بلدیاتی انتخابی عمل مکمل کروانے کے لیے جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ کا عندیہ

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)بلدیاتی انتخابات کو تین ہفتے ہونے کے باوجود تاحال انتخابی عمل کے نا مکمل رہنے ، نتائج میں تاخیر اور ملتوی شدہ 11نشستوں پر انتخابی شیڈول کے جاری نہ کرنے کے خلاف ہفتہ کوجماعت اسلامی کے تحت صوبائی الیکشن کمیشن کے آفس کے سامنے زبردست احتجاجی دھرنادیا گیا۔جس میں نو منتخب یوسی چیئر مین ، وائس چیئر مین اور وارڈ کونسلرز سمیت جماعت اسلامی کے کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر11 ملتوی شدہ نشستوں کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے،بلدیاتی انتخابات کے عمل کو مکمل کیا جائے،بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا حلف لیا جائے،نتائج میں ناخیر نا منظور ”سمیت دیگر نعرے اور مطالبات درج تھے ۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ملتوی شدہ 11یوسیز میں انتخابی شیڈول کا اعلان ،رکے ہوئے نتائج جاری نہ کیے گئے اور انتخابی عمل کو مکمل نہ کیا گیا تو الیکشن کمیشن کے خلاف ٹرین مارچ اور الیکشن کمیشن اسلام آباد پر طویل دھرنا دیاجائے گا،چیف الیکشن کمشنر اگر چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی احتجاج نہ کرے تو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے ،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو ان کے آئینی و قانونی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ کیا جائے ،منتخب بلدیاتی نمائندوں ، چیئر مین ، وائس چیئر مین اور میئر کو عوام کے مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے ،یہ کیسا جمہوری نظام ہے کہ جس میں پہلے انتخابات کروانے کے لیے جدوجہد کی جائے اور اس کے بعد جیت جائیں تو اپنے ووٹوں اور سیٹوں کی حفاظت کی جائے اور الیکشن کمیشن پر احتجاج کرکے حق مانگا جائے۔بلدیاتی انتخابات نہ کروانے کے لیے بھی گورنر سندھ بہادرآباد میں موجودتھے ، آج بھی وہیں موجود ہیںاور سازشیں کررہے ہیں ،ایم کیو ایم اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ دھرنا کیا کوئی دھرنی بھی دے سکے۔ گورنر سندھ کو بلا کر دھرنا ملتوی کروا رہی ہے ۔ مظاہرے سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، جنرل سکریٹری جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، امیر جماعت اسلامی ضلع قائدین سیف الدین ایڈوکیٹ ، امیر جماعت اسلامی ضلع غربی مولانا مدثر حسین انصاری ،امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی عبد الجمیل ، امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی مولانا فضل احد ،جناح ٹاؤن کے نومنتخب چیئرمین جنید مکاتی،،گلشنِ اقبال کے نومنتخب وائس چیئرمین آصف اقبال ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے عمل کو بڑھانے کے لیے گلی محلوں میں تحریک چلائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے آئینی،قانونی اور جمہوری عمل مکمل نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے ایسے ضمنی انتخابات کا اعلان توکردیا جو بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ ہے اور ان سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگالیکن بلدیاتی انتخابات کے مراحل کو مکمل نہیں کیا جارہا اور نہ ملتوی شدہ نشستوں پر انتخابی شیڈول جاری کیا جا رہا ہے ۔ الیکشن کمیشن بتائے کہ کراچی کا کیا قصور ہے 26 دن گزرنے کے بعد بھی نتائج کا اعلان کیوں نہیں کیا ، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کبھی بارش اور کبھی سیلاب کا بہانہ بناکر انتخابات ملتوی کروائے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار اندرون سندھ سیلاب زدگان کی مدد کررہے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ حلقہ بندیاں درست نہیں تھی اس کے باوجود کڑوا گھونٹ پی کر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا ۔ کراچی کے شہریوں نے پیپلز پارٹی کے سارے سہانے خواب چکنا چور کرکے جماعت اسلامی کو نمبر ون پارٹی بنایا۔ پیپلز پارٹی اپنے آر اوز کو استعمال کرکے بھی ہار گئی۔ چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کے بعد ہمیں فارم 11 اور 12 ملے۔ الیکشن کمیشن کے معزز رکن نے کہا کہ جماعت اسلامی احتجاج کیوں کرتی ہے۔ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری ادا کریں جماعت اسلامی احتجاج نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے عوام کی ترجمانی کی ہے۔ کوئی بھی جماعت لوکل سطح پر انتخابات نہیں کروانا چاہتی۔ اب کراچی کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں لوکل سطح پر انتخابات کروانے کی جدوجہد کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایم کیو ایم کی جوڑ توڑ کرنے والوں کی سازش ناکام کرکے انتخابات کروائے۔ جماعت اسلامی کے نومنتخب نمائندے بلا جھجک شہر کی خدمت شروع کردیں۔ جماعت اسلامی بلاتفریق رنگ و نسل سب کی خدمت کرے گی۔ جماعت اسلامی کے ہارنے والے نمائندے گلی محلوں میں موجود رہیں۔ جماعت اسلامی کے وہ نمائندے جو جیت چکے ہیں وہ سب کی خدمت کریں۔ ۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ عوام کے جمہوری حق پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔انتخابی عمل کو مکمل کرنے کے بجائے تعطل کا شکار کر دیا ہے ،انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہونے کے بعد آج تک 6 نشستوں کا فیصلہ نہیں کرسکی۔ ہمارا دھرنا عوام کے جمہوری حقوق کے لیے ہے اور طاقتور طبقے کے خلاف ہے۔ہم اپنا حق لے کر رہیں گے ۔منعم ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے شکر گزار ہیں جس نے سندھ حکومت ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی تمام ترسازشوں کے باوجود الیکشن کروائے۔بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں، الیکشن کمیشن نے ابھی تک کامیاب نشستوں کا مکمل اعلان نہیں کیا۔ملتوی شدہ گیارہ نشستوں کا شیڈول جاری نہیں کیا جارہا۔کراچی کا ہر شہری کراچی کی تعمیر وترقی چاہتا ہے ،عوام سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ کراچی کے میئر کا اعلان کیا جائے۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انتخابی شیڈول کا جلد اعلان کرے گا۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلے سڑے انتخابی نظام میں جماعت اسلامی مبارکباد کی مستحق ہے جو کراچی کی نمبر ون پارٹی بن کر سامنے آئی۔ پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے ووٹ تو کم نہیں کرسکی لیکن انتخابی عملے کی ملی بھگت کے ذریعے نتائج تبدیل کروارہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک کامیاب نشستوں پر حلف نہیں لیا جارہا۔ کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے عمل کو مؤخر کیا جارہا ہے۔مولانا مدثر حسین نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن کے مکینوں نے بھی جماعت اسلامی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا، پیپلز پارٹی نے من پسند حلقہ بندیاں کیں لیکن ان سب کے باوجود اہلیان اورنگی نے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا۔ انتخابات کے دن الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں، اکثر یوسیز ایسی تھیں جہاں بیلٹ باکس نہیں پہنچے۔پریذائڈنگ آفیسرز فارم 11اور 12دینے پر تیار نہیں تھے لیکن ہم نے تمام ترسازشوں کے باوجود یہ فارم حاصل کیے، پیپلز پارٹی نے آراوز اور ڈی روز کے ذریعے نتائج تبدیل کروائے۔اہلیان اورنگی نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ڈی سی آفس پر دھرنا دیا۔ اورنگی ٹاؤن کے 26 پولنگ سٹیشن پر پیپلز پارٹی کوصرف 400 ووٹ ملے اور باقی 3 پولنگ سٹیشن سے دھاندلی کرکے ہزاروں ووٹ ڈال کر تاریخ کی بڑی دھاندلی کی۔ اورنگی ٹاؤن یوسی 7 میں فارم 11 اور 12 کے مطابق جماعت اسلامی نے 7500 ووٹ لیے تھے ۔آراوز اور ڈی آراوز کے ذریعے 7500 ووٹ کو 2600 ووٹ سے تبدیل کردیا۔ الیکشن کمیشن نے اورنگی ٹاؤن کی 6 یوسیز کا خود سوموٹو ایکشن لیا ۔ الیکشن کمیشن میں 3 بار سماعت ہوچکی ہے لیکن ہر دفعہ اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ عبد الجمیل نے کہا کہ کراچی کے عوام اور جماعت اسلامی کے کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے مستقل جدوجہد کرکے الیکشن کروائے۔ سازش کے تحت انتخابی عمل کو پورا نہیں کیا جارہا ہے۔ کراچی کے شہری مسائل کا شکار ہیں، شہری جماعت اسلامی کا میئر چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کرے گی اور جدوجہد جاری رکھے گی۔ مولانا فضل احد نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ضلع کیماڑی میں اپنی شکست تسلیم کی لیکن جن یوسیز میں فتح حاصل کی ان پر بھی دھاندلی کی گئی۔ عجب بات ہے کہ وارڈز اور کونسلر پر جماعت اسلامی جیتی ہے اور چیئرمین پیپلز پارٹی کو جتوایا گیا ، پیپلز پارٹی کے جعلی مینڈیٹ سے ان کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا، تمام تر سازشوں کے باوجود جماعت اسلامی نے ضلع کیماڑی میں 12 وارڈز پر کامیابی حاصل کی۔ جنید مکاتی نے کہا کہ حکومت اور حکمران طبقہ جان چکا ہے کہ جماعت اسلامی ملتوی شدہ 11 نشستوں سے بھی جیت رہی ہے ، الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت سن لیں کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں۔ الیکشن کمیشن کیوں اور کس کی ایماء پر تاریخ پہ تاریخ دے رہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اعلان کرے کہ بلدیاتی انتخابات کے نومنتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرے تو ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔آصف اقبال نے کہا کہ یونین کونسل میں گھوسٹ ملازم موجود ہیں۔ڈھائی سال سے ملازمین دفتر میں نہیں آتے صرف تنخواہیں جاری ہوتی ہے۔آج بھی کے ایم سی انسپکٹر پتھارے اور ٹھیلوں والوں سے ہفتہ 1500 وصول کیے جارہے ہیں۔کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے عمل کو آگے نہیں بڑھایا جارہا۔مظاہرے میں جماعت اسلامی کراچی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ کی قیادت میں اقلیتی برادری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔#

اپنا تبصرہ بھیجیں