پاکستان کی بہتری کیلئے سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر راستے کا تعین کریں، شاہد خاقان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری کیلئے سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر راستے کا تعین کریں، ایک سب سے بڑی خرابی جس کی وجہ سے حکومت کا نظام نہیں چلتا وہ نیب ہے، ایک کالا قانون اورایک انتہائی درجے کا غلط قانون 25سال سے ہم دل سے لگائے بیٹھے ہیں۔ نیب قانون کا اطلاق صرف سیاستدانوں پر ہوتا ہے۔نیب قانون کی وجہ سے کوئی سرکاری افسر کام نہیں کرتا، کابینہ بھی فیصلہ کرتی ہوئی گھبراتی ہے کہ کل نیب کیا کرے گا۔ جب تک نیب کاادارہ رہے گا کوئی افسر کام نہیں کرے گا۔ سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے نیب کو سیاست کو کنٹرول کرنے کے لئے بنایا تھا،آج بھی وہی مقصد ہے۔ میری ذاتی سوچ ہے کہ جو کچھ 9مئی کو ہوا وہ ناقابل یقین اور ناقابل معافی ہے جن لوگوں نے 9مئی کو خرابی پیدا کی اگرآپ ان کا پیچھا نہیں کریں گے ، قانون کے مطابق ان کو سزانہیں دیں گے تویہ حکومت پھر اپنے کام میں بہت بڑی کوتاہی برت رہی ہے۔ان خیالات کااظہار شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ نہیں بلکہ بہت دفعہ کہا ہے کہ اگر الیکشن بے مقصد ہوں توان میں حصہ لینے کا کوئی مقصد نہیں ، الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے کا کوئی مقصد ہونا چاہیے اور میں ابھی تک اس مقصد کا قائل نہیں ہوں۔ جو میری سوچ، علم اورتجربہ ہے اس کے مطابق یہ الیکشن پاکستان کو کچھ بھی نہیں دیں گے۔الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ حلقہ کے عوام کرتے ہیں۔اگر پاکستان کے شفاف ترین انتخابات بھی کرالئے جائیں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے اُس کے باوجود بھی حل نہیں آئے گا۔ ملک کے جو حالات ہیں ان کا کسی نے حل تلاش کرنا ہے، ملک کو آگے چلانا ہے، آج پاکستان کی سیاست کی کیفیت یہ ہے کہ گزشتہ دوسال کے دوران ہرسیاسی جماعت اورہرسیاسی لیڈر حکومت کے اندر رہ چکا ہے، کیا وہ مسائل کو حل کرسکے ہیں، کیا وہ مسائل کے حل کے قریب بھی آسکے ہیں، مطلب یہ کہ نظام میں صلاحیت ہی نہیں، نظام کے اندر نہ سوچ رہی ہے اور نہ فکر رہی ہے کہ کس طرح مسائل کو حل کرنا ہے۔حکومت کا پورا نظام بدلنا پڑے گا،آج سیاستدانوں اورسیاسی جماعتوں میں صلاحیت نہیں کہ موجودہ نظام میں ملکی مسائل کو حل کرسکیں، پہلے آپ بیٹھیں اوراس بات کا تعین کریں کہ کہ ملک ہم نے چلانا کیسے ہے۔ وزیر اعظم دعوت دیں اگر نہیں بیٹھتا تونہ بیٹھے، آپ کوشش توکریں۔ ملک میں سٹیک ہولڈرز کون ہیں، سیاستدان ہیں، عدلیہ اور فوج ہے، ان کی قیادت بیٹھے گی، چھ ،سات آدمی ہیں، کوئی لمبی چوڑی بات نہیں، کون بٹھائے گا یہ سوال بھی نہیں ہونا چاہیے، اگر ہمیں پاکستان کی فکر ہے توسارے اکٹھے بیٹھ جائیں۔ آج ملک کا ہر شخص، سرمایہ دار، کاروبار کرنے والا اور ملک کی فنانشل مارکیٹ اسی بات کو دیکھ رہی ہیں کہ یہاں پر جولڑائی جھگڑے کا ماحول ہے ، دشمنی کا ماحول ہے ختم ہو اورکوئی راستے کا تعین ہو کہ ملک چلے گا کیسے، آج امتحان قیادت کا ہے چاہے فوج ہو، سیاسی قیادت ہو یا عدلیہ ہووہ بیٹھے اورمستقبل کے راستہ کا تعین کرے کیونکہ جس نہج پر ہم پہنچ چکے ہیں یہاں سے واپس آنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی اورراستہ نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں