پاکستان کے اعلیٰ وفد کا دورہ کابل ، برف نہ پگھل سکی کشیدگی برقرار

اسلام آباد:پاک افغان کشیدگی پاکستان کے اعلی سطحی وفد کے دورے سے بھی برف نہ پگھل سکی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں 22 جنوری کو اعلی سطحی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ پاکستانی سفارت خانے پر حملے کے بعد وطن واپس آ جانے والے پاکستانی سفیر عبید الرحمن نظامانی بھی وفد کا حصہ تھے۔کابل میں گذشتہ سال دو دسمبر کو پاکستانی سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا۔حملے کے بعد سے عبیدالرحمان نظامانی مسلسل پاکستان میں موجود ہیں۔ وزارت خارجہ کے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک افغان عبوری حکومت پاکستانی سفیر کو نہیں بلائے گی تب تک انہیں کابل نہیں بھجوایا جا سکتا۔ افغان عبوری حکومت نے اعلی سطحی پاکستانی وفد کے دورے کے باوجود تاحال پاکستانی سفیر کو بھجوانے کی درخواست نہیں کی۔افغان شہریوں کو علاج کے لیے بغیر ویزا پاکستان آنے سے متعلق افغان حکومت کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی مرتکب ٹی ٹی پی کے خلاف تحقیقات سے متعلق بھی افغان عبوری حکومت نے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔افغان عبوری حکومت کا موقف ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کو آپریشن میں مار دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں