راجی راہشون سردار عطاء اللہ مینگل، ایک درسگاہ

تحریر: خالد بشیر ایڈووکیٹ
تاریخ میں قوموں کی پہچان ساحل وسائل، سر سبز و شاداب میدانوں، بہتے دریاؤں، سنگلاخ پہاڑوں اور بلند و بالا عمارتوں کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ تاریخ میں قوموں کی پہچان سیاسی اکابرین، مفکرین اور اپنی قوم، وطن اور لوگوں کی خاطر آتش نمرود میں کودنے والے شخصیات کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک عظیم شخصیت کے مالک، دلیر رہبر، دیدہ ور خیر خواہ کے کرامات کی نظر عقیدت و محبت کے کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ملاحظہ ہو۔۔۔!انسان آتے ہیں، جاتے ہیں مگر کچھ انسان اس نیلے آسمان تلے اندھیروں کی دنیا میں روشنی کی علامت بن جاتے ہیں۔ آج بلوچستان کے ایک ایسے عظیم سپوت کی برسی ہے جو جری اور سروں کی قربانی دینے والے جھالاوان وڈھ سے تعلق رکھتے تھے۔ جسے مظلوم و محکوم اور معاشرے کے ستائے ہوئے افراد اپنا مسیحا سمجھتے تھے، جس کی ایک جھلک دیکھنے کو ساری خلقت ترستا تھا، جس کی آنکھوں میں سچائی تھی، جو جہلا سے نمٹنے کا گُر جانتا تھا، جس کی گفتگو اپنائیت، بہادری اور جرأت کا حوالہ دیتی تھی، جو حبس زدہ سیاسی ماحول کے اندھیروں میں اُمید کی کرن جیسا تھا، جس نے دنیا کے عظیم رہنماؤں کی سوانح عُمری پڑھ کر ان کے جدّوجہد کو اپنا نصب العین بنایا تھا۔ اُس عظیم شخص کو بلوچستان ’’عطاء اللہ مینگل ‘‘ کے نام سے جانتا ہے۔ اپنی ذات میں ایک تحریک کی مانند اپنے ہم عصروں (نواب خیربخش مری، غوث بخش بزنجو، نواب اکبر بگٹی) کیساتھ ایوب خان، یحیی خان، ذوالفقار بھٹو، ضیاء، مشرف اور حالیہ دور کے مظالم کا جس شجاعت، وجاہت، بہادری، استقامت سے بولان کی طرح سینہ تان کر و چلتن کے جیسے سر اونچا کر کے مقابلہ کیا وہ قابل تحسین و تقلید ہے۔ خوبصورت لب و لہجہ کیساتھ مقتدر اعلی اور وقت کے حاکموں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات کو روانی اور انتہائی با وزن انداز میں جس طرح رکھی اس کی مثال شاید رہتی دنیا تک نہ ملے۔ "مینار بلوچستان” سردار عطاء اللہ مینگل جو طبعی طور پر تو بلوچستان میں نہیں لیکن نظریاتی طور پر آج بھی موجود ہیں؛ وہ کبھی جدا ہوئے ہی نہیں ہے۔ 1958 میں ایوبی مارشل لاء کے نفاذ کے بعد اکتوبر میں قلات میں مسجدوں پر حملوں اور خان آف قلات کی ساتھیوں سمیت گرفتاری کے بعد بلوچستان کو اصل معنوں میں جدوجہد کی ضرورت تھی اور یہ جدوجہد شخصی وقار ،مراعات و مفادات اور اعلی وزارتوں کے لئے ہرگز نہ تھی بلکہ یہ قومی وقار و پہچان، شناخت، ننگ و ناموس، سیاسی اختیار اور حقوق کے لئے تھا۔ سردار عطاء اللہ مینگل اور اس جدوجہد میں شامل رہنماؤں کے پاس عملی سیاسی مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اس سیاسی مزاحمت کی قیادت میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور نواب اکبر بگٹی کررہے تھے بعد میں بی ایس او کے ساتھی بھی شامل ہوگئے تھے۔ اسطرح 70 سالوں پر محیط سردار صاحب نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔بعد از ون یونٹ کے ٹوٹنے، بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے، انتخابات ہونے کے بعد نیپ کی کامیابی کے بعد بلوچستان میں نیپ کی جانب سے جرات مند اور زیرک سیاستدان سردار عطاء اللہ مینگل کا وزیراعلی بننے کے بعد انقلابی فضا نے جنم لیا تھا۔9 ماہ کی مختصر حکومت کے دوران صرف 10 کروڈ کے بجٹ میں انہوں نے بلوچستان کے معدنی وسائل میں مقامیوں کی شراکت داری، اعلی تعلیمی ادارے، 200 اسکولز کا قیام، صنعتی زون اور مقامیوں کو ملازمتیں دئیے۔ گو کہ آج کے مین اسٹریم میڈیا میں عموماً سرداروں کو تعمیر و ترقی اور تعلیم کے ایک ایسے مخالف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو اپنی سرداری اور قبائلی نظام نہیں چھوڑنا چاہتے لیکن انہوں نے اس بات کی قطعی پرواہ نہ کی۔ اس محدود بجٹ میں نیپ حکومت کے وہ انقلابی اقدامات جو آج تک کئی ترامیم کے بعد بھی 150 ارب کے بجٹ میں صحت و تعلیم کے شعبے تباہ حال ہیں۔ بے شک! اصل بات سیاسی بصیرت کی ہوتی ہے۔ بقول نیپ کے سربراہ ولی خان:”میرے پاس موسیٰ کے اعصاء کی طرح کئی ایک اعصاء ہیں میر بزنجو بھی ہیں، نواب مری بھی ہیں لیکن سردار عطاء اللہ جب اسمبلی میں خطاب کرتے ہیں تو وہ فرعون کے اژدھوں کو اپنے اعصاء سے یوں ہڑپ کرتے ہیں کہ وقت کے فرعون دھنگ رہ جاتے ہیں۔”بقول ذوالفقار علی بھٹو؛ ” سردار مینگل بات نہیں کرتے بلکہ پیشانی پر لاٹھی مارتے ہیں۔”بقول سندھ کے دانشور حمیدہ کھوڑو؛ ” کہ سندھ کو ایک عطاء اللہ مینگل کی ضرورت ہے۔”مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے فروری 1973ء میں بلوچستان میں نیپ کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو برطرف کر کے وزیراعلیٰ سردار مینگل اور گورنر بزنجو کے علاوہ دیگر سینئر سیاست دانوں، دانشوروں اور ادیبوں کو نام نہاد حیدرآباد سازش کیس کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔سردار عطاء اللہ مینگل کو اسٹیبلشمنٹ کے زیادتیوں کے ساتھ ساتھ دوسری طرف جھالاوان میں قبائلی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا تھا اور ان کی سیاست روز اول سے مظلوم و محکوم عوام و مقتدر اعلی کے غلط پالیسیوں کے خلاف تھی۔ دوسری طرف یقیناً یہ کسی کمال و مہارت سے کم نہیں کہ بلوچستان کا انتہائی جری قبیلہ ہو اور جھالاوان جیسے قبائلی علاقے میں رہنے کے بعد اس قبیع عمل سے محفوظ رہے۔70 سالوں پر محیط سیاسی سفر کرب انگیز، مشکلات، مصائب و تکالیف سے بھرپور، درد و الم پر مبنی، اخیر عمر تک اپنے جواں سال بیٹے کے اغوا، لاش و قبر کے بارے میں بے خبر دلیر باپ، مضبوط اعصاب کے مالک اور اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کے بعد اصولوں کو اقتدار سے بلند سمجھا۔ انہوں نے کبھی بھی موقع پرستی کو سیاست کا لازمی جز نہیں سمجھا۔ ان کی بلوچستان کے حقوق اور جمہوریت کے لئے طویل جدوجہد ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔
سردار صاحب جس بلوچستان کے لئے آپ نے اپنے ہم عصروں کے ساتھ جدوجہد کی اور جس بلوچستان کا خواب آپ نے دیکھا تھا وہ وہی 1962 ،1972، 1980 اور 2006 کی طرح مظالم کی چکی میں پس رہا ہے، بوڑھے اور ضعیف والدین کا خالی اور کھوئی آنکھوں سے اپنے نور نظر لخت جگر کا انتظار کررہے ہیں۔ مائیں، بہنیں،بیٹیاں اور معصوم بچے پریس کلبوں کے سامنے سراپا احتجاج ہیں۔ خونی شاہراہوں پر ہائے روز حادثات ہو رہے ہیں۔ جبکہ ماہی گیر سمندر میں ماہی گیری نہیں کر سکتے۔ ساحل وسائل اور سیندک و ریکوڈک کو بیچنے میں ہر کوئی سفید و سیاہ سرگرم ہیں۔ ہر طرف مفادات مراعات اور وزارتوں کی سیاست، لوٹ کھسوٹ و کرپشن کا بازار گرم، نظریاتی و سیاسی ورکروں پر ٹھیکیداروں اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری جاری و ساری ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کا پڑھایا ہوا ہمت، دیانت، سخاوت اور حقیقی سیاست کا سبق ہم بھول گئے ہیں۔ایک درسگاہ اور ادارے کی مانند سردار عطاء اللہ مینگل کے بغیر بلوچ تاریخ ادھوری سمجھی جائے گی اور آج ہی کے دن بلوچستان ہمیشہ کے لئے ایک زیرک سرخیل اور عظیم المرتب شخصیت سے محروم ہونے کے بعد یہ خلاء صدیوں تک پورا نہیں کیا ہو سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں