نظریہ ضرورت نے پاکستان کو کہاں پہنچا دیا، فیصلہ فل کورٹ کا ہوتا تو مان لیا جاتا، وزیراعظم
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جو قانون کسی اور کیلئے بنائیں اپنے اوپر بھی لاگو کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے لائرز کمپلیکس اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 ججوں کا بینچ بنا جو 3 ججز پر رہ گیا، فل کورٹ کامطالبہ مان لیا جاتا تو کون اس کے فیصلے سے اختلاف کرتا؟ انہوں نے کہا کہ وکلا کا تعلق قانون کی حکمرانی کیلئے قربانیاں دینے والے طبقے سے ہے، وکلا نے جو مقام حاصل کیا وہ پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیاگیا، وکلا نے عدلیہ کی بحالی کیلئے قربانیاں دیں، لائرز کمپلیکس میں اسپورٹس کمپلیکس بھی بنایا جائے، اسپورٹس کمپلیکس نہیں ہوگا تو لائرز کمپلیکس بھی نہیں ہوگا، منصوبے کیلئے رقم کہاں سے آئے گی، میں آپ کو کان میں بتادوں گا، لائرز کمپلیکس کی تعمیر پر ایک ارب 80 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے عدلیہ کی بحالی کیلئے ڈنڈے کھائے، گولیاں کھائیں، ہمیں حکم دیا جاتا ہے وزیراعظم اکیلا کچھ نہیں کابینہ ہے، جنہوں نے یہ حکم دیا وہ اپنے اوپر کیوں لاگو نہیں کرتے؟ نظریہ ضرورت نے پاکستان کو کہاں پہنچا دیا ہے؟ ججز اور عدلیہ کا ہم سب کو احترام کرنا چاہیے، جو قانون کسی اور کیلئے بنائیں اپنے اوپر بھی لاگو کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت الیکشن سے نہیں بھاگ سکتی، جو پارٹی الیکشن سے بھاگے گی اس کی سیاست اسی دن دفن ہوجائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قانون کو بڑی ڈھٹائی سے ری رائٹ کیا گیا، ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔


