اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارا کی بدو آبادی کو ختم کرنے کا مطالبہ

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے کنیسٹ میں دو ممتاز قانون سازوں نے مغربی کنارے میں القدس کے قریب ایک بدو آبادی کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی دبا کو رد کرتے ہوئے اس آبادی کو ختم کردیں اور اس جگہ پر برسوں پرانے تنازعہ کو ایک مرتبہ پھر ابھرنے کا موقع دے دیا جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق الخان الاحمر برادری مغربی کنارے میں زمین کے حقوق پر برسوں سے جاری تنازعہ کا مرکز رہی ہے۔ یورپی یونین سمیت بین الاقوامی اداروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس جگہ کو خالی نہ کرائے اور اس کے رہائشیوں کو طاقت کے ذریعہ نہ ہٹایا جائے۔اسرائیل میں قوم پرست دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل نئی حکومت آئی ہے جو مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس حکومت میں شامل پارٹیوں نے اس بدوئی آبادی کو ہٹانے کے لیے اپنی ہی حکومت پر دبا ڈالنا شروع کردیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت سے دبا بڑھ گیا ہے جب فوج نے گزشتہ ہفتے یہودی آباد کاروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو مغربی کنارے میں ایک چوکی قائم کرنے سے روک دیا۔کنیسٹ میں قانون ساز اور خارجہ امور اور آرمی کمیٹی کے چیئرمین یولی ایڈلسٹائن نے کہا کہ تمام ضروری اجازت نامے میز پر ہیں، اسرائیل کی سپریم کورٹ کی منظوری بھی ہے، یہ فیصلہ کرنا وزیر دفاع اور وزیر اعظم پر منحصر ہے۔نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کنیسیٹ کے نائب ڈینی ڈینن اور اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نے ایڈلسٹائن کو ان کی درخواستوں میں شامل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جتنی جلدی اقدامات کیے جائیں گے، مسائل اتنے ہی کم ہوں گے۔2018 میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے برسوں کی قانونی لڑائیوں کے بعد اس کمیونٹی کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے عمارت کے اجازت نامے کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ دوسری طرف فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایسے اجازت نامے حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ بین الاقوامی مطالبات کے بعد یکے بعد دیگرے اسرائیلی حکومتوں نے اس کمیونٹی کو مسمار کرنے سے گریز کیا کہ رہائشیوں کو زبردستی بے دخل نہ کیا جائے۔ آبادی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان گزشتہ صدی کے پچاس کی دہائی سے اس علاقے میں مقیم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں