بلوچستان میں بے گناہ لوگوں کی لاشوں کو جلا کر پھینکنا اور خواتین کا اغواظلم کی اعلیٰ مثالیں ہیں، وی بی ایم پی کراچی

کراچی (انتخاب نیوز) کراچی پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت۔ کراچی پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ میںاظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، سابق وزیر خواجہ محمد خان ہوتی، سابق وفاقی وزیر ہمایوں ک±رد، سابقہ سینیٹر حاجی لشکری رئیسانی سمیت جئے سندھ متحدہ محاذ کے سابقہ صوبائی جنرل سیکرٹری الٰہی بخش بکک اور دوسرے لوگوں نے شرکت کی۔ سابق وزیر اعظم نے مخاطب ہو کر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آپ پاکستان میں ایک مو¿ثر سیاسی آواز رکھتے ہیں تو لہذا آپ بلوچوں کے جبری گمشدگیوں کو روکنے میں کردار ادا کریں، سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ "ماما صاحب ہم اس سلسلے میں بس اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتے ہیں اور ہم سے کچھ نہیں ہو سکتا، سب مقتدرہ قوتوں کی مرضی اور منشا سے ممکن اور ناممکن ہوتا آرہا ہے۔ ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں دعاو¿ں کی نہیں عملی ساتھ دینے کی ضرورت ہے، جب تک مین اسٹریم سیاستدان عملی صورت میں اس غیر قانونی حراست، جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کو روکنے میں کردار ادا نہیں کریں گے تو یہ سلسلہ خطرناک شکل اختیار کرے گا۔ جسمم کے رہنما الٰہی بخش بکک نے کہا کہ کسی بھی قوم کے سندھی بلوچ پشتون کے لئے اس کی تاریخ اور ا±س تاریخ کو بنانے والوں کی اہمیت قومی وقار اور قوم کی پہچان سے کم نہیں ہوتی اور یہی زندہ قومیں اپنے شہیدوں اور دیگر جہد کاروں کو قابض کے زیر تسلط ہوتی ہیں، ہمیشہ یاد کرنے کے ساتھ ان کی احترام میں عقیدت کا درجہ دیتے ہوئے ان کی خدمات کو اپنی زندگی کا اٹوٹ انگ بناتے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، سندھی بلوچ قوم طویل غلامی کے باوجود زندہ قوم ہیں اور آج ان قوموں کی یکجہتی نے دو چیزوں کو واضح کردیا ہے ایک یہ کہ ریاست پاکستان اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ ہزاروں بلوچ سندھی فرزندوں کو زندانوں میں اذیت دے کر ان کی لاشوں کو جلا کر یا پھینک کر بلوچ سندھی قوموں کو ہمیشہ کے لئے اپنی تسلط میں سما پائے گا۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں فوج کی وحشت ناک سفاکیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اب معصوم بچے اور خواتین بھی مظالم سے محفوظ نہیں، اجتماعی سزا کا دائرہ کار پورے بلوچستان میں نافذ کردیا گیا ہے، ماحل بلوچ اور ان کے معصوم بچوں کو رات کی تاریکی میں جبری لاپتہ کرنا اور ان پر تشدد کرنا یہ سفاکیت کا ثبوت ہے اور اب بلوچستان کو مشرقی پاکستان بنگلادیش بنا دیا ہے اب وہی عمل بلوچستان میں دہرایا جارہا ہے جو بنگلادیش میں دہرایا گیا تھا، قومی پرامن جدوجہد کی کامیابیوں اور تسلسل کے ساتھ ساتھ پاکستانی اداروں کی بربریت بھی شدت کے ساتھ تیز ہورہی ہے پہلے سے جاری جبری گمشدگیاں اور لاشیں پھینکنے میں مزید تیزی آچکی ہے جبکہ پاکستانی گماشتے اپنے شب روز ایک کیے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں