یوان بالا کابلوچستان میں امن وامان کی بگڑتی صورت حال پر اظہار تشویش، افغان مہاجرین کی پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اراکین نے بلوچستان میں آمن و آمان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے،اراکین نے افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران بلوچستان میں آمن و آمان کی موجود ہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہوئے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہاکہ ملک میں اور خصوصاً بلوچستان میں آمن وآمان کی صورتحال بہت خراب ہے جبکہ پہلے بلوچستان میں دیگر صوبوں کی نسبت آمن وآمان کی صورتحال بہت بہتر تھی مگر مشرف نے بلوچستان کے بارے میں جارحانہ پالیسی اختیار کی انہوں نے کہاکہ نواب اکبر بگتی تمام معاملات کو بات چیت کے زریعے حل کر نا چاہتے تھے مگر دوسری جانب جنرل صاحب بلوچوں کو سبق سکھانے کے لیے زیادہ بیتاب دکھائی دیئے اوربلوچستان میں جنرل مشرف کی لگائی گئی آگ آج تک بجھائی نہ جاسکی انہوں نے کہاکہ 15فروری 1973کو بلوچستان کی ننتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد فوجی اپریشن شروع کیا گیا اور نیپ کے لیڈروں پر غداری کے مقدمات چلائے گئے تو میر بزنجو نے جیل سے ہی اپنے چند مشترکہ دوستوں کی مدد سے اس وقت ے وزیر اعظم کو یہ پیغام بھجوایا کہ طاقت کا استعمال بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے آپ ہمارے ساتھ بات چیت کریں اورآج بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ طاقت کا استعمال بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ ہموار کریںانہوں نے کہاکہ بلوچستان ایک منفرد جغرافیہ رکھتا ہے اور قدرتی دولت سے مالا مال علاقہ ہے انہوں نے کہاکہ بہت سے ممالک بلوچستان میں دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ایک بڑے لیڈر نے کہا تھا کہ بلوچستان کی مثال ایک حسین اور خوبصورت دوشیزہ کی ہے اور ہر ایک اس کا رشتہ حاصل کرنے کےلئے بے تاب نظر آتا ہے انہوں نے کہاکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے کبھی بھی عوام کے جذبات کی ترجمانی اور ملک کے مفادات کی عکاسی نہیں کی انہوںنے کہاکہ پاکستان ہمیشہ امریکی پراکسی وار کا حصہ رہا اور بڑی طاقتوں کے جھگڑوں کا حصہ بنے رہے انہوں نے کہاکہ جب خطے میں کسی کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو کیا وہ پھول بھیجی گے انہوں نے کہاکہ ملک میں آمن لانے کےلئے ضروری ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کئے جائیں انہوں نے کہاکہ بھارت اور ایران تو دور آج تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ طالبات جن کی ہم سب سے زیادہ مدد کرتے تھے آج پاکستان سے ناراض ہیں انہوںنے کہاکہ یہ خارجہ پارلیسی پاکستان کے عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا ہے یہ ضیائ الحق اور مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل ہے ایسی خارجہ پالیسی بنائیں جو عوام کے جذبات کی عکاسی کرتی ہو سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے کہاکہ موجودہ حالات میں امن وامان کا مسئلہ ہے انہوںنے کہاکہ اشرف غنی کی حکومت کو ہٹایا گیا تو کوئی حملہ یا قتل و غارت نہیں ہوا ہمارے لوگ وہاں گئے اور ان کے ساتھ چائے بسکٹ کھائے اور طالبان کے ساتھ صلح کی انہوں نے کہاکہ ملک میں تارکین وطن جو غیر قانونی ہے انکو نکالا جائے لیکن جو قانوں کے مطابق رہ رہے ہیں انکو ملک سے نہ نکالا جائے انہوں نے کہاکہ ہمیں فلسطین پہ ہونے والے ظلم ر بھی آواز اٹھانی چاہیے ہم نے قراداد پیش کر دی اور کچھ نہیں کیا سینٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ آج بلوچستان سراپا احتجاج ہے وہاں کے لوگوں کو صاف پانی نہیں ملتا ہے انہوں نے کہاکہ گندم کی فصل کا ٹائم ہے مگر پانی نہیں ہے یہ معاشی قتل ہے بلوچستان کی ترقی اور استحکام کا سوچا نہیں جاتا ہے سینیٹر سردار شفیق ترین نے کہاکہ گذشتہ18 روز سے چمن کے بارڈر پر وہاں کے لوگوں نے دھرنا دیا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ چمن بارڈر پر ہر دن 30 ہزار بندہ آتا جاتا ہے اس کے لئے پاسپورٹ لازمی قرار دیا گیا ہے یہ فیصلے عجلت میں کئے جا رہے ہیں انہوں ے کہاکہ چمن بارڈر پرلوگ روزانہ ادھر سے ادھر جاتے ہیں۔


