امریکا: سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد حالات سنگین، 16 ریاستوں میں کرفیو نافذ

واشنگٹن: (انتخاب نیوز) امریکا میں سیاہ فام کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے جارج فلائیڈ کی گورے پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکا بھر میں کورونا وائرس کی موجودگی کے باوجود احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ احتجاج اور دھنگا فسادات کا چھٹے دن بھی جاری رہے جس میں روز بروز شدت آتا دیکھائی دے رہی ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت نے امریکا کے 16ریاستوں کے پچیس شہروں میں مکمل کرفیو نافذ کر دیا ہے جس میں دارالحکومت واشنگٹن بھی شامل ہے۔ احتجاج اور مظاہرے کرنے والوں نے وائت ہاؤس کے اندر بھی گھسنے کی کوشش کی جنہیں ناکام بنا دیا گیا، اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان نے مظاہرین کو مزید اشتعال میں ڈال دیا جس میں ٹرمپ نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اندر آنے کی کوشش کی تو انہیں خوانخوار کتوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا سامنا کرنا ہوگا جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے وائٹ ہاوس کے اندر گھسنے کی کوشش کی جنہیں سیکیورٹی نے ناکام بنا دیا جبکہ مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کیے جس سے مظاہرین منتشر ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ابھی تک متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ جبکہ پولیس کے ہاتھوں 15سو سے زائد افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے مختلف ریاستوں میں موبائل گھاڑی سمیت کی گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ سیاہ فام جارج کو شہر مینیا میں پولیس اہلکار نے گردن پر گھٹنا رکھ کر دبایا جس سے اس کی موت ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں