بلوچستان کی دگرگوں معیشت، اس کے محرکات اور سیاسی حکمت عملیوں کا فقدان

تحریر: محمد صدیق کھیتران
دستور پاکستان کے آرٹیکل 158 کے تحت تیل اور گیس جس صوبے میں بھی دریافت ہو سب سے پہلی ترجیح اس صوبے کو حاصل ہے۔ 1952ءمیں قدرتی گیس سوئی میں دریافت ہوئی۔تو اس وقت مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ تھی۔ 2001ءتک گیس کی یومیہ پیداوار 387،368 ملین میٹرک مکعب فٹ تک بڑھا دی گئی۔ اس کے باوجود بلوچستان کے 36 اضلاع میں سے 22 اضلاع کو آج تک گیس نہیں مل سکی۔ اس حساب سے بلوچستان کی 60 فیصد آبادی اب بھی گیس سے محروم ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب کی 97 فیصد آبادی گیس سے مستفید ہورہی ہے۔ دوسری بڑی ناانصافی گیس کے محصول کے حساب و کتاب میں کی گئی۔ شروع دن سے بلوچستان کو کنوئیں پر خود ساختہ نرخ پر 12.5 فیصد رائلٹی کے نام سے فکس 8 کروڑ کی گرانٹ دی جاتی رہی حالانکہ ویرئبل کاسٹ variable factors پر عام صارف کا ماہوار گیس بنتا ہے۔ یہ تناسب صارفین کو بیچے جانے والے نرخ پر بنتا تھا۔جب ملک کے دیگر حصوں میں گیس دریافت ہوئی۔تب پھر یہ ریٹ نئے فارمولے کے مطابق بنا۔مثلاً سندھ سے نکلنے والی گیس کا نرخ 142.57 روپے، پنجاب کا 162.93 اور سب سے کم بلوچستان کا 66.34 روپے فی mmbtu (ملین میٹرک مکعب برٹش تھرمل یونٹ) مقرر ہوا۔ ریٹ میں کمی کو 1953 کے صوبے کی فی کس آمدنی کے ریٹ پر نکالا گیا جو کہ سب سے غریب صوبہ ہونے کے ناطے کم بنتا تھا۔ ہماری فی کس غربت کو بھی باقی شہری پاکستان کو سستی گیس مہیا کرنے کا جواز بنایا گیا۔ کیا زبردست منطق ہے دنیا کے غریب ترین صوبے سے گیس لو تو اس کی قیمت سب سے سستی اور واپسی ڈسٹریبیوشن پائپ کے اندر مکس پنجاب کی گیس قیمت دوگنا زیادہ ہوجائے۔ 1991ءمیں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اوررائلٹی کا 12.5 فیصد جاکر کہیں قبول ہوا۔ اس حساب سے غریب صوبے کی 39 سال تک گیس امیر صوبوں کی خوشحالی کیلئے بطور سبسڈی استعمال کی گئی۔ ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق 1964ءسے لیکر 2014ءتک وفاق 7.69 ارب روپے گیس کی مد میں لے اڑا جو کہ منافع سمیت اب بھی قابل واپسی معاوضہ بنتا ہے۔ آج 24 کروڑ کی آبادی کو بلوچستان ملکی گیس کی ضرورت کا 17 فیصد اپنی چار گیس فیلڈوں سے مہیا کررہا ہے جبکہ اس کی اپنی مقامی ضرورت اس پیداوار کا محض 25 فیصد ہے۔ پنجاب کی اپنی گیس کی پیداوار mmcf 68608 ہے جبکہ اس کی ضرورت 638008 ملین مکعب میٹرک فٹ ہے۔ یعنی وہ اپنی ضرورت کا 930 فیصد باقی ملک کے ذخائر سے پورا کرتا ہے۔
1974ءکی پی پی ایل کی ایک رپورٹ کے مطابق 19،094 mmcf صرف تین فرٹیلائیزیشن کے کارخانوں داﺅد ہرکولیس لاہور، فرٹیلائیزر فیکٹری ملتان اور پاک عرب فرٹیلائزر داﺅد خیل کو دی جارہی ہے، جس سے 200 ملین ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ کھاد نہ منگوانے کے باعث بچ جاتا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق واپڈا 7500 ملین مکعب فٹ بجلی بنانے کیلئے سالانہ پی پی ایل سے الگ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ گیس کے کل 214،000 کنکشنز میں سے 2400 انڈسٹریل کنکشنز ہیں۔ پی پی ایل اپنے جریدے میں رپورٹ کرتا ہے 1974ءسے توانائی اور کیمیکل مصنوعات کی پیداوار پر پی پی پی ایل 2000 ملین روپے سالانہ کے حساب سے درکار فرنس آئل اور کیمیکل کھاد کا زرمبادلہ بچاتی ہے۔ جب قوم پرست شور مچاتے تھے کہ وفاقی حکومت سالانہ 8 کروڑ روپے گیس کی مد میں حکومت بلوچستان کو جو کچھ دیتی ہے وہ تو گیس کی مدد سے زرمبادلہ بچانے کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔ اسی آواز کو دبانے کیلئے نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو ذوالفقار علی بھٹو نے 10 ماہ کے اندر اندر برخواست کردیا تھا۔ وہی سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں پنجاب نے اپنے صوبے میں ٹرانسپو رٹ گیس پر چلانے کیلئے مزید 2164 سی این جی پمپ شاہراہوں پر کھول دیے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ ریٹ سے 13 فیصد قیمت پرفرٹیلائیزیشن کے 3 کارخانوں سمیت ،کیپسٹی پیمنٹ پر 47 آئی پی پیز تھرمل بجلی گھروں کو گیس دے دی۔ انہی میں سے گیس سے چلنے والا 900 میگاواٹ کا بجلی گھر” اوچ” نصیرآباد میں لگایا گیا جس سے بلوچستان کی گیس کی کھپت 25 فیصد ہوگئی۔
بلوچستان کی بجلی کی ضرورت 1800 میگاواٹ ہے مگر انرجی مکس سے صرف 650 میگاواٹ بجلی دی جاتی ہے۔پنجاب اپنی اضافی گیس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے قطر سے سالانہ 3 ارب ڈالر کی ایل این جی منگواتا ہے۔جس کی وجہ سے بلوچستان کو اضافی گیس ہونے کے باوجود مجبورا” مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سستی گیس سے بننے والی 900 میگاواٹ بجلی، پنجاب کے کیپیسٹی پیمنٹ کے 47 آئی پی پی پیز کی مہنگی بجلی خریدنے کی سزا بلوچستان والوں کوالگ دی جاتی ہے۔ آجکل کیسکو نے صوبہ بھر میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ پہلے ہی صوبہ کی 72 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
صوبے میں کل ملا کر 85 ملین ایکڑ بنجر زمین پڑی ہے، جس میں سے 3.3 ملین ایکڑ زیر کاشت ہے۔ اس میں سے ایک لاکھ ایکڑ ٹیوب ویلز کے ذریعے آباد کی جارہی ہے۔ کیسکو نے فصل پکنے کے عین وقت کریک ڈاﺅن شروع کر رکھا ہے۔ کھڑی فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ بجلی کے کنکشن کاٹے جارہے ہیں۔ ٹرانسفارمر اٹھائے جارہے ہیں۔ پکڑ دھکڑ کے علاوہ بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں۔ آرٹیکل 158 کے تحت سستی گیس اور اس سے پیدا ہونے والی سستی بجلی، بلوچستان کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ زراعت کا صوبے کی جی ڈی پی پی میں 34 فیصد حصہ ہے جبکہ صوبے کی 61 فیصد افرادی قوت کا دارومدار اس شعبے پر ہے۔ سستی گیس اور بجلی ہوگی تو اتنی زیادہ سرمایہ کاری ہوگی۔ صوبے کی سیاسی جماعتوں کو اس طرف مشترک لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔
نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے مطابق 82 فیصد محاصل آبادی پر 10.3 فیصد غربت پر، 5 فیصد ریونیو جنریشن اور 2.7 فیصد کم آبادی کے متبادل منافع کے طور پر تقسیم ہوتے ہیں۔ این ایف سی کا ساتواں ایوارڈ 2009ءمیں ہوا۔ دستور کے مطابق آٹھواں ایوراڈ 2015ءمیں ہونا تھا مگر مسلم لیگ نواز کی حکومت نے کمیشن کا اجلاس بلانے کے بجائے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ساتویں ایوارڈ کی مدت کو اگلے پانچ سال کیلئے بڑھا دیا۔ ساتویں ایوارڈ میں بلوچستان کی غربت کے اعداد 1998ءوالے اپنائے گئے حالانکہ شورش کی وجہ سے 2009ءمیں بلوچستان میں غربت مزید بڑھ گئی ہے۔ آٹھویں ایوارڈ میں بھی غربت کے اعداد شمار 20 سال پرانے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ یواین ڈی کی رپورٹ کے مطابق آج غربت72.