انتہا پسندی ملکی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے، ریاست مخالف جتھوں کو کچلنا ہوگا، مفتی اعظم پاکستان سیمینار

لاہور (آن لائن) دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کی 70ویں سالانہ تقریبات کے موقع پر بانی جامعہ نعیمیہ مفتی محمد حسین نعیمی علیہ الرحمہ، ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید علیہ الرحمہ کی دینی و ملی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کےلئے ”مفتی اعظم پاکستان سیمینار“ کے مشترکہ جاری اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیاکہ ریاست کے اندر ریاست بنانے و الے جتھوں کوپوری قوت سے کچلا جائے، کسی کو ناحق قتل کرنا تخریب کاری ہے، تخریب کاری کے مکمل خاتمے کےلئے مشترکہ کوششوں کےساتھ جامع قومی پلان تشکیل دیا جائے، عالمی سطح پر قرآن اور صاحب قرآن کی بے حرمتی کے واقعات کو روکا جائے، اسلامو فوبیاکی شکار قوتیں مسلمانوں کے مذہی جذبات مجروح کرکے دنیا کے امن کوتباہ کرنا چاہتی ہیں، عالمی سطح پر مقدس شخصیات کی توہین کے خلا ف قانون سازی کی جائے، خودساختہ دلائل کے بنیاد پر اسلام کی تشریح کرنے والوں کو رد کرتے ہیں، جامعہ نعیمیہ اسلام اور ریاست مخالف قوتوں کےخلاف ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا۔ سیمینار سے مسلم لیگ (ن)کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی،ناظم اعلیٰ علامہ ڈ اکٹر راغب حسین نعیمی، ڈاکٹر حسیب قادری، علامہ میر آصف اکبر، سینئر صحافی نجم ولی خان، مجیب الرحمان شامی، حفیظ اللہ خان نیازی، ڈاکٹر اختر سندھو،ڈاکٹر شہباز منج، علامہ امانت رسول، پیر برہان حیدر شاہ ودیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مفتی عبدالعلیم سیالوی، مفتی انورالقادری، مفتی محمدرمضان سیالوی، پیر صوفی محمدشوکت علی قادری،سید توصیف شاہ، مفتی اسداللہ نوری، مولانا امداداللہ نعیمی، ڈاکٹر حسیب قادری،مفتی انتخاب احمد نوری، پروفیسر ارشد اقبال نعیمی، علامہ میر آصف اکبر، ڈاکٹروارث علی شاہین، علامہ اصغرعلی شاکر، سینئر صحافی نجم ولی خان، حنیف قمر،پیر سید شہباز سیفی، سردار محمدخان لغاری، ڈاکٹر سلطان سکندر، ڈاکٹر غلام فاروق نعیمی، ڈاکٹرمحمدعلی کریم،علامہ ممتاز ربانی، پروفیسراکرم جاوید، مجیب الرحمن شامی،پیر ضیاءالحق نقشبندی، حفیظ اللہ نیازی، مولانا شریف نعیمی، پیرخلیل احمدسیفی،علامہ عبداللہ ثاقب ،پیرکرامت شاہ، پیر خلیل احمدیوسفی، علامہ مشتاق احمد نوری، مفتی قیصر شہزاد نعیمی، حاجی زبیر رشید،حافظ محمدعبداللہ نعیمی، علامہ محبوب احمد چشتی،ڈاکٹر سلیمان قادری، مفتی عمران حنفی، مفتی محمدعارف حسین سمیت پاکستان بھر کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور عامة الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ناظم اعلیٰ علامہ ڈ اکٹر راغب حسین نعیمی نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کہاکہ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تخریب کاری کےخلاف جنگ میں پوری قوم ریاستی ادارے کے ساتھ شانہ بشانہ ہے، مخصوص ذہنیت مسلم ممالک اور مسلمانوں کے درمیان تشدد کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن علماءاہل سنت تخریب کاری اور انتہا پسندی کی کوششوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انتہا پسند رویے وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پورا ملک تخریب کاری اور خوف و ہراس کی لپیٹ میں ہے۔ ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ اعتدال پسندی اور امن کو فروغ دیا جائے۔ نبی کریم کے عزت و ناموس کے تحفظ کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریںگے۔ قرآن اور صاحب قرآن کی حرمت کاتحفظ ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔ عالم اسلام کو متحد ہوکر اقوام متحدہ سمیت تمام فورمز پر بھرپور آواز اٹھانی چاہیے، عالمی سطح پر قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں گستاخی اور توہین کا یہ سلسلہ بند ہو سکے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے شرکا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شدت پسندی جس بھی شکل میںہو اسے برداشت نہیں کیا جائیگا۔ حکومت فسادی قوتوں ہرصورت خاتمہ کرے گی۔ دلفریب نعروں کے ذریعے معاشرے میںانتہائی پسندی کوقبول نہیں کرینگے۔ مذاکرات ناکام ہونے پرہم نے ضرب عضب آپریشن شروع کئے۔ اخوت اورمحبت بغیرکوئی بھی معاشرے قائم نہیں رہ سکتا۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جس کا مقابلہ کرنے کےلئے ہمیں خود کو تیار کرنا ہو گا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے کے اخلاقی رویوں کو بگاڑ جا رہا ہے۔ اہل دانش قوم کی درست سمت رہنمائی کریں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمدخان لغاری نے کہاکہ حالات جیسے ہوں جامعہ نعیمیہ سے ترویج دین اورفروغ تعلیم کاسلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ مفتی محمدحسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نے مشکلات کے باوجود خدمت دین کا سفر جاری رکھا۔ علامہ امانت رسول نے اپنے خطاب میں کہاکہ دینی طلبہ کو جدید تحقیق کے ذریعے مسائل کاحل پیش کرنا ہو گا۔ اہل مدارس اسلامی دنیا کے جدید نظام تعلیم سے بھی فائدہ اٹھائیں اور معاشرے میںدلائل کے بنیاد پر تمام دین کے حقیقی پیغام کو آگے بڑھائیں۔ سیمینارکے اختتام پرملک وقومی کی سلامتی اوراسلام کی سربلندی کےلئے خصوصی دعاکرائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں