شرائط کے بغیر الیکشن کی تاریخ پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے، سراج الحق
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ میں سب کو مشورہ دیتا ہوںکہ شرائط کے بغیر صرف الیکشن کی تاریخ پر اتفاق رائے بنانے کی ضرورت ہے۔ زمینی حقیقت یہی ہے کہ اگر ان لوگوں نے بیٹھ کر ایک تاریخ پر اتفاق نہیں کیا اوراس میںہم خودایک سٹیک ہولڈر ہیں تونہ الیکشن ہو گا، نہ قبل ہو گا نہ مابعد ہو گا اوریہ لوگ پھر بلدیاتی الیکشن میں جائیں گے کیونکہ مارشل لاء میں عمومی طور پر جنرل الیکشن نہیں بلکہ بلدیاتی الیکشن ہوتا ہے۔ سیاست برداشت کا نام ہے، ایک دوسرے کو سننے کا نام ہے اورسپیس دینے کا نام ہے اورعوام کی خاطر ایک ایسے الیکشن کی طرف جانے کا نام ہے جو شفاف بھی ہو اوردھاندلی سے صاف بھی ہو۔ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے کہا ہے کہ حج کے بعد ملک میں پرسکون ماحول میں الیکشن کا انعقاد ہوسکتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہر صورت غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ان خیالات کااظہار سراج الحق نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ جب ہم نے محسوس کیا کہ ایک صوبے میں الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا ہے تواُس فیصلے پر ہم احترام کے ساتھ خیال یہی رکھتے تھے کہ ایک صوبے میں الیکشن پاکستان کے لئے مفید نہیں ، دو صوبوں میںبھی مفید نہیں ، ہم مرکزاورچاروں صوبوں میں ایک الیکشن چاہتے تھے اور مرکز اورچاروں صوبوں میں نگران حکومتیں چاہتے ہیں اوراس کے لئے جب ہم نے رابطے شروع کئے تو ہماراخیال تھا کہ اس میں بہت زیادہ وقت لگے گالیکن بہت آسانی کے ساتھ یا جلدی میںمعاملات آگے بڑھ گئے۔ ہماری تجویز سے سپریم کورٹ نے بھی اتفاق کیا کہ ہاں مذاکرات ہونے چاہئیں اور مل کر ایک تاریخ پر اتفاق ہو، پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی یہی مئوقف تھا، پی ڈی ایم کا بھی یہی مئوقف بنا اور پی ٹی آئی کا بھی یہ مئوقف بنا اوراب الیکشن کے حوالے سے گاڑی چل پڑی ہے۔ مذاکرات سے قبل سب سیاسی جماعتیں اگر،مگر کرتی ہیں لیکن الیکشن کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی اور چوائس نہیں ہے۔ میں یہی محسوس کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کیا حکومت اور کیا باقی سیاسی جماعتیں سب اس وقت بند گلی میں ہیں ،وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف سے بھی ہماری یہی بات ہوئی ہے کہ اگر آپ کے ہوتے ہوئے یہاں پر جمہوریت ڈی ریل ہو گئی تواس کی ذمہ داری توپھرآپ پر آئے گی، عمران خان کو بھی ہم نے یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ مارشل لاء کا دورانیہ 10سال سے کم تونہیں ہوتا، اگرآپ کی عمر 72سال ہے اوراس میں 10سال جمع کریں توپھر دوبارہ آپ کو 82سال کی عمر میں الیکشن دیکھنے کو ملے گا۔یہ بالکل طے شدہ چیز ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں نے الیکشن پر اتفاق رائے نہیں کیا تو پھر لوگ دیکھیں گے کہ ایمرجنسی پلس ایمرجنسی ، معاشی ایمرجنسی ، مارشل لاء اور جو بھی نام دے سکتے ہیں کوئی اورنام ایجاد ہو سکتاہے لیکن ہو گا یہ کہ ان سیاسی لیڈروں کے ہاتھ کچھ نہیں رہے گا اورفیصلے کوئی اور کرے گااس لئے سپریم کورٹ نے بھی چوائس دی ہے کہ آپ خودااپس میں بیٹھ کر بات کریں جس پر میں سمجھتا ہوں کہ یہ درست فیصلہ ہے اور عجلت میں کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے سیاستدانوں کو مزید موقع ملنا چاہیے۔ جب ہم آئین کے مطابق 90دن میں الیکشن کروانے کی بات کرتے ہیں تو سپریم کورٹ نے توخود پنجاب میں الیکشن کے لئے 105دن دیئے اور میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ نے 105دن دیئے ہیں تویہ 205دن بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تاریخ 8اکتوبر دی۔ الیکشن صرف پی ڈی ایم یا پی ٹی آئی کا تونہیں ہے اس میں ہم سب شامل ہیں، میں نے سپریم کورٹ کوایک روڈمیپ دیا کہ ایک انتہا یا دوسری انتہا یاآپس میں لڑنے کی بجائے ، دست وگریبان ہونے کی بجائے اور ایک دوسرے کے بارے میں یہ کہنے کی بجائے کہ یا میں رہوں گایاآپ رہیں گے ، نقصان عوام کا اورپاکستان کا ہورہا ہے، بیچ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اوراس حوالے سے ایک پورا روڈمیپ میں نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ سیاسی افراتفری کا 100فیصد نقصان عوام کو ہے ، سیاسی لیڈروں کو نہیں، ان کے متوالے، ان کے جیالے، ان کے بینک اکائونٹ ، ان کا کاروبار، ان کے دن، ان کی راتیں اورخوشیوں کا سامان سب کچھ اپنی جگہ پر برقرارہے، مسئلہ غریب پاکستانی کا ہے جو روزمررہا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ کاکول میں دوروز قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی تقریر میں نے بہت توجہ سے سنی کیونکہ یہ آرمی چیف کایہ پہلا باضابطہ خطاب تھا، آرمی چیف نے کھل کر، واضح طور پر پورے جذبہ کے ساتھ کشمیریوں کی حمایت کااعادہ کیا تواس سے کشمیری لوگوں کو خوشی اور پاکستانی لوگوں کو بھی اطمینان ہو گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں یقینی طور پر لوگوں نے اس موقع پر گردوغبار محسوس کیا اورلوگ یہی سمجھتے تھے کہ شاید اب پاکستان اور پاکستان کی ریاست اور پاکستان کی فوج نے کشمیر کو ایک طرف رکھ دیا ہے ، حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا ہے اورایک لحاظ سے اسٹیٹس کو کو قبول کیا ہے لیکن جس طرح آرمی چیف نے کھلے الفاظ میں دوبارہ کشمیریوں کی حمایت کا اعلان کیا اوراعادہ کیا ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت مثبت چیز تھی جو دوروز قبل کاکول اکیڈمی میں سننے کو ملی اب یہ ہے کہ اس اعلان یا عزم کو کیسے عملی جامہ پہنانا ہے یہ اب حالات ہی بتائیں گے۔ ایک سوال پر سراج الحق نے کہا کہ ہمارے دوستوں نے بتایا ہے کہ کراچی میں 40فیصد خانہ شماری اور مردم شماری نہیںہوئی ، کراچی میں کئی منزلہ عمارتیں ہیں اور مردم شماری کرنے والا عملہ دوسری اورتیسری چھت تک توگیا ہے لیکن آخری چھت تک نہیں گیا اورسروے کے مطابق بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی گنتی نہیں ہوئی ہے۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت پورے پاکستان میں آخری فرد کی گنتی تک مردم شماری اورخانہ شماری کے پراسیس کو چلایا جائے، وقت آگیا کہ وفاقی حکومت لوگوں کے گلے اورشکایات کو100 فیصد ختم کرے، صیح گنتی ہواور لوگوں کو اطمینان دلایا جائے۔