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اعداد کے ہیر پھیر کی وجہ سے صرف اس مد میں سالانہ 28 ارب روپے کا صوبے کو نقصان ہورہا ہے۔ اتنی بڑی رقم سے 10 لاکھ بچے پرائمری اسکولوں میں لائے جاسکتے ہیں۔ کوئی 4500 پرائمری اسکول کے اساتذہ بھرتی ہوسکتے ہیں۔ 7000 پرائمری اسکول بنائے جاسکتے ہیں۔ اس سال مردم شماری ہوئی جس میں بلوچستان کی آبادی سے 68 لاکھ افراد نکال دیے گئے۔ پنجاب کے پاس مناسب موقع تھا وہ این ایف سی کی کم آبادی والی متبادل منافع یعنی 2.7 فیصد کی اسٹریم سے فائدہ اٹھا سکتا تھا مگر اس نے ضروری سمجھا کہ بلوچستان کی 68 لاکھ آبادی کو وسائل کے 82 فیصد فارمولے سے ہی حصہ نہ دیا جائے۔
دستور پاکستان کے ایک اور آرٹیکل 172 کے مطابق تیل اور گیس کے علاوہ تمام معدنیات پر صوبوں کا اختیار ہے۔مگر سیندک اور ریکوڈک کے کاپر اور سونے کی کانوں کے معاہدات اور ان کی تجدیدات مرکزی حکومت خود ہی کرتی ہے جس کی معلومات کو بھی خفیہ رکھا جاتا ہے۔اس بنیادی اختلاف کے باوجود سال 2023ءمیں سب سے بڑی سرمایہ کاری ریکوڈک کے منصوبے پر 7 ارب ڈالر رپورٹ ہوئی ہے۔ دوسرا فرنس آئل اور کیمیکل فرٹیلائیزیشن پر جو زرمبادلہ کی سیونگ ہوتی ہے وہ اربوب ڈالروں میں ہے اس کو ریونیو جنریشن کی مد میں شمار کرکے اس کا حصہ دیا جائے۔ صوبے کو این ایف سی کے 5 فیصد اضافی ریونیو جنریشن کے حصے پر ان معاملات پر بات رکھنی چاہیے۔ مزید یہ کہ نگراں حکومت نجکاری خاص کر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے 51 فیصد حصص مع انتظامیہ فروخت کرنے پر کام کررہی ہے، اس کو اس نجکاری پر صوبے کی تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
فشریز بلوچستان کا تیسرا بڑا آمدنی کا وسیلہ ہے جس سے 15 لاکھ آبادی کا روزگار وابستہ ہے۔
حکومت بلوچستان کے مجریہ ایکٹ Balochistan Sea Fisheries (Amendment) Act ,1986۔) کے مطابق سمندر کے کنارے سے 22 کلو میٹر تک ماہی گیری کا دائرہ اختیار صوبے کے پاس ہے۔ ملک کی دو تہائی ساحل کی 750 کلومیٹر پٹی اس کی ملکیت ہے مگر اس پر ماہی گیری کے لائسنس مرکزی حکومت غیر ملکی ٹرالروں کو بھاری رشوت کے عوض دے دیتی ہے، جو بھاری فولادی جال استعمال کرکے ساحل کی مچھلی کی نسل کشی کرتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2008ءکی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان سالانہ 50 ارب ڈالر کی ماہی گیری کا پوٹینشل رکھتا ہے۔ صوبے کا 2023/24ءکا بجٹ 702 ارب روپے تھا جو امریکی ڈالرز میں صرف 2.34 ارب بنتا ہے۔ اس حساب سے اس ایک سیکٹر سے سالانہ 20 بجٹ کی آمدنی پیدا کی جاسکتی ہے۔
ڈرین اسمون اور جیمز اے رابنسن نے اپنی مشہور تصنیف ”قومیں کیوں ناکام ہوتی ہیں“ میں بجا فرمایا ہے کہ ملکوں کی ترقی میں عدم برابری کے پیچھے جغرافیہ اور ماحول کے ساتھ ساتھ کمزور سیاسی فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ کہ سیاسی جماعتیں، ادارے اور کمزور پالیساں ہونے کی وجہ سے معاشروں کی نشوونما رک جاتی ہے۔ مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتیں، اسمبلی ممبران اس وجہ سے کبھی انتخابات نہیں ہارتے کہ انہوں نے اپنے دور میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت عامہ کے بجائے قومی سرمایہ اپنی ذات اور غیر پیداواری اخراجات پر کیوں ضائع کیا ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں