گیند ساستدانوں کے کورٹ میں ہے
یہ سوال یا بحث کہ پاکستان میں حکمرانی کی سند کون عطا کر تا ہے؟اہمیت کے باوجود موجودہ حالات میں بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج پارلیمنٹ میں اس قد کاٹھ کے سیاستدان نظر نہیں آتے جواس بحث کو کسی نتیجہ خیز مقام تک لے جا سکیں۔یہ معاملہ کوٹ اتارنے اور آستینیں چڑھا کر ایک دوسرے کو دعوتِ مبارزت دینے والوں کی فہم و فراست سے کہیں بلند و بالا ہے۔ان کی اکثریت تو روز مرہ کے مسائل پر بھی سنجیدہ گفتگو نہیں کر سکتی۔سب پر اپنے قائد کو اس صدی کا عظیم ترین لیڈر ثابت کرنے کی دھن سوار ہے حکومت اور اس کے اتحادی دل کی گہرائیوں سے یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن نے اس ملک کو لوٹ مار کے ذریعے معاشی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے اور اپوزیشن نام لے کر سمجھانے میں مصروف ہے کہ اصل چور تو آپ (وزیراعظم)کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور اپوزیشن کے دعوے میں صداقت ہے، ورنہ جہانگیر ترین لندن میں صحافیوں سے منہ چھپائے نہ پھرتے۔توانائی کے مشیر ندیم بابر سے ان کے نجی ٹی وی چینل پر کئے گئے بعض اعترافات کے فوراً بعد عہدہ واپس نہ لیا جاتا۔اس میں شک نہیں کہ ملک میں ایک بے رحم احتساب کی اشد ضرورت ہے مگر یہ احتساب یکطرفہ نہیں ہونا چاہیئے۔ورنہ یہ نتیجہ خیز نہیں ہوگا،عوام میں مایوسی پھیلے گی جو آگے چل کر انارکی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔خطے میں انتہائی خاموشی سے بعض بڑے اور ناقابل تصور خطرات ابھر رہے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنی آنکھیں اور زبان بند کر رکھی ہے۔عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سے آگے کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایسے کوتاہ نظر سیاست دانوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ عوام کو ان کی مشکلات سے نجات دلائیں گے۔
پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اقتدار کی 40فیصد مدت ختم کرنے والی ہے۔دو سال کم نہیں ہوتے۔ابھی تک لاکھوں مکانات کی تعمیر کے حوالے سے زمین پر ایک اینٹ نہیں رکھی گئی۔وزیر ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ بشیر چیمہ کل تک چاروں صوبوں میں پرجوش انداز میں عوام کو یقین دلارہے تھے آج کابینہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرتے۔مایوس ہیں لیکن ان کی یہ خاموشی کچھ کہنے سے زیادہ طاقت ور پیغام دے رہی ہے۔ عام آدمی سمجھ رہا ہے پسِ دیوار سرگوشیاں شروع ہوگئی ہیں۔ممکن ہے آسمانوں پر مشورے بھی ہو رہے ہوں لیکن ہمارے سیاستدان ادھر دیکھنے کو تیار نہیں یا سکت ہی نہیں رکھتے؟ انہیں یاد ہی نہیں کہ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والے کبوتر کی جان نہیں بچتی۔بلی اپنے عزائم پورے کرتی ہے۔بلدیاتی انتخابات،اگر منعقد ہوگئے ملکی سیاست پر فیصلہ کن اثرات مرتب کریں گے۔ بلدیاتی انتخابات جمہوری حکمرانوں کو کبھی اچھے نہیں لگے بچہ بچہ اس حقیقت سے واقف ہے۔اب کہ پی ٹی آئی اعلان کر رہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی جائے اس سے توقع کی جانی چاہیئے انتخابات سیاسی طور پر ضروری ہو گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سمجھتی ہے کہ اسے خیبر پختونخوا میں ملنے والی کامیابی بلدیاتی کارکردگی کا ثمر ہے۔اور یہ خیال کافی حد تک درست ہے۔ بلکہ یہ کہنا نامناسب نہیں ہوگا کہ وفاقی حکومت بھی اسی کارکردگی کا غیر متوقع پھل ہے جو حالات کی تیز آندھی نے اس کی گود میں لا ڈالا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت کو یقین نہیں تھا کہ وفاقی حکومت مل جائے گی ورنہ اس کے لئے تھوڑا بہت ہوم ورک ضرور کرتی۔اس کی کارکردگی اس قدر خراب نہ ہوتی کہ اپنے اراکین پارلیمنٹ بھی کھلے عام شکایتیں کرتے نظر آتے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کوپی ٹی آئی کے12ناراض اراکین کو منا کروزیر اعظم کے عشائیہ میں لانے کا ٹاسک نہ سونپا جاتا۔امریکا میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا مشکوک فیصلہ واپس لینے کی نوبت نہ آتی۔ وزیر اعظم عمران خان کو ایوان میں آکر یہ وضاحت پیش کرناکہ وہ کرسی کی مضبوطی پر یقین نہیں رکھتے یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے جسے جب چاہے دیتا ہے اورہمیشہ رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے باقی سب آج ہیں کل نہیں ہوں اور مائنس ون پر آمادگی کا اظہار بلا وجہ نہیں۔
سیاست کبھی ایک مقام پر پڑاؤ نہیں ڈالتی ہر وقت متحرک اور فعال رہتی ہے۔کورونا نے نقل و حرکت پر پہرے بٹھا دیئے ہیں لیکن امریکی انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔عوامی موڈ یہی اشارا دے رہا ہے کہ اگلے امریکی صدر جو بائیڈن ہوں گے۔اس حوالے سے اسرائیل کی یروشلم سے پسپائی بھی معنی خیز ہے۔جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں مگر اسرائیل کو یہ یقین بھی دلا یا تھا کہ جیت گئے تو اس فیصلے کو ختم نہیں کریں گے۔اسرائیل نے بھانپ لیا ہے کہ یروشلم کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ قابل عمل نہیں بدلتے ہوئے حالات میں پسپا ہونے میں فائدہ ہے۔پاکستان میں بھی سیاست کچھوے کی طرح اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، سیاستدان اگر خرگوش کی طرح سونے کی کوشش کریں گے تو منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔خطے میں رونما ہونے والے واقعات ہر دم چوکنا رہنے کے متقاضی ہیں۔پاکستانی سیاست دان اپنی ناک سے آگے نہ دیکھنے والی ضد چھوڑیں،عالمی سطح پر جغرافیائی تبدیلیاں اپنا وجود منوانے کی خفیہ کشمکش کو اعلانیہ روپ دینے کے لئے بے قرار ہیں۔چین نے ثابت کر دیا ہے کہ ایل اے سی عبور کرنے کے لئے آتشیں اسلحہ لازمی شرط نہیں،مکوں، لاتوں اور ڈنڈوں سے کام لیا جا سکتا ہے۔1945میں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر کرائے گئے ایٹم بموں نے جو تاریخ رقم کرنا تھی مکمل ہو چکی اب نئی تاریخ لکھنے کا آغاز ہو چکا ہے جغگیند ساستدانوں کے کورٹ میں ہے
یہ سوال یا بحث کہ پاکستان میں حکمرانی کی سند کون عطا کر تا ہے؟اہمیت کے باوجود موجودہ حالات میں بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج پارلیمنٹ میں اس قد کاٹھ کے سیاستدان نظر نہیں آتے جواس بحث کو کسی نتیجہ خیز مقام تک لے جا سکیں۔یہ معاملہ کوٹ اتارنے اور آستینیں چڑھا کر ایک دوسرے کو دعوتِ مبارزت دینے والوں کی فہم و فراست سے کہیں بلند و بالا ہے۔ان کی اکثریت تو روز مرہ کے مسائل پر بھی سنجیدہ گفتگو نہیں کر سکتی۔سب پر اپنے قائد کو اس صدی کا عظیم ترین لیڈر ثابت کرنے کی دھن سوار ہے حکومت اور اس کے اتحادی دل کی گہرائیوں سے یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن نے اس ملک کو لوٹ مار کے ذریعے معاشی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے اور اپوزیشن نام لے کر سمجھانے میں مصروف ہے کہ اصل چور تو آپ (وزیراعظم)کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور اپوزیشن کے دعوے میں صداقت ہے، ورنہ جہانگیر ترین لندن میں صحافیوں سے منہ چھپائے نہ پھرتے۔توانائی کے مشیر ندیم بابر سے ان کے نجی ٹی وی چینل پر کئے گئے بعض اعترافات کے فوراً بعد عہدہ واپس نہ لیا جاتا۔اس میں شک نہیں کہ ملک میں ایک بے رحم احتساب کی اشد ضرورت ہے مگر یہ احتساب یکطرفہ نہیں ہونا چاہیئے۔ورنہ یہ نتیجہ خیز نہیں ہوگا،عوام میں مایوسی پھیلے گی جو آگے چل کر انارکی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔خطے میں انتہائی خاموشی سے بعض بڑے اور ناقابل تصور خطرات ابھر رہے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنی آنکھیں اور زبان بند کر رکھی ہے۔عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سے آگے کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایسے کوتاہ نظر سیاست دانوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ عوام کو ان کی مشکلات سے نجات دلائیں گے۔
پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اقتدار کی 40فیصد مدت ختم کرنے والی ہے۔دو سال کم نہیں ہوتے۔ابھی تک لاکھوں مکانات کی تعمیر کے حوالے سے زمین پر ایک اینٹ نہیں رکھی گئی۔وزیر ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ بشیر چیمہ کل تک چاروں صوبوں میں پرجوش انداز میں عوام کو یقین دلارہے تھے آج کابینہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرتے۔مایوس ہیں لیکن ان کی یہ خاموشی کچھ کہنے سے زیادہ طاقت ور پیغام دے رہی ہے۔ عام آدمی سمجھ رہا ہے پسِ دیوار سرگوشیاں شروع ہوگئی ہیں۔ممکن ہے آسمانوں پر مشورے بھی ہو رہے ہوں لیکن ہمارے سیاستدان ادھر دیکھنے کو تیار نہیں یا سکت ہی نہیں رکھتے؟ انہیں یاد ہی نہیں کہ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والے کبوتر کی جان نہیں بچتی۔بلی اپنے عزائم پورے کرتی ہے۔بلدیاتی انتخابات،اگر منعقد ہوگئے ملکی سیاست پر فیصلہ کن اثرات مرتب کریں گے۔ بلدیاتی انتخابات جمہوری حکمرانوں کو کبھی اچھے نہیں لگے بچہ بچہ اس حقیقت سے واقف ہے۔اب کہ پی ٹی آئی اعلان کر رہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی جائے اس سے توقع کی جانی چاہیئے انتخابات سیاسی طور پر ضروری ہو گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سمجھتی ہے کہ اسے خیبر پختونخوا میں ملنے والی کامیابی بلدیاتی کارکردگی کا ثمر ہے۔اور یہ خیال کافی حد تک درست ہے۔ بلکہ یہ کہنا نامناسب نہیں ہوگا کہ وفاقی حکومت بھی اسی کارکردگی کا غیر متوقع پھل ہے جو حالات کی تیز آندھی نے اس کی گود میں لا ڈالا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت کو یقین نہیں تھا کہ وفاقی حکومت مل جائے گی ورنہ اس کے لئے تھوڑا بہت ہوم ورک ضرور کرتی۔اس کی کارکردگی اس قدر خراب نہ ہوتی کہ اپنے اراکین پارلیمنٹ بھی کھلے عام شکایتیں کرتے نظر آتے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کوپی ٹی آئی کے12ناراض اراکین کو منا کروزیر اعظم کے عشائیہ میں لانے کا ٹاسک نہ سونپا جاتا۔امریکا میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا مشکوک فیصلہ واپس لینے کی نوبت نہ آتی۔ وزیر اعظم عمران خان کو ایوان میں آکر یہ وضاحت پیش کرناکہ وہ کرسی کی مضبوطی پر یقین نہیں رکھتے یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے جسے جب چاہے دیتا ہے اورہمیشہ رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے باقی سب آج ہیں کل نہیں ہوں اور مائنس ون پر آمادگی کا اظہار بلا وجہ نہیں۔
سیاست کبھی ایک مقام پر پڑاؤ نہیں ڈالتی ہر وقت متحرک اور فعال رہتی ہے۔کورونا نے نقل و حرکت پر پہرے بٹھا دیئے ہیں لیکن امریکی انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔عوامی موڈ یہی اشارا دے رہا ہے کہ اگلے امریکی صدر جو بائیڈن ہوں گے۔اس حوالے سے اسرائیل کی یروشلم سے پسپائی بھی معنی خیز ہے۔جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں مگر اسرائیل کو یہ یقین بھی دلا یا تھا کہ جیت گئے تو اس فیصلے کو ختم نہیں کریں گے۔اسرائیل نے بھانپ لیا ہے کہ یروشلم کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ قابل عمل نہیں بدلتے ہوئے حالات میں پسپا ہونے میں فائدہ ہے۔پاکستان میں بھی سیاست کچھوے کی طرح اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، سیاستدان اگر خرگوش کی طرح سونے کی کوشش کریں گے تو منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔خطے میں رونما ہونے والے واقعات ہر دم چوکنا رہنے کے متقاضی ہیں۔پاکستانی سیاست دان اپنی ناک سے آگے نہ دیکھنے والی ضد چھوڑیں،عالمی سطح پر جغرافیائی تبدیلیاں اپنا وجود منوانے کی خفیہ کشمکش کو اعلانیہ روپ دینے کے لئے بے قرار ہیں۔چین نے ثابت کر دیا ہے کہ ایل اے سی عبور کرنے کے لئے آتشیں اسلحہ لازمی شرط نہیں،مکوں، لاتوں اور ڈنڈوں سے کام لیا جا سکتا ہے۔1945میں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر کرائے گئے ایٹم بموں نے جو تاریخ رقم کرنا تھی مکمل ہو چکی اب نئی تاریخ لکھنے کا آغاز ہو چکا ہے جغرافیہ بھی تبدیلی کے اشارے دے رہا ہے۔ سیاست دان مانیں یا نہ مانیں!
Žافیہ بھی تبدیلی کے اشارے دے رہا ہے۔ سیاست دان مانیں یا نہ مانیں!


