لاہور میں ڈی آئی جی شارق جمال کی پُراسرار موت کی گتھی سلجھ گئی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں اپنے گھر پر مردہ پائے جانے والے ڈی ایس پی شارق جمال کی پُراسرارموت کی گُتھی سلجھ گئی۔شارق جمال کے اہلخانہ نے مزید قانونی کارروائی سے گریز کیا ہے۔ پولیس کے مطابق شارق جمال کے اہلخانہ مقدمہ درج کرانا نہیں چاہتے۔ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی شارق جمال کی موت طبعی موت ہے اوراصل حقائق فرانزک رپورٹ میں واضح ہوں گے۔ڈی آئی جی شارق جمال اپنے گھرمیں مردہ پائے گئے تھے، ان کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس سے قبل کہا گیا تھا کہ شارق جمال کی موت ممنوعہ ادویات کی زائد مقدار کے باعث ہوئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ شارق جمال کے ساتھ جوخاتون موجود تھیں انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ خاتون کا کافی عرصہ سے شارق جمال سے تعلق تھا اور رات ایک بجےخاتون نے ریسکیو 1122 پر کال کی تھی تاہم پولیس کے پہنچنے تک شارق جمال کی موت واقع ہوچکی تھی۔زیر حراست خاتون کے مطابق شارق جمال کی طبیعت ممنوعہ ادویات لینے سے خراب ہوئی، ابتدسائی بیان میں خاتون نے کہا کہ شارق جمال نے مجھ سے پانی اور پھر کولڈ ڈرنک مانگی، ساڑھے 12 بجے طبیعت زیادہ خراب ہونے پر میں اسپتال آئی،جہاں ڈاکٹرز نے شارق جمال کی موت کی تصدیق کردی۔پولیس کا کہنا ہے کہ شارق جمال کی بیوی کےساتھ علیحدگی ہوگئی تھی،ان کی ایک بیٹی ہے، شارق جمال علیحدہ فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ کمرے سے برآمد ہونے والی ممنوعہ ادویات فارنزک کے لیے بھجوا دی گئی ہیں۔شارق جمال ڈی آئی جی ٹریفک اور ڈی آئی جی ریلویز بھی رہے، ان دنوں وہ بطوراوایس فرائض سرانجام دے رہے تھے۔شارق جمال کی21ویں گریڈ میں ترقی ہونےوالی تھی۔ پنجاب حکومت نےشارق جمال کی خدمات وفاق کے حوالے کی تھیں۔


