پشتون پاکستان سے پہلے اور اب تک افغانستان پاسپورٹ اور ویزہ پر نہیں گئے اور آئندہ بھی نہیں جائیں گے، اصغر اچکزئی

چمن (آن لائن) پشتون قوم پرست اور ملت پال سیاسی پارٹیوں عوامی نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے اعلان کردہ آج کےاحتجاج کے سلسلے میں چمن میں اصغرخان اچکزئی کی قیادت میں عظیم الشان جلوس کی چمن پرلت میں شرکت ، اصغرخان اچکزئی اور دیگر رہنماں نے چمن پرلت کے شرکاسے مکمل یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد اب تک پشتون افغان کبھی ایک دوسرے سے ملنے کے لئے پاسپورٹ اور ویزہ لے کر نہیں گئے ، پشتون افغان اولس پر روزگار اور ترقی کے راستے بند کرنے کی بجائے راستے کھولے جائیں ، افغان کڈوال کے ساتھ توہین آمیز سلوک ، تاریخی ڈیورنڈ لائن پر پاسپورٹ سسٹم اور دیگر مسائل کے خلاف پشتون قوم پرست اور ملت پال سیاسی پارٹیاں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اگر دھرنے کے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو قوم پرست جماعتیں احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہوں گی ۔ ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی نے چمن پرلت (دھرنے) سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پشتون ملت پال اور قوم پرست سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی کال پر پورے صوبے میں احتجاج کے بعد چمن میں گزشتہ روز اصغرخان اچکزئی کی قیادت میں باچاخان مرکزسے عظیم الشان جلوس نکالاگیا جس کے شرکاپرامن مارچ کرتے ہوئے دھرنے میں پہنچے ۔ پرلت پہنچنے پر اصغرخان اچکزئی اور جلوس کے شرکاکا پرتپاک استقبال کیاگیا ۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نے پشتون افغان کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا مظالم اور طرز سلوک کے خلاف پورے صوبے میں احتجاج کی کال دی تھی اور اس سلسلے میں تمام اضلاع میں احتجاج کیاگیا آج ہم اسی سلسلے میں دھرنے کے شرکاسے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں اور پالیسی سازوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پشتون افغان دشمن پالیسی ترک کردیں اگر دھرنے کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے اور دھرنا طوالت کا شکار ہوتا ہے تو مجبور ا ہم ملت پال قوم پرست جماعتوں کا غیور پشتون کے ساتھ مل کر سخت احتجاجی لائحہ عمل اپنانے پر مجبور ہونگے ۔ انہوںنے کہا کہ پشتونوں کے خلاف آئے روز نت نئی سازشیں کی جاتی ہے ہمارے بچے تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں روزگار کا حق تک چھینا جارہا ہے اور اب تو یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ پشتون افغان جو آج سے نہیں صدیوں سے ہر دور میں آزادانہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے آئے ہیں انہیں کہا جارہا ہے کہ آپ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے پاسپورٹ اور ویزالیں حالانکہ پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد اب تک پشتون افغان کبھی ایک دوسرے سے ملنے کے لئے پاسپورٹ اور ویزا لے کر نہیں گئے بلکہ شناختی کارڈ اور تذکرہ پر آتے جاتے رہے ہیں ۔ہمیں بتایا جائے کہ کیوں ایسا سلوک کیاجارہا ہے چالیس سال کی مہما ن نوازی کی باتیں کرتے کرتے کیا مصیبت آگئی کہ ایک دم سے افغان کڈوال کو توہین آمیز تضحیک کے ساتھ بے سروسامانی کی حالات میں بھیجا جارہا ہے انہوںنے کہا کہ بجائے اس کے کہ روزگار کے مواقع دیئے جائیں الٹا روزگار کے مواقع چھینے جارہے ہیں ہم واضح کرنا چاہتے ہیںکہ رشتے ختم کرنے کی بجائے رشتے جوڑے جائیں چمن پرلت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور افغان کڈوال کے ساتھ توہین آمیز سلوک کے خلاف ہم نے پورے صوبے میں احتجاج کیا اور ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائی اب بھی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر یہ مسئلہ جلد سے جلد حل نہیں ہوتا تو ہم بیٹھ کر سخت لائحہ عمل اپنانے پر مجبور ہوں گے۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر عبدالخالق حقمل ، صلاح الدین وطنیار ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز اعظم خان اچکزئی ، حیات خان اچکزئی سمیت اے این پی ، پشتونخوا میپ اور این ڈی ایم کے ضلعی رہنمااور کارکنوں کی بڑی تعداد احتجاجی جلوس اور پرلت میں اظہار یکجہتی کے لئے موقع پر ان کے ہمراہ تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں