو لاپتہ افراد سے متعلق اس سے پہلے قائم کمیشن کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے شرکاء کو عدالتی احکامات پر کمیشن قائم کرنے کا مقصد اور ہر لاپتہ فرد کے کیس کا جائزہ لے کر اس کی بازیابی کیلئے اقدامات کرنا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن کی ممبران بلوچ طلبا کوہراساں کرنے کے خلاف قائم کمیشن کے سربراہان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے تاکہ جو کام پہلے سے قائم کمیشن کر رہے ہیں ان کو دوبارہ نہ دہرایا جائے اجلاس میں لاپتہ افراد کے لواحقین کو معاونت اور مدد کیلئے طریقہ کار وضع کر نے پر بھی غور کیا گیا۔شرکاء نے عدالتی احکامات کی روشنی میں فیصلہ کیا کہ کمیشن ان لواحقین کی مدد کیلئے اقدامات کرے گا جو لاپتہ شخص کسی دہشت گرد سر گرمی میں ملوث نہ ہوں۔اجلاس میں لاپتہ افراد سے متعلق تفصیلی فہر ست متعلقہ اداروں سے طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن کے تمام اراکین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ لاپتہ افراد سے متعلق معاملات کو جلد از جلد کسی حتمی نتیجے پر پہنچایا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد کمیشن لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات کرے گا۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اعلی اختیاراتی پارلیمانی کمیشن لاپتہ افراد کے خاندانوں کی معاونت کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشنوں سے مربوط روابط قائم کر کے معاملات کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں